خواتین مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مرکوز سوچ کی مالک ہوتی ہیں: نمیرہ محسن

خواتین مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مرکوز سوچ کی مالک ہوتی ہیں: نمیرہ محسن
خواتین مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مرکوز سوچ کی مالک ہوتی ہیں: نمیرہ محسن

  



‎الخوبر (محمد اکرم اسد) خواتین مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مرکوز سوچ کی مالک ہوتی ہیں اور اپنےاہداف کو حاصل کرنےکے لئے بہت سنجیدگی اور بھرپور لگن کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مہمان مقرر نمیرہ محسن نے اپنی تقریر میں ایلیٹ کلب سعودی عرب کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ورکشاپ جو “ کنیکٹڈ وومین “ کو سعودی عرب میں پہلی بار متعارف کرانے کے لئے منعقد کی گئی تھی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کنیکٹڈ وومین ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو کاروباری اور ملازمت پیشہ خواتین کی رہ نمائی اور ان کو بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے سے روابط قائم کرنے میں مدد کرتی ہے تاکہ وہ اپنے کاروباری اہداف حاصل کر سکیں۔ورکشاپ کا اہتمام ایلیٹ کلب کی بانی جویریہ اسد نے اپنے کلب کی سینئر رکن صبا ادریس اور شازیہ علی کےساتھ ملکر کیا۔ ورکشاپ میں بڑی تعداد میں  مختلف ملکوں کی خواتین  نے شرکت کی جن میں فلپائن ، نائیجیریا ، پاکستان ، ہندوستان ، سری لنکا ، اردن  رشیا، لبنان وغیرہ شامل ہیں۔

‎ورکشاپ کا ایجنڈا کچھ معلوماتی پریزنٹیشنز پر مشتمل تھا  جن میں گھریلو خواتین کو گھربیٹھے کسی پیشے سے منسلک ہونے اور کاروباری خواتین کواپنےکام کو مزید ترویج دینے کے کچھ بین الاقوامی اصول شامل تھے۔

‎جویریہ اسد نے مہمانوں کا استقبال کرنے کے بعد  تنظیم اور اس کے کام کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں ایک تعارفی پریزنٹیشن دی، بعدازاں انہوں نے بتایا کہ ہم اپنی زندگی کو بامقصد بنانے کے لئے اپنے شوق کو اپنا کیریئر منتخب کرسکتے ہیں۔

‎صبا ادریس نے کچھ  محدود وسائل کے ساتھ گھریلو  پیمانے پر کاروبار کو شروع کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں کچھ رہنما اصول بیان کیے۔ شازیہ علی نے کمیونٹی سے منسلک ہونے کے لئے مارکیٹنگ کی اہمیت کی وضاحت کی۔

‎بعد میں   مہمانوں کے ساتھ بات چیت کے لئے ایک نشست رکھی گئی جس میں کلب میمبرز زہرہ زاہد، غزالہ اسامہ اور شفق عمران شامل تھیں۔ نشست کا موضوع کمیونٹیز کے باہمی روابط پر مشتمل تھا۔ تمام مہمانوں نے نشست میں بھرپور حصہ لیا اور منتظمین کی کاوشوں  کو بہت سراہا۔آخر میں ورک شاپ میں  شریک تمام خواتین کو اعزازی سرٹیفکیٹ  بھی  دیئے  گۓ.

مزید : عرب دنیا


loading...