ایکسائز عملہ کی اندھادھند فائرنگ ، ڈی آئی جی کے سسرسمیت 3افراد زخمی

ایکسائز عملہ کی اندھادھند فائرنگ ، ڈی آئی جی کے سسرسمیت 3افراد زخمی

  



پشاور(نعیم مصطفےٰ سے)محکمہ ایکسائز کی جانب سے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے نوشہرہ کینٹ میں پکڑی جانے والی کروڑوں روپے کی پاکستانی کرنسی قانون نافذ کرنے والے تین اداروں کے درمیان وجہ تنازعہ بن گئی، ایکسائز کے عملے نے معاملہ ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کی زد میں آکر ڈی آئی جی پولیس کے سسر سمیت تین افراد زخمی ہو گئے،محکمہ ایکسائز نے اپنی زیادتی پر پردہ ڈالنے کے لئے ایف آئی اے سے رجوع کیا ،جنہوں نے حالات کی سنگینی بھانپتے ہوئے غیرقانونی کارروائی میں مداخلت کرنے سے معذوری ظاہر کر دی جبکہ پولیس نے اعلیٰ حکام سے ہدایات لینے کے بعد ایکسائز سٹاف کے خلاف مقدمہ درج کر لیا،ایکسائز والوں نے کروڑوں کی ریکوری بھی ٹھکانے لگانے کی کوشش کی لیکن پولیس کی بروقت کارروائی سے یہ کوشش بھی ناکام رہی۔روزنامہ پاکستان کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات کے مطابق خیبرپختونخوا کے مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے ہزاروں افراد بیرون ملک ملازمت یا کاروبار کررہے ہیں جو خود پاکستان آکر یا اپنے عزیز و اقارب کے ذریعے غیر ملکی کرنسی اپنے اہل خانہ کو بھجواتے ہیں جو یہ کرنسی پشاور آکر قانونی طور پر پاکستانی کرنسی میں تبدیل کروا لیتے ہیں، یہ سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے کیونکہ ان علاقوں کی اکثریت تعلیم یافتہ نہیں اور بینکوں یامضاربہ کمپنیوں کے ذریعے ٹرانزیکشن پر دستی لین دین کو ترجیح دیتے ہیں۔دو روز قبل دو افراد دینار اور درہم کیش کروا کرایک کار پر سوار آ رہے تھے کہ نوشہرہ کینٹ میں ناکہ لگا کر کھڑے ایکسائز ملازمین نے انہیں روکا اور گاڑی کی تلاشی لینے کے بعد کہا کہ آپ لوگ ہنڈی کا کاروبا رکرتے ہیں جو کہ ناجائز ہے آپ کو ہمارے ساتھ ایکسائز پولیس اسٹیشن چلنا ہو گا ، اہل کار ان دونوں افراد کو پکڑ کر گاڑی سمیت تھانے لے آئے ،معلوم ہوا کہ گاڑی میں کروڑوں روپے کی پاکستانی کرنسی موجود تھی، ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ ہماری ایک ٹیم ان دونوں افراد سے ایکسائز آفس میں تفتیش کررہی تھی کہ اس دوران ایک دوسری کار میں سوار تین چار لوگ آئے جنہوں نے ان زیر حراست افراد کو چھوڑنے کا کہا ہمارے انکار پر وہ سیخ پا ہو گئے اور جھگڑا شروع کردیا ۔ اسی اثناءمیں اچانک فائرنگ شروع ہو گئی اور دفتر میں موجود دو افراد اس کی زد میں آگئے جبکہ ایک بزرگ جو ایکسائز آفس کے سامنے سے گزر رہے تھے ان کی ٹانگ میں بھی گولی لگی، جن کا نام بعدازاں لیاقت علی معلوم ہوا اور خیبر میں تعینات ڈی آئی جی پولیس محمد سلیم کے سسر ہیں۔ فائرنگ کی آواز سن کر نوشہرہ کینٹ پولیس بھی وہاں پہنچ گئی ،ایکسائز کے عملے نے معاملہ چھپانے کی کوشش کی تو مقامی ایس ایچ او نے فوری طور پر اس بارے میں اعلیٰ پولیس حکام کو اطلاع کر دی، آئی جی پولیس خیبرپختونخواڈاکٹر نعیم خان کو بتایا گیا کہ ایکسائز کا عملہ غیر قانونی طور پر مختلف مقامات پر کچھ عرصے سے ناکے لگا رہا ہے اور انہوں نے اپنی گاڑیوں پر پولیس کا لفظ اور مونو گرام بھی لگا رکھا ہے وہ بھی غیر قانونی ہے، مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ ہمیں زخمیوں نے واضح طور پر بتایا کہ فائرنگ ایکسائز کے گارڈ ز مرید اللہ شاہ ولد میاں زرولی شاہ وغیرہ نے کی ہے۔