جلد لندن روانگی،ہار لے سٹریٹ کلینک کے ڈاکٹروں سے پیر کا ٹائم لے لیاگیا حکومت نے بھی نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا، معاملہ نیب کے سپرد، شہباز شریف اور جنید صفدر ساتھ جائیں گے

      جلد لندن روانگی،ہار لے سٹریٹ کلینک کے ڈاکٹروں سے پیر کا ٹائم لے لیاگیا ...

  



لاہور، اسلام آباد(جنرل رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے بیرون ملک علاج معالجے کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں، ذرائع کے مطابق اتوار کے روز ان کے لندن جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں ڈاکٹرز کا پینل تشکیل دیدیا گیا، پیر کا ٹائم بھی لے لیا گیا ہے۔ نواز شریف کا لندن پہنچتے ہی علاج شروع کر دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کے صاحبزادے حسن نواز نے لندن میں ڈاکٹرز سے ملاقات کی اور اپنے والد کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹس سے انھیں ا?گاہ کیا۔ اس کے علاوہ دل اور گردوں کے ماہرین سے ابتدائی مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔نواز شریف کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایئر ایمبولینس تیار کر لی گئی ہے۔ پرائیویٹ ایئر ایمبولینس 10 نومبر اتوار کی شام پاکستان پہنچے گی۔ نواز شریف کی چار مختلف ایئر لائنوں سے بکنگ بھی کرائی گئی ہے۔ شہباز شریف اور مریم نواز کے بیٹے ساتھ جائیں گے جبکہ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی ساتھ ہوں گے۔نوازشریف  کے ہمراہ شہبازشریف اور جنید صفدر ہونگے،نیب کیس کی وجہ سے مریم نوازاپنے والد نوازشریف کے ساتھ لندن نہیں جاسکیں گی۔پارٹی ذرائع کا کہناہے کہ شریف فیملی اور ڈاکٹر ز کے درمیان مشاورت ہورہی ہے کہ  ائیرایمبولینس کے ذ ریعے لندن منتقل کیا جائے یا پھرخصوصی طیارے سے۔قومی ائرلائن سے جانے کا معاملہ بھی زیر غورآیا۔تاہم ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ فضائی سفر کے دوران پلیٹ لیٹس کی کمی سے نواز شریف کے دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ڈاکٹرز کی رائے ہے کہ فضائی سفر کے لیے نواز شریف میں پلیٹ لیٹس 50 ہزار سے زائد ہونا ضروری ہیں۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ فضائی سفر کے دوران پلیٹ لیٹس 50 ہزار سے کم ہوئے تو دماغ کو نقصان ہو سکتا ہے، نیز اس سفرکے دوران ایئر ایمبولنس اور ڈاکٹرز کا ساتھ ہونا بھی لازم ہے روانگی کا حتمی پلان ای سی ایل سے نام نکلنے پر فائنل ہوگاادھر حکومت نے نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ سابق وزیراعظم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے درخواست وزارت داخلہ کو موصول ہوئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف، علاج کے لیے ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف نے بھی تمام مصروفیات ترک کر دی ہیں، ان کی بھی نوازشریف کے ہمراہ  لندن روانگی کا امکان ہے،  نواز شریف ڈاکٹروں کے مشورے اور اہل خانہ کی جانب سے قائل کرنے پر علاج کے لیے بیرون ملک جانے پر رضامند ہوگئے   سروسز ہسپتال کے سابق میڈیکل بورڈ نے  فضائی سفر کیلئے نواز شریف کے 50 ہزار سے زائد پلیٹ لیٹس ہونا ضروری قرار دیا تھا۔ سابق میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کو جنیٹک ٹیسٹ تجویز کیا تھا جو پاکستان میں نہیں صرف بیرون ملک ہوسکتا ہے۔ وزارت داخلہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ شہباز شریف کی درخواست ملی ہے جس میں نواز شریف کی صحت خرابی کا حوالہ دیا گیا ہے اور بیرون ملک علاج کیلئے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست کی گئی ہے۔ وزارت داخلہ نے یہ معاملہ نیب کو بھجوا دیا ہے۔ اس کے علاوہ شریف خاندان کی جانب سے نیب کو بھی درخواست کی گئی ہے جس میں شریف میڈیکل سٹی لاہورکے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی لگائی گئی ہے۔وزارت داخلہ حکام کا کہنا ہے کہ درخواست کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات بروقت لئے گئے۔ وزارت داخلہ اپنی سفارش مجاز اتھارٹی کے سامنے رکھے گی۔جس کے بعد'ان کا نام 48 گھنٹے میں  ایگزیٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالے جانے کا امکان ہے۔نواز شریف کے بھائی اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے وزارت داخلہ کو  نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے  کے لیے ایک باضابطہ درخواست جمع کرائی گئی ہے۔نمائندہ جیو نیوز کے مطابق نواز شریف کا نام قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا اس لیے حکومت نیب سے مشاورت کرے گی اور قوی امکان ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں ان کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا۔اس سے قبل شریف خاندان اور(ن) لیگی رہنماؤں کا اہم اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ نوازشریف کا علاج لندن سے کرایا جائے گا۔، نوازشریف کے ساتھ شہبازشریف بھی جائیں گے اور بیرون ملک علاج کے لئے پنجاب حکومت کو بھی ا?گاہ کیا جائے گا۔دریں اثناسابق وزیر اعظم نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے ایک بارپھر انکی طبیعت کو تشویشناک قرار دیدیا۔ڈاکٹر عدنان نے اپنے ایک  ٹویٹ میں کہاکہ سابق وزیر اعظم کے پلیٹس لٹس علاج کے باوجود مستحکم نہیں ہو رہے، پلیٹس لٹس مستحکم کرنے کیلئے دی جانے والی تھراپی بھی موثر ثابت نہیں ہو رہی۔نوازشریف کے پلیٹسلٹس کی تشخیص نہ ہونے سے مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سابق وزیر اعظم کو صحت کی صورتحال کے پیش نظر سپیشلائزڈ کیئر اور جدید علاج کی ضرورت ہے۔

