سندھ اسمبلی پروانشل موٹر وہیکلز (ترمیمی) بل متفقہ طو ر پر منظور

  سندھ اسمبلی پروانشل موٹر وہیکلز (ترمیمی) بل متفقہ طو ر پر منظور

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی نے جمعہ کوپراونشل موٹر وہیکلز (ترمیمی) بل 2019  متفقہ طور پرمنظور کر لیا جس کے تحت سماعت سے محروم افراد بھی ڈرائیونگ لائسنس  حاصل کرسکیں گے۔ایسے افراد سے لائسنس فیس بھی وصول نہیں کی جائے گی اور خصوصی افراد سے ایسا ٹریفک پولیس افسر ڈارئیونگ ٹیسٹ لے گا جو خود بھی اشاروں کی زبان سمجھتا ہو سماعت سے محروم افراد کو ڈرائیونگ کرتے وقت گاڑی میں مخصوص شیشہ اور مخصوص ڈیوائس لگانا ہوگی جن کی مدد سے انہیں ہارن،ایمبولینس سائرن کے بارے میں پتہ چل سکے گا۔سندھ اسمبلی میں اس بل کی منظوری کے وقت سماعت سے محروم افراد اور ان کی تنظیم کے نمائندہ لوگ بھی موجود تھے۔ جمعہ کوا سندھ اسمبلی میں یک اورنئی تاریخ رقم کردی گئی،خصوصی افراد کے لئے اشاروں کی زبان میں بات کرنیوالی ایک خاتون کو ایوان میں آنے کی خصوصی طورپر اجازت دی گئی۔وزیر پارلیمانی امور مکیش چاولہ نے سائن لینگویج کے حامل فرد کو ایوان میں آنے کے لئے ایک تحریک پیش کی تھی جس کی ایوان میں موجود تمام ارکان نے حمایت کی، مہمانوں کی گیلری میں موجود خصوصی افراد نے تحریک پر شکریہ ادا کیا۔ اشاروں کی زبان میں بات کرنے کے لئے خاتون مہرین کو بلوایاگیا جو اسپیکر کی نشست کے ساتھ کھڑی ہوئیں اور انہوں نے  خصوصی افراد کوسندھ اسمبلی کارروائی  کے بارے میں شاروں کی زبان میں بتایا۔جب خصوصی افراد مہمانوں کی گیلری میں پہنچے توایوان میں موجود تمام ارکان نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔ وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاؤلہ کی درخواست پر وقفہ سوالات موخر کرکے ایوان کی کارروائی موخر کردی گئی،ان کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس میں صرف موٹر وہیکل بل پیش کیا جائیگا،ارکان نے کثرت رائے سے خصوصی افراد کے لئے موٹروہیکل ایکٹ ترمیمی بل ایوان میں پیش کرنے کی اجازت دیدی۔بل کے تحت سماعت سے محروم افراد کو بعض شرائط کے تحت ڈرائیونگ لائسنس جاری کئے جائیں گے۔ایسے افراد کو گاڑی میں مخصوص شیشے لگانے ہوں گے اور وہ اپنی گاڑیوں میں مخصوص ڈیوائس لگائیں گے۔خودکار ڈیوائس اور شیشے کے ذریعے سماعت سے محروم ڈرائیورز کو ہارن،ایمبولینس سائرن کے بارے میں خبر ہوسکے گی۔ہارن،سائرن پر سماعت سے محروم افراد کی گاڑی میں لائٹ سے اطلاع ملے گی۔خصوصی افراد کو پہلی مرتبہ ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا کیاجائے گا۔قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے تجویز پیش کی کہ بل پر بحث کے لیے چار پانچ دن مقرر ہونے چاہئیں۔ ایم کیو ایم کی رعنا انصار نے سماعت سے محروم افراد کے لیے بل پیش کرنے پر سندھ اسمبلی کو خراج تحسین پیش کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کی دوسری اسمبلیاں بھی سندھ اسمبلی سے سبق سیکھتی ہیں یہ ہمارا اعزاز ہے۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچو ہونے کہا کہ ہم اس تاریخی دن پر خصوصی افراد کو مبارک دیتے ہیں اور ہمارے لیے یہ اعزاز ہے۔