آئی جی کے احکامات پر ایس ایچ او تھانہ نوشہرہ کینٹ انسپکٹر زرداد خان نے اپنی مدعیت میں دفعہ 324ت پ کے تحت ایکسائز والوں کے خلا ف مقدمہ درج کر لیا تاہم فوری طور پر ایکسائز کے کسی عملے کو گرفتار نہیں کیا گیا،گزشتہ روز محکمہ ایکسائز نوشہرہ اور پشاور کے اعلیٰ حکام نے کارروائی کا بھانڈا پھوٹنے پر ایف آئی اے کے اعلیٰ افسران سے رابطہ کیا اور کہا کہ آپ منی لانڈرنگ کے تحت یہ کیس اپنے پاس منگوا لیں لیکن ایف آئی اے پشاور کے انچارج نے حالات کا جائزہ لے کر واضح انکار کر دیا اور کہا کہ یہ کسی طور ہمارا کیس نہیں بنتا، ایکسائز اور متعلقہ پولیس آپس میں معاملات طے کریں۔ دوسری جانب پشاور اور نوشہرہ کی پولیس نے اس حوالے سے تحقیقات شروع کی اور کیس پراپرٹی جو کروڑوں روپے کی مالیت پر مشتمل ہے ایکسائز والوں سے طلب کی تو ایکسائز کا عملہ گھبرا گیا، مقامی ڈی ایس پی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ایکسائز والے میرے پاس ایک کروڑ 70لاکھ روپے لے کر آئے تھے لیکن یہ رقم برآمد ہونے والی رقم سے کہیں کم تھی اس لئے میں نے ریکوری کی وصولی سے انکار کر دیا اور کہا کہ قانونی طور پر لکھ پڑھ کر پوری رقم میرے حوالے کریں۔تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ دو روز گزرنے کے باوجود بھی برآمدگی کی رقم اور واقعہ کی دیگر متعلقہ دستاویزات پولیس کو موصول ہوئی ہیں نہ ہی ایف آئی اے کے پاس پہنچائی گئی ہیں اور نہ کرنسی لے کر آنے والے دونوں مبینہ ملزمان کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا گیا ہے، اس بارے میں جب پولیس حکام سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایکسائز والے چوری اور سینہ زوری کے مرتکب ہیں وہ سوشل میڈیا پر واٹس اپ گروپوں میں پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ ایف آئی اے منی لانڈرنگ کا کیس نہیں لے رہی ،یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایکسائز والے کمانڈ اور کنٹرول سے محروم ہیں اور بے لگام مست ہاتھی کی طرح جو جی میں آئے کئے جا رہے ہیں وہ پولیس کے اختیارات بھی خود ہی استعمال کررہے ہیں ،قانون اور حکومتی پالیسی کا بھی مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ پولیس ترجمان کا رابطہ کرنے پر کہنا تھا کہ ایکسائز والوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے لیاقت علی کے سسر ڈی آئی جی ہیں اور مذکورہ مضروب اس مقدمے کے خود مدعی بننا چاہتے تھے لیکن ہمارے اعلیٰ افسران نے کہا کہ سپریم کورٹ میں صغریٰ بی بی کیس کی سماعت کے دوران فاضل جج نے جو ہدایت کی تھی اس کی روشنی میں ایس ایچ او نوشہرہ کو مدعی بنایا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ پولیس جھوٹ کی بنیاد پر کیس بنا رہی ہے ہم اس کی آزادانہ انکوائری چاہتے ہیں جو ایف آئی اے سے کرائی جائے۔ ایف آئی اے کے اعلیٰ افسر نے رابطہ کرنے پر کہا کہ ہم نے تمام معاملات کا جائزہ لیا ہے یہ کیس ہمارا بنتا ہی نہیں ،ایکسائز والے اپنی کمزوری اور مجرمانہ غفلت پر پردہ ڈالنے کے لئے گیند ہماری کورٹ میں پھینک رہے ہیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...