سانحہ تیز گام کی باقاعدہ تحقیقات شروع، افسروں، ملازمین کے بیان قلمبند

سانحہ تیز گام کی باقاعدہ تحقیقات شروع، افسروں، ملازمین کے بیان قلمبند

  



ملتان(نمائندہ خصوصی)صدرپاکستان کے مقررہ کردہ نمائندہ فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹرآف ریلویزدوست محمدلغاری نے سانحہ تیزگام کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کردیاہے اس سلسلہ میں گزشتہ روزانہوں نے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ آفس ریلوے ملتان ڈویژن کے کمیٹی روم میں ملتان ڈویژن کے سٹاف اورافسران کے بیانات قلم بندکئے گیٹ نمبرلیاقت پوراورچنی گوٹھ کے درمیان موجودگیٹ نمبر114کے گیٹ کیپرنے بتایاکہ تقریباٌ گیٹ سے ایک کلومیٹرقبل اس نے ٹرین میں لگی آگ کودیکھ لیاتھاتاہم ٹرین پھاٹک (بقیہ نمبر11صفحہ12پر)

پرپہنچنے سے قبل ہی رو ک گئی تھی اس نے اپنے میٹ اورگینگ مینوں کوبتایاکہ ٹرین میں آگ لگ ہوئی ہے اسی طرح مقامی لوگوں کومددکے لئے ٹرین کی طرف فوری طورپربھجوایادیگرٹرینوں کوروکنے کے لئے ایمرجنسی پٹاخے ریلوے ٹریک پرنصب کئے کیوں کہ وہ خودگیٹ نہیں چھوڑ سکتاتھااس کاکہناتھاکہ بہت ہی تیزی کے ساتھ آگ نے بوگیوں کولیپٹ میں لیا۔خانپوراورلیاقت پوراورچنی گوٹھ کے درمیان موجوددیگرپھاٹک پرموجوداورٹریک پٹرولنگ پرموجودعملہ نے بتایاکہ جب تیزگام ان کے پاس سے گزری تووہ بالکل صیح تھی اورکسی بھی بوگی میں یااس کے نیچے آگ کی موجودگی نہیں دیکھی تھی۔ریلوے ذرائع کے مطابق ایف جی آئی آرنے ملتان،کراچی،لاہور،روہری،راولپنڈی ڈویژنوں سے تمام ترمتعلقہ ٹرین آپریشن اوردیگرسٹاف کوملتان ڈی ایس آفس کے کمیٹی روم میں بلایاہواتھااورشام تک ملازمین کے بیانات قلم بندکرنے کاسلسلہ جاری رہا۔آج ہفتہ کے روزبھی حادثہ سے متعلق ملازمین اورافسران کے بیانات قلم بندکرنے کاسلسلہ جاری رہے گاجبکہ12نومبرکوایف جی آئی آراپنی ٹیم کے ہمراہ میرپورخاص میں عینی شاہدین،ٹرین میں سفرکرنے والے مسافروں،آگ بجھانے میں حصہ لینے والے لیاقت پور اورچنی گوٹھ کے ریسکیوعملہ کے بیانات بھی قلم بندکریں گے۔

قلبند

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...