قومی اسمبلی، ڈپٹی سپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع، حکومت، اپوزیشن کی ایک دوسرے پر شدید تنقید، تلخ کلامی 

قومی اسمبلی، ڈپٹی سپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع، حکومت، اپوزیشن کی ایک ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) قومی اسمبلی اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید گرما گرمی ہوئی اور شور شرابا کیا گیا جس کے بعد حزب اختلاف نے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرادی۔اپوزیشن کی جانب سے استعفیٰ دو کے نعرے لگائے گئے،سپیکر اسد قیصر کی اراکین کو خاموش رہنے کی تنبیہ کرتے رہے۔سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں آزادی مارچ کے معاملے پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان خوب گرما گرم بحث ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کراتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں۔تحریک مرتضیٰ جاوید عباسی اورمحسن شاہنواز رانجھا نے جمع کرائی،ڈپٹی اسپیکرکیخلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس آرٹیکل 53 کی شق 7 کے پیرا ”ج“کے تحت جمع کرایا گیا۔نوٹس میں ڈپٹی اسپیکرکے خلاف آئین اور قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں،مختلف مواقع پر ڈپٹی اسپیکرکی طرف سے آئین اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے حوالہ جات دئیے گئے ہیں،نوٹس کے 7 دن بعد قرارداد کو کارروائی کیلئے قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل کردیا جائیگا۔ قراردا دمیں کہاگیاکہ ڈپٹی اسپیکر ارکان کا اعتماد کھو چکے ہیں، ڈپٹی اسپیکرنے قواعد کیخلاف ورزی کی ہے۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے اپوزیشن سے کہا کہ اگر آپ لوگ پاکستان کو بہتر بناتے تو عوام آپ کے ساتھ ہوتے، یہ تماشہ اب نہیں چلے گا، یہ ملک اب ایسے نہیں چلے گا، جمہوریت کی بات کرتے ہو تویہاں پارلیمنٹ میں بات کرو، دھرنے پہ بیٹھے رہو لیکن ملک کا نقصان نہ کرنا، مولانا صاحب کہتے ہیں ہم ٹائم پاس کررہے ہیں، اگر ہم بھی ٹائم پاس کریں تو تم لوگ کیا کرسکتے ہو۔پرویز خٹک نے اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن سے کہا کہ اگر آپ لوگ پاکستان کو بہتر بناتے تو عوام آپ کے ساتھ ہوتے، یہ تماشہ اب نہیں چلے گا، یہ ملک اب ایسے نہیں چلے گا، جمہوریت کی بات کرتے ہو تویہاں پارلیمنٹ میں بات کرو، انہوں نے مزیدکہاکہ کوئی ہمیں آرڈیننس جاری کرنے سے نہیں روک سکتا، کیا اپوزیشن نے آئین نہیں پڑھا؟ آئین میں آرڈیننس کی گنجائش موجود ہے،سن لو یار، ابھی تو بہت کچھ برداشت کرنا پڑیگا، دھرنے والے بیٹھے رہیں ملک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ مولانا صاحب کہتے ہیں ہم ٹائم پاس کررہے ہیں، اگر ہم ٹائم پاس کریں تو تم لوگ کیا کرسکتے ہو۔پرویز خٹک کی تقریر کے دور ان اپوزیشن اراکین کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی اس موقع پر پرویز خٹک کہتے رہے کہ یار سن لو!مگر اپوزیشن اراکین کی جانب سے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رہا۔ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے بارے میں کہا کہ وہ شخص جو 65 ہزار جعلی ووٹوں سے نااہل ہوا اس نے گزشتہ روز پارلیمان کی توہین کی،جیسے گزشتہ روز قانون سازی ہوئی، سارا ایوان شرمسار ہوا، پرویز خٹک میرا بھائی ہے لیکن 2014 کے دھرنے میں جو ٹھمکا انھوں نے لگایا وہ ہم نہیں لگا سکتے، پرویز الہی نے بھی تصدیق کی ہے کہ مذاکراتی کمیٹی اپوزیشن کے اصل مطالبات وزیراعظم تک نہیں پہنچارہی۔قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان نے شور شرابہ کیا۔خواجہ آصف نے حکومتی ارکان سے کہا کہ میں آپ جیسے نوزائیدہ لوگوں کی بات کا برا نہیں مناتا، آپ جیسے لوگ نیازی صاحب کو گالیاں پڑواتے ہیں، گزشتہ روز جناب اسپیکر جو آپ کی کرسی پر بیٹھا تھا اس نے بھی گالیاں پڑوائیں، اسمبلی میں آئین کی خلاف ورزی ہوئی، اگر ہمیں یہاں سے انصاف نہ ملا تو ساتھ والی عمارت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے، ہم اس امپائر کی انگلی کو نہیں دیکھتے جس کو نیازی صاحب دیکھ رہے تھے۔ ہمارا امپائر وہ ہے جو عدالت میں جج بیٹھاہے۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ہم ڈپٹی سپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد کا حق رکھتے ہیں، ہم حق رکھتے ہیں کہ صدر کے مو اخذے کی تحریک پیش کریں، الیکشن جلد ہونگے اور ہمارے مطالبہ پر ہونگے، آپ لوگوں کو وہ نہیں پتہ، جو ہمیں پتہ ہے، ہماری تلاشی لی جارہی ہے اورفارن فنڈنگ کی تلاشی پرآپ کی شلواریں گیلی ہورہی ہیں، پی ٹی آئی نے ہندوستانیوں سے پیسے لیے ہیں۔وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ خواجہ آصف نے امریکہ کو دعوت دی تھی کہ وہ پاکستان آ کر کارروائی کرے، انہوں نے امریکہ میں انٹرویو میں کہا کہ ہم لبرل اور عمران خان مذہبی انسان ہیں، (ن) لیگ کی قیادت کے اکثر لوگ بیرون ملک میں ویلڈر، مالی اور ڈرائیور بنے ہوئے تھے، خواجہ آصف وزیر خارجہ تھے تو یو اے ای میں اقامے پرملازمت بھی کرتے تھے، انہوں نے کہاکہ آپ نے اقامہ کیوں رکھا ہوا تھا؟اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ میں بطور سپیکر گارنٹی دیتا ہوں ناموس رسالت ؐ قانون میں تبدیلی نہیں ہوگی، اس حوالہ سے ایک لفظ بھی تبدیل نہیں کرینگے۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں وزارت داخلہ کی طرف سے پیش کئے گئے اعداد وشمار کے مطابق 2019 میں دہشت گردی کے واقعات گزشتہ چودہ سال میں کم ترین  رہے۔وزارت داخلہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی دستاویز میں بتایا گیاہے کہ نائن الیون کے بعد ملک میں 19 ہزار سے زائد دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔وزارت داخلہ کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ساڑھے 19 ہزار ہے۔رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات2010میں ہوئے جن کی تعداد 2 ہزار سے زائد تھی۔ سال 2008 ء میں سب سے زیادہ 2789 ہلاکتیں  ہوئیں۔وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں 197 دہشت گردانہ واقعات میں 166 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔سپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر 4 بجے تک ملتوی کردیا۔

قومی اسمبلی 

مزید : صفحہ اول


loading...