کسی کی غلامی ، انگوٹھا چھاپ حکومت قبول نہیں، جائز اور جمہوری حکومت چاہتے ہیں : مولانا فضل الرحمان

کسی کی غلامی ، انگوٹھا چھاپ حکومت قبول نہیں، جائز اور جمہوری حکومت چاہتے ہیں ...
کسی کی غلامی ، انگوٹھا چھاپ حکومت قبول نہیں، جائز اور جمہوری حکومت چاہتے ہیں : مولانا فضل الرحمان

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علماءاسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ہم اس ملک میں آزاد رہ کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں، کسی کی غلامی کو قبول نہیں کریں گے، ہم پر انگوٹھا چھاپ اسمبلیاں اور حکومت مسلط کردی گئی ہے جن کو ہم تسلیم نہیں کرتے ، ہم ملک میں جائز اور جمہوری حکومت کا قیام چاہتے ہیں، ہمارے عقلمند لوگوں کی نظریں ناک سے آگے نہیں جاتیں۔

آزادی مارچ میں سیرت طیبہ ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس سیرت کانفرنس کے ذریعے دنیا کو پیغام جا رہا ہے کہ پاکستان کے عوام حضورﷺ سے کس قدر محبت رکھتے ہیں، اب کسی کو ناموس رسالت سے کھیلنے کی ہمت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عظیم مقاصدکیلئے حاصل کیاگیا اور اس کیلئے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں، نام ہم آزادی کا لیتے ہیں لیکن پاکستان کوکالونی بنادیاگیاہے ، پاکستان کومغرب کا گروی بناکر رکھ دیا گیاہے،ہم دنیا میں دوست بڑھانا چاہتے ہیں لیکن اس ملک میں غلام بن کر زندگی نہیں گزاریں گے، ہم امریکہ اور یورپ سے بھی دوستی کریں گے لیکن غلامی نہیں کریں گے، جھگڑا اسی بات کا ہے کہ وہ ہمیں غلام بنانا چاہتے ہیں لیکن ہم اس کیلئے تیار نہیں ہیں، ہم عزت والی قوم بننا چاہتے ہیں، سر جھکا کر ذلت والی قوم نہیں بننا چاہتے۔

جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم پر انگوٹھا چھاپ اسمبلیاں اور حکومت مسلط کردی گئی ہے، ہم انگوٹھا چھاپ اسمبلیوں کو تسلیم نہیں کریںگے، ہم ملک میں جائز اور جمہوری حکومت کا قیام چاہتے ہیں، ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں آکر اپنے کام سے کام رکھے تو کوئی تنازعہ پیدا نہ ہو۔

کرتار پور راہداری کے افتتاح اور بابری مسجد کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کرتار پور کے پیچھے آپ کے مقاصد جو بھی تھے لیکن ہندوستان نے کیا کیا؟ آج ہی کے دن بابری مسجد کا فیصلہ مسلمانوں کے خلاف دے دیا، یہ ہیں ہمارے عقلمند لوگ جن کی نظریں ناک سے آگے نہیں جارہیں۔

مزید : Breaking News /قومی


loading...