کراچی زو کا نام زولوجیکل اینڈ بوٹنیکل گارڈن ہو گا،وسیم اختر

 کراچی زو کا نام زولوجیکل اینڈ بوٹنیکل گارڈن ہو گا،وسیم اختر

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی زو کا نام تبدیل کیا جا رہا ہے نیا نام کراچی زولوجیکل اینڈ بوٹنیکل گارڈن ہو گا، کراچی چڑیا گھر 99 فیصد عوام کو تفریحی سہولیات پہنچا رہا ہے، کراچی کے عوام فیملی اور بچوں کے ہمراہ چڑیا گھر کی سیر کریں، بچوں کے لئے تفریح کے علاوہ ایجوکیشن بھی ہے، چڑیا گھر کے ترقیاتی منصوبوں کا پہلا مرحلہ دسمبر میں مکمل ہو گا جبکہ دوسرے مرحلے میں ترقیاتی کاموں کے علاوہ بڑے جانور بھی خریدے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو کراچی چڑیا گھر کے دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن، چیئرمین ریکریشن کمیٹی محمد حنیف سورتی اور دیگر کے ایم سی افسران بھی موجود تھے۔ میئر کراچی نے کہا کہ کراچی چڑیا گھر پہلے سے بہت بہتر ہو چکا ہے، بچوں کے لئے تفریح کے ساتھ تعلیمی و معلوماتی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں، حکومت سندھ کے تعاون سے یہاں ترقیاتی کاموں کا پہلا مرحلہ دسمبر میں مکمل ہو رہا ہے۔ چار دیواری مکمل کردی گئی ہے انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ چڑیا گھر کی دیوار پر پوسٹر چسپاں کرکے اس کو خراب نہ کریں،  دوسرے مرحلے میں مزید ترقیاتی کام اور قیمتی جانور چڑیا گھر میں لائے جائیں گے، مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ چڑیا گھر پہلے سے بہت بہتر ہو چکا،انہوں نے کہا کہ دوسری کراچی Biennale KB19 بین الاقوامی آرٹ ایگزیبیشن2019 کا ایک حصہ چڑیا گھر میں رکھا گیا ہے جہاں سینئر آرٹسٹوں کی تخلیقات عام شہریوں کے معائنہ کے لئے دستیاب ہیں اس سلسلے کو آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ صفائی مہم عارضی حل ہوتا ہے وقتی طور پر صفائی ہوجاتی ہے مگر اس میں استحکام نہیں رہتا، اس لئے وقتی حل کے بجائے کراچی کا کچرا اٹھانے کے لئے 10 سال پہلے کے نظام کو لانا ہو گا۔ یہی ادارے پہلے بھی شہر کو صاف کرتے تھے، ڈسٹرکٹس کو وسائل دے کرنظام کو مضبوط کیا جائے، کچرے کو روزانہ لینڈ فل سائٹ تک پہنچ جانا چاہیے تاکہ شہر صاف ستھرا رہے، انہوں نے کہا کہ 10 لاکھ لوگوں کے لئے ڈالے گئے سیوریج نظام کو آج کراچی میں تین کروڑ افراد استعمال کر رہے ہیں بہتری کے لئے پورے شہر کا انفراسٹرکچر تبدیل کرنا پڑے گا تب جا کر صورتحال ٹھیک ہوگی،ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی کے تاجروں اور صنعت کاروں کو طبی سہولیات کی فراہمی میں بلدیاتی اداروں سے تعاون کرنا چاہیے تا کہ کراچی کے اسپتالوں میں خراب مشینری کی مرمت ہو اور انہیں قابل استعمال حالت میں رکھا جاسکے، ہم سب مل کر ہی اپنے شہر کو بہتر بناسکتے ہیں۔ 

مزید : صفحہ اول


loading...