لندن روانگی

 لاہور(جنرل رپورٹر)مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدرمریم نواز کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے، انہیں علاج کیلئے فوراً باہر بھیجنا چاہیے۔عدالت کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ مجھے نواز شریف کی صحت کی بہت فکر رہتی ہے، نواز شریف کی طبیعت تشویشناک ہے، انہیں علاج کے لیے فوراً باہر بھیجنا چاہیے اور جہاں علاج ممکن ہو وہاں جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں ابھی فوری سفر نہیں کرسکتی کیوں کہ میرا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے، اگر نواز شریف علاج کیلیے بیرون ملک جاتے ہیں تو ان کے ساتھ جانا مجبوری ہے تاہم بڑا مشکل ہوگا کہ نواز شریف علاج کے لیے باہر چلے جائیں اور میں نہ جا سکوں۔مریم نواز نے کہا کہ سیاست پوری زندگی چلتی رہے گی لیکن والدین دوبارہ نہیں ملتے، ایک سال پہلے اپنی ماں کھوچکی ہوں اور اب میری تمام تر توجہ نواز شریف کی طبیعت پر ہے، میں 24 گھنٹے نواز شریف کے پاس رہتی ہوں، انہیں ملازموں اور نرسوں پر نہیں چھوڑ سکتی، نواز شریف کے معاملات خود دیکھتی ہوں، آج بھی بڑی مشکل سے عدالت آئی ہوں، مجھے اس وقت صرف نواز شریف کی زندگی اور صحت کی فکر ہے۔مریم نواز نے کہا کہ ڈیل کی باتیں کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے، نواز شریف کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے،جو علاج پاکستان میں میسر تھا وہ فراہم کیا گیا اب ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں، پوری دنیا میں جہاں بھی ان کا علاج ممکن ہے انہیں ضرور جانا چاہیے۔ میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سروسز ہسپتال کے میڈیکل بورڈ نے بھی نواز شریف کو باہر جا نے کا مشورہ دیا ہے جبکہ ہمارے میڈیکل بورڈ نے بھی یہ تجویز دی ہے۔،نواز شریف کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے اور پوری دنیا میں جہاں بھی ان کا علاج ممکن ہے انہیں علاج کرانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہو گی کہ میں نواز شریف کے ساتھ جاؤں لیکن اس وقت میرا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے۔اگر وہ علاج کے لئے چلے جائیں اور میں نہ جا سکوں تو میرے لئے بڑا مشکل ہوگا۔اس وقت تو نواز شریف کے بیرون ملک علاج کے حوالے سے انتظامات کو چچا محمد شہباز شریف دیکھیں گے۔ مریم نواز نے کہا کہ سیاست پوری زندگی چلتی رہے گی،میں ایک سال پہلے اپنی ماں کو کھو چکی ہوں،والدین دوبارہ نہیں ملتے۔اس وقت میری پوری توجہ اپنے والد کی صحت پر مرکوز ہے، میڈیکل بورڈ نے کہا ہے کہ نواز شریف کیلئے جو علاج پاکستان میں میسر تھا وہ فراہم کیا گیا اوراب ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں،نو ازشریف کو سپیشلائزڈ سنٹر میں جانا چاہے،وہیں بیماری کی تشخیص ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ایک دفعہ پھر نوازشریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد گر گئی تھی، والد کو چھو ڑ کر آنا مشکل تھا لیکن عدالت کے حکم پر آگئی ہوں،عدالت جب جب بلائے گی اس کے حکم پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے ای سی ایل سے نام نکلوانے کے لئے درخواست دائر کرنے کے حوالے سے کہا کہ میں اس سارے معاملے کو گھر جا کر دیکھوں گی۔ مریم نواز سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ مولانا کی خواہش ہے کہ آپ مارچ اور کنٹینر پر آئیں، آپ کا مستقبل میں کیا منصوبہ ہے؟جس پر مریم نوازنے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مولانا کا بہت شکریہ، اس وقت میری پوری توجہ میاں صاحب کی صحت کی طرف ہے، سیاست کے لئے پوری زندگی پڑی ہے، میں یہ وقت ان کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں،میاں شہباز شریف اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف کو بیرون ملک لے جانے کے حوالے سے تمام انتظامات دیکھ رہے ہیں،میاں نواز شریف کے کل پلیٹ لیٹس کی تعداد ایک بار پھر گر گئی تھی،ماں کے  جانے کے بعد اب میرا سب کچھ میرے والد نواز شریف ہیں،صحت پہلے ہے، سیاست بعد میں ہو گی۔دوسری طرف شریف خاندان کے وکلاء نے مریم نواز کا پاسپورٹ عدالت سے واپس لینے اور نام ای سی ایل سے نکلوانے کیلئے درخواست دائر کرنے کیلئے قانونی نکات پر مشاورت شروع کر دی۔ذرائع کے مطابق مریم نوازاپنے والد نواز شریف کے بیرون ملک علاج کے دوران انکی تیمار داری کے لئے ان کے پاس موجود رہنا چاہتی ہیں جس کے لئے انہوں نے بیرون ملک سفر کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لئے وکلاء سے مشاورت کی ہے۔ نیب کے خدشہ پر مریم نواز کا پاسپورٹ لاہور ہائیکورٹ کے پاس جمع ہے جبکہ ان کا نام بھی ای سی ایل میں شامل ہے۔ اس حوالے سے وکلاء کی ٹیم نے مشاورت شروع کر دی ہے جس کے بعد آج باضابطہ درخواست دائر کئے جانے کا امکان ہے۔

مریم نواز

مزید : صفحہ اول


loading...