فضل الرحمن کا دھرنا ناجائز ، اپوزیشن ، پیپلز پارٹی مولانا کی بیعت کر لے : حکومت ، ایوان بالا سے واک آﺅٹ

 فضل الرحمن کا دھرنا ناجائز ، اپوزیشن ، پیپلز پارٹی مولانا کی بیعت کر لے : ...

  



اسلام آباد (نیوزایجنسیاں)سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز کے بات کرنے پر سینیٹر پرویز رشید نے اعتراض اٹھا دیا ،دونوں رہنماﺅں میں جھڑپ ہوئی ۔ جمعہ کو اجلاس کے دور ان سینیٹر پرویز رشید نے کہاکہ ہمارے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیاں تو پہلے سے جاری ہیں کم ازکم بات کرنے کا حق تو نہ چھینیں۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ آپ خدا نہ بنیں اور بیٹھ جائیں، آپ تسلی سے تلخ حقیقت سن لیں۔شبلی فراز نے کہاکہ نیب کے خلاف قانون ہم نے نہیں بنائے، کوئی بھی گرفتاری ہمارے بنائے کیس پر نہیں ہوئی۔،ہم ابھی بنائیں گے،انکوپکڑیں گے، عمران خان سے بہتر اقوام متحدہ اور بین الاقوامی سطح پر موثرطور پر ناموس رسالت کا معاملہ نہیں اٹھایا گیا،پانچ سال بعد ہمارا بھی کڑا احتساب ہونا چاہیے جبکہ اپوزیشن اراکین قائد ایوان شبلی فراز کی تقریر اور پھر معانگی نہ مانگنے پرشدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آﺅٹ کیا ۔ جمعہ کو سینیٹ کا چیئرمین محمد صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا جس میں سینیٹر محمد کبیر شاہی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ جے یو آئی نے میٹروبس سروس کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے، اس کے باوجود بھی حکومت میٹرو بس کیوں نہیں چلا رہی؟،2014اور موجودہ دھرنے میں بہت فرق ہے،اس وقت گندگی سے پورا ڈی چوک تعفن زدہ تھا،موجودہ دھرنے کے شرکاءصبح سویرے صفائی کرتے ہیں۔مولانا فیض محمد نے کہاکہ حکمرانوں کے گفتار اور اورکردار میں فرق ہیں،ملکی معیشت تباہ ہو چکی ہے،حکومت ہمارے بندوں کو تنگ کر رہی ہے،ہمارے زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں،چودہ ملین مارچ کیے ایک مرتبہ بھی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ قائد ایوان سید شبلی فراز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ کئی دنوں سے اپوزیشن کی تقریر سن رہے ہیں،کرپشن اور سیاسی انتقام پر گفتی کی گئیں ،جب بھی کسی سیاسی لیڈر کو گرفتار کیا گیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ سیاسی انتقام ہے،پی پی پی اور (ن)لیگ کے پاس پچھلے دس سالوں میں نیب قوانین میں تبدیلی کے مواقع تھے،دونوں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہی تھی۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے سیاست اس ملک کو بنانے کیلئے جوائن کی،لوگ ان دونوں پارٹیوں سے لوگ تنگ آچکے تھے،یہ انسانی حقوق کامعاملہ نہیں خالص کرپشن کاکیس ہیں،گرفتار لیڈروں پر کیسز ہمارے بنائے ہوئے نہیں،ہم ابھی بنائیں گے،انکوپکڑیں گے،سیاست کرنا سب کا حق ہے،حکومت میں آکر یہ آپ کاحق نہیں کہ آپ ملک کی جڑیں کاٹیں،ملکی معیشت اور اداروں کو تباہ کریں۔انہوںنے کہاکہ عمران خان سے بہتر اقوام متحدہ اور بین الاقوامی سطح پر موثرطور پر ناموس رسالت کا معاملہ نہیں اٹھایا گیا،پانچ سال بعد ہمارا بھی کڑا احتساب ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ افسوس ہو رہا ہے کہ اپنے آپ کولبرل کہنے والی جماعت بھی مولانا کے پیچھے کھڑی ہو گئی ہے،پیپلزپارٹی کو اب ذوالفقار بھٹو اور بینظیر کا نام نہیں لیناچاہئے،انکو مولانا کی بیعت کر لینی چاہئیں۔شبلی فراز کی تقریر کے دوران پیپلزپارٹی اور دیگر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا ۔ مولابخش چانڈیو نے کہاکہ ان کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیا ہے،یہ پاگل ہو چکے ہیں،پیپلز پارٹی کے سینیٹرز چیئرمین ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے۔ قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہاکہ قائد ایوان نے تقریر کے ذریعے ماحول کومزید پراکندہ کر دیا،مولانا صاحب پر مذہب کارڈ استعمال کرنے الزام لگایا جاتا ہے،ایک شخص اپنے سیاسی مقاصد کیلئے ریاست مدینہ کا نام لیتا ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟قائد ایوان اپنے الفاظ پر معافی مانگیں تو تقریر سنی جائیں گی۔قائد ایوان نے معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ ایک ایک لفظ ریکارڈ کاحصہ ہے،معافی ہرگز نہیں مانگوں گا۔اپوزیشن احتجاجاً ایوان سے واک آو¿ٹ کرگئی اجلاس کے دور ان شبلی فراز کو تقریر کی اجازت دینے پر پرویز رشید نے احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ باہر سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے مگر یہاں تو ہمیں بولنے دیا جائے۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وزارتوں سے گریڈ 19سے کم افسران کی حاضری پر ہمی کااظہار کرزتے ہوئے کہاکہ سیکرٹری داخلہ غیر حاضر ہے، شکایات آئی ہیںن کہ وہ کمیٹیوں میں نہیں آتے،ان کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے۔چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ استحقاق کمیٹی میں بھیجا جائے۔سینیٹر شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ قومی اسمبلی میں آرڈیننس گردی ہو رہی ہے، آرڈیننس یہاں ایوان میں پیش نہیں کیئے جا رہے، پارلیمان کی توقیر پامال ہو رہی ہے، پارلیمان کی توقیر کو بحال کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔شیری رحمان نے کہاکہ یہاں ایوان میں وزراءاور وفاقی سیکرٹریز موجود نہیں ہیں، افسران کی عدم حاضری سے پارلیمان کا استحقاق مجروع ہو رہا ہے انہوںنے کہاکہ غیر حاضر حکام کے خلاف تحریک استحقاق بنتی ہے، وزراءاور سیکرٹریز کی عدم حاضری کا نوٹس لیا جانا چاہئے۔ چیئرمین سینٹ نے وفاقی سیکرٹریز کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اجلاسوں میں اپنی حاضری یقینی بنائی جائے اور سیکرٹری داخلہ تو اجلاس اور قائمہ کمیٹیز میں بھی نہیں آتے ہیں انہیں فوری طور پر شوکاز نوٹس جاری کیا جائے اور آئندہ ایسا کیا گیا تو سینٹ تحریک استحقاق پر عمل درآمد کرے گی۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ حافظ حمد اللہ کا شناختی کارڈ منسوخ کرکے افغانی بنادیا گیا ، نادرا نے معافی نہیں مانگی، پوچھا جائے کس کے کہنے پر کیا گیا ؟ ہمارے ملک میں عدل کا نظام مفلوج ہوکر رہ گیا ،لوگ سانپ، بچھو سے اتنا نہیں ڈرتے ،جتنا عدالتوں سے ڈرتے ہیں۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس پیر کی دوپہر ساڑھے تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا ۔

سینیٹ

مزید : صفحہ اول


loading...