1992کوہندو انتہا پسندوں نے ناصرف بابری مسجد کو شہید کیا بلکہ آزادی صحافت پر منظم حملہ بھی کیا گیا، حامد میر

1992کوہندو انتہا پسندوں نے ناصرف بابری مسجد کو شہید کیا بلکہ آزادی صحافت پر ...
1992کوہندو انتہا پسندوں نے ناصرف بابری مسجد کو شہید کیا بلکہ آزادی صحافت پر منظم حملہ بھی کیا گیا، حامد میر

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نامور صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ1992کوہندو انتہا پسندوں نے ناصرف بابری مسجد کو شہید کیا بلکہ آزادی صحافت پر سب سے منظم حملہ بھی کیا گیا تھا ،واقعے میں تقریباً500 صحافیوں کوتشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

نامور صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تجزیہ دیتے ہوئے کہا بھارتی سپریم کورٹ دونوں مذاہب میں کشیدگی سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے ، فیصلے کی ٹائمنگ بہت متنازعہ ہے،پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کو کھولا جا رہا ہے جوکہ امن اور بھائی چارے کا پیغام ہے جبکہ بھارت کی جانب سے اقلیتوں کو ایذا پہچانے کی کوشش کی جا رہی ہے،1992کوہندو انتہا پسندوں نے ناصرف بابری مسجد کو شہید کیا گیا بلکہ آزادی صحافت پر سب سے منظم حملہ بھی کیا گیا تھا ،واقعے میں تقریباً500 صحافیوں کوتشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بھارت میں مسلمان ، سکھ، جین اور عیسائی بھی خوف کا شکار ہے،اقلیتوں کے جذباب کو مجرو ع کیا رہا ہے، بڑی ذات کے ہندوں دیگر نسلوں سے ناروا رویہ رکھتے ہیں۔

مزید : قومی


loading...