دھاندلی سے آنے والوں کو حکومت نہیں کرنے دینگے : مولانا فضل الرحمن 

    دھاندلی سے آنے والوں کو حکومت نہیں کرنے دینگے : مولانا فضل الرحمن 

  



 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں )اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم خان درانی نے کہاہے کہ رہبر کمیٹی نے فیصلے کرلیے ہیں وقت آنے پر ان کے بارے میں بتا دیا جائے گا، فی الحال پرویز الہی سے مولانا کی ملاقات نہیں ہورہی ،ملاقات کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان ہوجائے گا۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کو چودھری پرویز الہی کے دست راست صوبائی وزیر پنجاب حافظ عمار یاسر نے مولانا فضل الرحمن سے اڑھائی گھنٹے تک ملاقات کی ہے ۔حافظ عماریاسرچوہدری پرویزالہی کو ملاقات سے آگاہ کریں گے جس کے بعد مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کا وقت طے کیا جائے گا۔اس حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کنوینر رہبر کمیٹی اکرم خان درانی کا کہنا تھاکہ حافظ عمار یاسر ،آئے تھے اور مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی ہے ،انہوں نے بتایاکہ چودھرری پرویز الہی جمعہ کو مولانا فضل الرحمن سے ملنے نہیں آرہے۔انہوں نے بتایاکہ رہبر کمیٹی نے فیصلے کرلئے ہیں، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا13 نومبر کو لاک ڈاون میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے شرکت کی یقین دہانی کروائی ہے؟ تو اکرم درانی کا کہنا تھاکہ اتنی جلدی میں مت پڑو،پر ویز الہی کے ساتھ ابھی مولانا کی ملاقات نہیں ہو گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ملاقات نہیں ہے تو پھر حافظ عمار یاسر کیوں آئے تھے؟ تو اکرم درانی نے کہا کہ حافظ عمار یاسر مولانا فضل الرحمان سے ذاتی ملاقات کے لیے آئے تھے۔جے یو آئی (ف)نے پیر کے روز شاہراہ ریشم موٹرویز اور کو سٹل ہائی وے سمیت اہم شاہراہیں بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ،شاہراہیں بلاک کرنے کی تجویز رہبر کمیٹی نیں پیش کی گئی تھی ۔مولانا فضل الرحمن نے پرویزالہی سے ملاقات سے گریز کی راہ اپنا لی ہے۔ ذرائع کے مطابق جے یو آئی نے پیر کے روزسے شاہراہ ریشم موٹرویز کو سٹل ہائی وے سمیت اہم شاہراہیں بند کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔ ۔مولانا فضل الرحمن کی طرف سے استعفی کے سوا بات چیت بے فائدہ قرار دیئے جانے پر پرویزالہی سے ملاقات کا وقت ہی طے نہ پاسکا جبکہ پرویزالہی سے ملاقات کا وقت طے نہ ہونے پر حافظ عمار یاسر کو بھیجا گیا لیکن مولانافضل الرحمن وزیراعظم کے استعفے سے کم پر راضی نہیں دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ حکومتی وزراءکا لب و لہجہ مفاہمت نہیں، تصادم کی طرف جاتا ہے،حکومتی کمیٹی کو کہہ دیا کہ آنا ہے تو وزیراعظم کا استعفیٰ لے کر آنا،ایڈہاک ازم پر حکومت اور ملک نہیں چلتے، آخر ملک کو کس طرف لے جایا جا رہا ہے، ملک کو ایسے لوگوں سے فارغ کرو، پاکستان کو کہاں لے جا رہے ہیں،ہم آئین، قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں، جعلی اسمبلی سے منظور قوانین کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کیوں قبول نہیں کی جا رہی، دھاندلی سے آنے والوں کو حکومت نہیں کرنے دیں گے۔جمعہ کو آزادی مارچ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایڈہاک ازم پر حکومت اور ملک نہیں چلتے، آخر ملک کو کس طرف لے جایا جا رہا ہے، ملک کو ایسے لوگوں سے فارغ کرو، پاکستان کو کہاں لے جا رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاک فوج نے امن کے لیے قربانیاں دیں، کیا ہماری قربانیاں اس لیے تھیں کہ ایسے لوگ حکمرانی کریں گے؟ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کیوں قبول نہیں کی جا رہی، دھاندلی سے آنے والوں کو حکومت نہیں کرنے دیں گے، ہم آئین، قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ جب سے اسمبلیاں بنی ہیں قانون سازی نہیں ہوئی، ان کا بنایا ہوا صدر آرڈیننس جاری کرتا ہے اور 15، 20 آرڈیننس عجلت میں پاس کرائے جاتے ہیں۔جعلی نمائندوں کے آرڈیننس بھی جعلی ہوتے ہیں، جعلی اسمبلی سے منظور قوانین کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، جعلی اسمبلی کی قانون سازی بھی جعلی ہوتی ہے۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے منی لانڈرنگ کا شور مچایا گیا اور آج چیئرمین ایف بی آر نے کہہ دیا کوئی منی لانڈرنگ نہیں ہوئی، کس قسم کے لوگ مسلط ہو گئے ہیں، ان کی پوری سیاست مخالفین کو چور کہنے پر قائم ہے، اس حکومت کو ہم ایک قبضہ گروپ سمجھتے ہیں، حکومتی کمیٹی کو کہا ہے آنا ہے تو وزیراعظم کا استعفیٰ لے کر آنا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں آزادی مارچ کیلئے ایک پیج پر ہیں،سیاسی جماعتوں کے رہنما روز آزادی مارچ میں شرکت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے گزشتہ روز ایک بات کہی تھی کہ مذاکراتی کمیٹی آتی جاتی ہے، نہ ان میں ہمارے موقف کو سمجھنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی وہ قیادت کو بات سمجھاتی ہے۔ اس لیے کہا تھا کہ وہ استعفیٰ لیکر آئیں، آج پارلیمنٹ میں ہمارے موقف کی تائید ہوگئی ہے کہ وہ مذاکرات کے موڈ میں نہیں ہیںانہوں نے کہا کہ اگر ہم اسلام کے نام پر بندوق اٹھانے کے خلاف ہیں تو عمران قبضہ گروپ ہے، ان کو بھی تسلیم نہیں کریں گے۔امیر جے یو آئی نے کہا کہ ملک تقریر سے نہیں چلتا، مشہور کیا گیا کہ تقریر اچھی کی، لیکن اگلے روز ہی ووٹنگ میں واضح ہوا، جو مستقل ووٹ دینے والے ممالک تھے وہ بھی حاصل نہیں کرسکے۔انہوں نے کہا کہ تمہاری سفارتکاری پر سوال اٹھا ہے کہ امریکا کے دورے پر جاتے ہو تو اسکول کا استاد بھی استقبال نہیں کرتا جبکہ مودی کو اچھا پروٹوکول مل رہا ہے، تم نے ملک کو دنیا میں تنہا کردیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارے مارچ میں تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہیں، یہاں ہر پارٹی کی نمائندگی روز موجود ہوتی ہے اور سب اپنا موقف دیتے ہیں، ہم سب منظم ہیں اور اپنے موقف پر قائم ہیں، آخری دن تک باطل کے خلاف ڈٹے رہیں گے۔

مولانا فضل الرحمن

مزید : صفحہ اول


loading...