انہوں نے کہا کہ سننے اور بولنے سے محروم افراد کو خاص اسٹیکرز دیئے جائیں گے، معاشرے کو ان افراد کا خیال رکھنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم اس شعبے پر کام کرنے والے مشیر قاسم نوید کو مبارکباد دیں گے جس نے اس قانون سازی پر کام کیا۔ قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ میری دو بیٹیاں نابینا ہیں خصوصی افراد کی تکلیف کا مجھے ادارک ہے،انہوں نے کہا کہ میری بیٹیاں پیدائشی نابینا نہیں تھیں وقت کے ساتھ ان کی بینائی جاتی رہی،ان کا کہنا تھا کہ میری بیٹیوں نے سی ایس ایس کا امتحان میں حصہ لیا۔دونوں نے کینیڈا میں بھی تعلیم حاصل کی ہے یہ گولڈمیڈلسٹ ہیں۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ خصوصی افراد محنت ہمت  کے پہاڑ ہیں،ان فراد سے ڈرائیونگ لائسنس فیس وصول نہ کی جائے،حکومت خصوصی افراد کی گاڑیوں کو خصوصی نشان الاٹ کرے۔ صوبائی وزیر شبیر بجارانی نے کہا کہ خصوصی افراد کو ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا سے انہیں دوسروں کی محتاجی نہیں رہے گی۔ترمیمی بل پر اظہارخیال کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی جاوید حنیف نے کہا کہ  میرے لئے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں اس اہم قانون سازی کا حصہ ہوں اور میری یہ رائے ہے کہ خصوصی افراد کو زندگی کی ہر سہولت ملنی چاہیئے۔صوبائی وزیر شہلا رضا نے کہاکہ  پیپلز پارٹی کی حکومت نے معاشرے کے تمام طبقات کے لئے کام کیا ہے خصوصی افراد بھی اس کا حصہ ہیں اسی لئے ان کے لئے  ایوان میں بل لایا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے شہزاد قریشی نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ خصوصی افراد کو معاشرے کا کار آمد شہری بنانے کے لئے مزید اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے ماطلبہ کیا کہ وفاقی وصوبائی حکومتیں خصوصی افراد کے لئے ملازمت کا کوٹہ بڑھائیں۔تمام نجی اداروں میں خصوصی افراد کو لازمی ملازمت دینے کا قانون بنایاجائے۔ ایم کیو ایم کی خاتون رکن منگلا شرما نے کہا کہ سندھ اسمبلی کی قانون سازی کے ذریعے خصوصی افراد کو قومی دھارے میں آنے کاموقع ملے گا۔پی ٹی آئی کی خاتون رکن ڈاکٹر سیما ضیاء  نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ خصوصی افراد کے ملازمت کے کوٹہ پر مکمل عمل کرایاجائے۔ بل پر شبیر قریشی، ہیر سوہو اور، خرم شیر زمان نے بھی اظہار خیال کیا ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو جب ڈرائیونگ لائسنس دیا جائے  تو ان کو خصوصی اسٹیکر بھی دیئے جائیں،ان افراد کو برابر کی اہمیت ملنی چاہیئے اور ان کو ملک کی خدمت کا موقع ملنا چاہیئے۔ایوان میں جب بل منظوری کے لئے پیش کیا گیا تو خصوصی افراد سے ڈرائیونگ لائسنس فیس وصول نہ کرنے سے متعلق ترمیم منظور کرلی گئی۔قائد حزب اختلاف کی جاب سے یہ ترمیم بھی پیش کی گئی کہ خصوصی افراد کا ڈرائیونگ لائسنس ٹیسٹ لینے والا فرد اشاروں کی زبان جانتاہوگاان کی یہ ترمیم اتفاق رائے سے منظور کرلی گئی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...