بابری مسجد کیس ، بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا،زمین ہندووں کو دینے اورمسجد کیلئے متبادل جگہ فراہم کرنے کا حکم

بابری مسجد کیس ، بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا،زمین ہندووں کو دینے ...
بابری مسجد کیس ، بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا،زمین ہندووں کو دینے اورمسجد کیلئے متبادل جگہ فراہم کرنے کا حکم

  



نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے زمین ہندووں کو دینے کا فیصلہ سنا دیاہے جبکہ مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کیلئے پانچ ایکڑ زمین فراہم کرنے کا حکم جاری کر دیاہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے مندر کی تعمیر کیلئے بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی جاری کر دیاہے ۔سپریم کورٹ کا فیصلہ میں کہناتھا کہ بابری مسجد کی اندرونی،بیرونی اراضی ٹرسٹ کے حوالے کی جائے گی،بابری مسجد کی اراضی ہندووں کے حوالے کرنے کیلئے مرکزی حکومت ٹرسٹ بنائے گی،ٹرسٹ تین ماہ میں سکیم تیارکرکے بابری مسجد کی اراضی ہندووں کے حوالے کرے گی.

بھارتی سپریم کورٹ کا کہناتھا کہ متنازعہ زمین کی تقسیم کافیصلہ غلط تھا، رام مندرتعمیرکیاجا ئے گا بابری مسجدکی زمین حکومت کے پاس رہے گی ، مسلمانوں کومسجدکیلئے 5 ایکڑزمین دی جائےگی۔بھارتی عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں مرکزی حکومت کو 3ماہ میں ٹرسٹ قائم کرنے کا حکم بھی دے دیاہے ۔

بھارتی عدالتِ عظمیٰ نے فیصلے میں کہا ہے کہ 1949ء میں بابری مسجد گرانا بت رکھنا غیر قانونی ہے، مسلمانوں کے بابری مسجد اندرونی حصوں میں نماز پڑھنے کے شواہد ملے ہیں۔عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ بابری مسجد کو خالی پلاٹ پر تعمیر نہیں کیا گیا، بابری مسجد کے نیچے تعمیرات موجود تھیں جو اسلامی نہیں تھیں، تاریخی شواہد کے مطابق ایودھیا رام کی جنم بھومی ہے۔سنی وقف بورڈ جگہ پر منفی قبضہ کرنے کا دعویٰ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن جگکوئی کی سربراہی میں پانچ رکنی بین بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے،6 دسمبر 1992 میں بھارتی انتہا پسند ہندوﺅں نے بابر ی مسجد کو شہید کر دیا تھا ، سپریم کورٹ کے جسٹس نذیر واحد مسلمان جج ہیں ، ہائیکورٹ نے فیصلہ فیصلہ سنایا تھا کہ ایودھیا کی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے جس میں سے ایک حصہ نرموہی اکھاڑے ، ایک حصہ رام مندر اور تیسرا حصہ سنی وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا ۔جس کے خلاف سپریم کورٹ میں 14 اپیلیں دائر کی گئی تھیں ۔بھارتی سپریم کورٹ نے 16 اکتوبر کو سماعت مکمل کرتے ہوئے آج 9 نومبر کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا ۔بھارت میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے ۔

بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلے میں کہناہے کہ بابری مسجدخالی زمین پرتعمیرنہیں ہوئی، واضح نہیں کہ مندر کومنہدم کیاگیاتھا،عدالت کیلئے مناسب نہیں وہ کسی کے عقیدے پربات کرے،بابری مسجد کیس کا فیصلہ متفقہ ہے، عبادت گاہوں کے مقام سے متعلق ایکٹ تمام مذہبی کمیونٹیزکے مفادات کاتحفظ کرتاہے،ہندووں کاخیال ہے یہ رام کی جنم بھومی ہے، عقیدے کی بنیادپرحق ملکیت طے نہیں ہوگی، بابری مسجدکے نیچے غیراسلامی عمارتی ڈھانچہ موجودتھا، 1856 تک وہاں نمازکاکوئی ثبوت نہیں تھا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے الہٰ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو غلط قرار دیدیا ہے ۔یاد رہے کہ بھارتی انتہا پسند ہندوﺅں دعویٰ کیاتھا کہ مسجد کی جگہ رام مندر ہوتا تھا جس کے بعد اسے شہید کر دیا گیا اور جھڑپوں میں تقریب دو افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔

مزید : اہم خبریں /بین الاقوامی


loading...