”اگر مودی سن رہے ہیں تو میں ان سے کہوں گا انصاف سے امن ہو تا ہے“،کرتار پور راہداری افتتاح ،عمران خان نے بھارتی وزیراعظم کیلئے پیغام جاری کر دیا

”اگر مودی سن رہے ہیں تو میں ان سے کہوں گا انصاف سے امن ہو تا ہے“،کرتار پور ...
”اگر مودی سن رہے ہیں تو میں ان سے کہوں گا انصاف سے امن ہو تا ہے“،کرتار پور راہداری افتتاح ،عمران خان نے بھارتی وزیراعظم کیلئے پیغام جاری کر دیا

  



کرتار پور ( ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مجھے سن رہے ہیں تو میں ان سے کہوں گا کہ انصاف سے امن ہوتاہے ،ناانصافی سے انتشار پھیلتا ہے ، کشمیر کے لوگوں کو انصاف دیں اور  برصغیر کو اس مسئلے سے آزاد کردیں تاکہ ہم انسانوں کی طرح رہ سکیں ،

جس طرح نوجوت نے کہا کہ بارڈر کھل جائے تجارت شروع ہو جائے تو سوچیں کہ کتنی خوشحالی برصغیر میں آئے گی اور ہم کیسے لوگوں کو غربت سے نکال سکتے ہیں ۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں آج یہ دن آپ کے ساتھ منایا کہ یہ جو پہلی مرتبہ ہندوستان سے لوگ آسکتے ہیں ، مجھے خوشی ہے کہ آج میں آپ کے ساتھ ہوں ، مجھے امید ہے کہ یہ ایک شروعات ہے ، ایک دن ہمارے تعلقات ہندوستان کے ساتھ ویسے ہوں گے جیسے ہونے چاہیے ۔انہوں نے کہا میں ایک دن دیکھ رہاہوں کہ جس طرح فرانس اور جرمنی ایک ساتھ ہیں تجارت کرتے ہیں اور بارڈر کھلے ہیں ، دونوں کے درمیان جنگیں ہوئیں ، کتنے لوگ مرے لیکن آج جا کر دکھیں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا جنگ کا، انشاءاللہ جب یہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا برصغیر میں خوشحالی آئے گی اور ہمارا خطہ اٹھے گا ، وہ دن اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ دور نہیں ہے ۔

وزیراعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کا افتتاح کر دیاہے اور اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سب سے پہلے سکھ برادری کو گرونانک کے 550 سال کی سالگرہ کی مبارک دیتاہوں اور آپ کو خوش آمدیدی کہتاہوں ، آج میں خاص طور پر آپ کو مبارک دینے کے بعد ہماری حکومت اور ایف ڈبلیو او جو سب سے آگے تھی اورساری وزارتیں جنہوں نے دس مہینے میں یہ سارا کمپلیکس بنایا ،سڑک اور پل بنایا ،ان کو خراج تحسین پیش کرتاہوں ، مجھے تو اندازہ نہیں تھا کہ میری حکومت اتنی قابل ہے ، جس طرح  آپ نے محنت کرتے ہوئے دن رات لگا کر نہایت خوبصورت کمپلیکس تیار کیا ، اس پر آپ کو صرف خراج تحسین ہی نہیں بلکہ دل دعائیں ہیں کہ اتنے زیادہ لوگوں کو خوشیاں دیں ۔

عمران خان نے کہا کہ نوجوت سدھو نے دل سے آج شعر وشاعری کی ، دل میں اللہ رہتا ہے ، جب کسی کو خوشی دیتے ہیں تو اللہ کو خوش کرتے ہیں ، جو بھی اللہ کے پیغمبر اس دنیا میں آئے وہ صرف دو پیغام لے کر آئے ، ایک انسانیت کا اور دوسرا انصاف کا ، یہ دو چیزیں انسانی معاشر ے کو جانوروں کے معاشرے سے الگ کرتی ہیں ،جانوروں میں انصاف نہیں ہوتا، جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہو تی ہے۔تمام پیغمبر وں  نے انصاف اور انسانیت کی بات کی ہے۔ان کا کہناتھا کہ سکھ برادری کے علاوہ جس نے بھی گرونانک دیو جی کا فلسفہ پڑھا تو یہی دو چیزیں سامنے آتی ہیں وہ بھی انسانیت کو اکھٹا کرنے کی بات کرتے ہیں ۔

ان کا کہناتھا کہ ہندوستان اور پاکستان میں چلے جائیں ،وہ لوگ جو انسانیت کیلئے آئے تھے ،بڑے بڑے صوفی کرام بابا فرید ؒ،نظام الدین اولیاؒ ، آج بھی لوگ ان کے مزاروں پر جاتے ہیں اور دعائیں دیتے ہیں ۔عمران خان کا کہناتھا مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کہ کرتار پور کی سکھ کمیونٹی میں کیا اہمیت ہے ، مجھے ایک سال پہلے پتا چلاہے ، پاکستانیوںکو بتاتا ہوں کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم مدینہ کو چار پانچ کلومیٹر کو دیکھ سکیں لیکن قریب نہ جا سکیں ، کتنی تکلیف ہو مسلمانوں کو ، یہ دنیا کی سکھ برادری کا مدینہ ، مجھے آپ کی خوشی دیکھ کر خوشی ہے ۔

عمران خان کا کہناتھا کہ لیڈر انسانوں کو اکھٹا کرتاہے ، تقسیم نہیں کرتا اور نفرت نہیں پھیلاتا،نفرتیں پھیلا کر ووٹ نہیں لیتا ، جب تک جنوبی افریقہ رہے گا لوگ ہمیشہ نیلسن مینڈلا کو دعائیں دیں گے کیونکہ اس نے انسانوں کو اکھٹا کیا ، وہاںگورے ایک طرف ، حبشی ایک طرف ، ایشین ایک طرف تھے ،سب تقسیم تھے ، کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا تھا کہ جنوبی افریقہ میں امن ہو گا اور انصاف ملے گا ، سب سمجھتے تھے کہ ایک دن خون ہو گا لیکن ایک لیڈر 27 سال جیل میں گزارتاہے اور ظالموں معاف کردیتاہے اور جنوبی افریقہ کو خون سے بچا لیتاہے۔

عمران خان کا کہناتھا کہ ہمارے دین میں لکھاہے کہ ایک انسان کا قتل ایسے ہے جیسے پوری انسانیت کا قتل ہے ۔ نوجوت سنگھ کی سرحدیں کھولنے کی بات پر جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں جیسے ہی وزیراعظم بنا میں نے مودی سے پہلی بات یہ کی کہ سب سے بڑا مسئلہ ہمارے بر صغیر میں غربت ہے ،اگر بارڈر کھل جائیں اور تجارت ہو تو خوشحالی آسکتی ہے ، ہمارا ایک مسئلہ کشمیر کا تھا اور اسے ہم ہمسایوں کی طرح بات چیت کر کے ختم کر سکتے ہیں ۔

عمران خان کا کہناتھا آج کشمیر میں جو ہو رہاہے وہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے ، 80 لاکھ لوگوں کے انسانی حقوق ختم کر کے انہیں نو لاکھ فوج سے بند کیاہواہے ، یہ انسانیت کا ایشو ہے ، ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جارہاہے ، اقوام متحدہ کی جانب سے دیا جانے والا حق لے لیا گیاہے، کبھی اس طرح امن نہیں ہو گا ۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی


loading...