نادہندگان کی جائیدادیں ازخود نیلام، بینکوں کے اختیارکیخلاف فیصلہ محفوظ

 نادہندگان کی جائیدادیں ازخود نیلام، بینکوں کے اختیارکیخلاف فیصلہ محفوظ

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ کی سربراہی میں قائم 5رکنی بنچ نے نادہندگان کی جائیدادیں ازخود نیلام کرنے سے متعلق بینکوں کے اختیارکے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔فاضل بنچ نے اٹارنی جنرل سمیت فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعداپنافیصلہ محفوظ کیا۔ درخواست گزاروں شعیب ارشد وغیرہ کا موقف ہے کہ رولز میں ترمیم کرکے بینکوں کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کو جج کے اختیارات دے دئیے گئے،بینک ازخود نادہندگان کی جائیدادیں فروخت کررہے ہیں جبکہ ریکوری عدالت کے ذریعے ہوسکتی ہے،بینکوں کے ریکوری کے دعوے بینکنگ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں،بینکوں کے دعوؤں پر ڈگریاں بھی جاری ہو رہی ہیں،وفاقی حکومت کی طرف سے استدعا کی گئی کہ حکم امتناعی ختم کیاجائے،اس سے رقوم کی ریکوری متاثر ہو رہی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ متعلقہ رولز قانون کے تابع ہیں،ان میں کوئی غیرقانونی بات شامل نہیں ہے، درخواست گزاروں نے کہا کہ واجب الاادا رقم کا تعین کئے بغیر جائیداد نیلام نہیں کی جاسکتی۔بینک قرض خواہوں کے خلاف کارروائی کر کے عدالتی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں،قرض خواہوں کے خلاف بینک صرف بینکنگ عدالت کے پاس شکایت کرسکتا ہے۔

 نادہندگان کی جائیدادیں 

مزید : صفحہ آخر


loading...