مقبوضہ کشمیر ، بھارت مخالف مظاہروں میں پاکستان زند ہ با د کے نعروں سے وادی گونج اٹھی

مقبوضہ کشمیر ، بھارت مخالف مظاہروں میں پاکستان زند ہ با د کے نعروں سے وادی ...

  



سرینگر ،نئی دہلی،لندن(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں لوگوںنے بھارتی قبضے اور کشمیرکوبراہ راست اپنے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے خلاف اپنے غم و غصے کے اظہار کیلئے گزشتہ روزمختلف علاقوں میں زبردست مظاہرے کیے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سرینگر ، بڈگام ، گاندر بل ، اسلام آباد ، پلوامہ ، کولگام ، شوپیاں ،بانڈی پورہ ، بارہمولہ ، کپواڑہ اور دیگر علاقوں میں لوگ نما ز جمعہ کے فوراً بعدسڑکوں پر نکل آئے اور آزادی اور پاکستان کے حق میں جبکہ بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے ۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے مختلف مقامات پر مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ وادی میں آج 97ویں روز بھی جاری رہنے والے بھارتی محاصرے کی وجہ سے مقبوضہ وادی کشمیر، جموں اورلداخ خطوںکے مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و دہشت اور غیر یقینی صورتحال بدستور برقرارہے جبکہ پری پیڈ موبائل فون ، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ سروسز بدستور معطل ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابقمقبوضہ کشمیر میں شدید برف بھاری کی وجہ سے مسلسل بھارتی محاصرے کا شکار لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں موسم سرما کی پہلی برف بھاری کے باعث مقبوضہ وادی کے کئی بالائی علاقوں میں برفانی تودے گرنے کے واقعات بھی پیش آئے جبکہ سرینگر جموں شاہراہ ، مغل روڑ،سرینگر کرگل ہائی وے پر ٹریفک کی آمد و رفت میں خلل پڑا اورسینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں۔ سرینگر ائر پورٹ کے رن وے پر برف جمع ہونے کے باعث سے کوئی جہازلینڈ یا پرواز نہیں کر سکا۔ سرینگر میں ایک فٹ سے زائد جبکہ کپواڑہ ، شوپیاں، گاندر بل اور بارہمولہ کے بالائی علاقوں میں تین سے چار فٹ تک برف برف ریکارڑ کی گئی ۔ ضلع کپواڑہ کے علاقے لنگیٹ میں بھارتی فوج کی ایک گاڑی کو شدید دھند کے باعث حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں دو بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔ سرینگر کے علاقے حضرت بل میں محکمہ بجلی کا ایک لائن میں بجلی کی خرابی دور کرنے کے دوران کھمبے سے گرنے باعث جانبحق ہو گیا۔ سرینگر میں ہی ایک اور شخص ایک درخت کی ٹہنی لگنے جبکہ پلوامہ کے علاقے لاسی پورہ میں ایک شخص اپنے گھر کی چھت پر جمع برف صاف کرنے کے دوران نیچے گرنے کے باعث جاں بحق ہو گیا۔ شدید برف باری کے باعث بجلی کے کھمبوں اور تاروں کو بھی سخت نقصان پہنچاجس کی وجہ سے پوری وادی میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ کشمیر یونیورسٹی اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے آج ہونے والے امتخانات ملتوی کر دیے ہیں۔ جموںوکشمیر انجمن سیرت کمیٹی کشتواڑ کے چیئرمین مولانا عبدالقیوم نے اپنی تنظیم کے ایک اجلاس سے کشتواڑ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام جموںخطے کے عوام کی طرف سے تحریک آزادی میں دی جانے والے عظیم قربانیاں ہرگز فرامو ش نہیں کرسکتے ۔ادھریورپی یونین کے اقتصادی اور عالمی امور کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کرسچن لیفلر نے نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کو مقبوضہ کشمیر کے عوا م کے تمام بنیادی حقوق کے حوالے سے فکر و تشویش لاحق ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین بھارت کے سلامتی کے خدشات کو تسلیم کرتی ہے تاہم اسے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق کے حوالے سے بھی یکساں طور پر سخت تشویش ہے۔ انہوںنے کہا کہ گو کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں معمولی سی بہتری آئی ہے تاہم صورتحال اب بھی سخت ابتر ہے۔ انہوںنے کہاکہ یورپی یونین کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو تنازعہ کشمیر مذاکراتی عمل کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے یورپی پارلیمنٹ کے کچھ ارکان کے مقبوضہ کشمیر کے حالیہ دورے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ مروجہ طریقہ کار سے ہٹ کر کرایا گیا۔علاوہ ازیںلندن میں بھارت، پاکستان اوربرطانیہ کے سٹرےٹجک ماہرین نے کشمیر بحران کے بارے میں ایک پینل مباحثے کے دوران کہا کہ عالمی برادری کوکشمیر میںکشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کرنا چاہےے۔ مباحثے کا اہتمام چیتھم ہاﺅس میںسٹریٹجک ایڈوائزری گروپ سی ٹی ڈی ایدوائزرزنے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے پس منظر میں کیا تھا۔ مقررین میں اقوام متحدہ میں حال ہی میں سبکدوش ہونے والی پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی، بھارتی صحافی نیدھی رازدان، لندن میں مقیم تاجر عبدالرحمن چنوئی، برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ جیک سٹرا اور برطانوی وزرائے اعظم تھریسا مے اور ڈیوڈ کیمرون کے قومی سلامتی کے مشیر اوراقوام متحدہ میں برطانےہ کے سابق نمائندے مارک شامل تھے۔

 مقبوضہ کشمیر

مزید : صفحہ اول


loading...