نیا امریکہ اور بدلا ہوا پاکستان

نیا امریکہ اور بدلا ہوا پاکستان
نیا امریکہ اور بدلا ہوا پاکستان

  

ہلالِ پاکستان یافتہ ڈیموکریٹک پارٹی کے جو بائیڈن امریکہ کے 46 ویں صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ وہ 20 جنوری کو چار سال کے لئے وائٹ ہاؤس میں براجمان ہو جائیں گے۔ جو بائیڈن کے اوول آفس میں بیٹھنے کے بعد دنیا بھر میں بکھرے امریکی مفادات کو ”ری سیٹ“ کرنے کا ایک نیا عمل شروع ہو جائے گا،جس سے دنیا کے اکثر ممالک اور خطوں میں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں گی۔ پاکستان بھی ان نئی امریکی پالیسیوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ صدر ٹرمپ کے دور میں پاکستان میں شروع کی جانے والی ”ہائبرڈ“ حکومت کو ڈیموکریٹک پارٹی اور صدر جو بائیڈن کی آشیرباد حاصل ہو گی یا نہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ امریکہ کی بھارتی نژاد نائب صدر کمالا ہیرس کے پاکستان کے بارے میں کیا خیالات ہوں گے، کیونکہ امریکی نائب صدر بھی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ تاریخی طور پر امریکہ کی ری پبلکن پارٹی پاکستان میں اعلانیہ یا غیر اعلانیہ فوجی حکومتوں کی پشت پناہی کرتی رہی ہے لیکن ڈیموکریٹک پارٹی کی پالیسی (ایک آدھ استثنا کے ساتھ) زیادہ تر جمہوری عمل کی حامی رہی ہے۔ پاکستان نے آخری بار جب 2008ء میں مارشل لاء سے نجات حاصل کی تھی اس وقت بھی جو بائیڈن ان لوگوں میں سر فہرست تھے،

جو پاکستان میں جمہوری حکومتوں کی بحالی کے لئے پیش پیش تھے اور امریکہ کے نائب صدر کی حیثیت سے انہوں نے جمہوریت کی بحالی کے بعد دو مرتبہ 2008ء اور 2011ء میں پاکستان کے سرکاری دورے کئے تھے۔ پاکستان میں جمہوری حکومت کے مالی استحکام کے لئے کیری لوگر بل بھی جو بائیڈن کی تحریک سے آیا تھا، بلکہ شروع میں یہ بائڈن لوگر بل تھا، لیکن بائیڈن کے نائب صدر بن جانے کے بعد اس پر باقی کا کام جان کیری نے کیا اور اس لئے یہ کیری لوگر بل کہلایا۔ 2008ء میں جب امریکہ میں باراک اوبامہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت آئی تھی تو جو بائیڈن نائب صدر اور ہیلری کلنٹن وزیر خارجہ تھیں اور جب 2012ء میں باراک اوباما اپنی دوسری مدت کے لئے صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے جو بائیڈن کو نائب صدر کے طور پر برقرار رکھا،جبکہ جان کیری کو وزیر خارجہ بنایا۔ چونکہ جو بائیڈن آٹھ سال تک امریکہ کے نائب صدر رہنے کے بعد صدر بنے ہیں اِس لئے دُنیا بھر میں بکھرے امریکی مفادات کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور پاکستان اور خطہ کے تمام مسائل سے بھی نہ صرف بخوبی آشنا ہیں،بلکہ مخصوص خیالات اور پالیسی رکھتے ہیں۔ اِس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ پاکستان کو اس کے اپنے تناظر میں دیکھیں گے اور ماضی کی امریکی حکومتوں کی غلطی نہیں دہرائیں گے،جو پاکستان کو افغانستان میں امریکی مفادات کے تناظر میں دیکھتی رہی ہیں۔ 

جو بائیڈن اور کمالا ہیرس کے وائٹ ہاؤس میں ہوتے ہوئے پاکستان میں غیر جمہوری رحجانات کی سخت حوصلہ شکنی ہوگی اور زیادہ امکانات یہ ہیں کہ ”ہائبرڈ“ کی بجائے پاکستان میں مکمل جمہوریت کی بحالی کے لئے دباؤ ڈالا جائے، جیسا کہ 2008ء میں ہوا تھا۔ پاکستان کے موجودہ مخصوص سیٹ اپ کو صدر ٹرمپ کی حمائت حاصل تھی اور ان کے رخصت ہوجانے کے بعد ان کے دامادجیرڈ کوشنر کا اثر و رسوخ باقی نہیں رہ سکے گا، جس کی وجہ سے پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسیوں میں تبدیلیاں آئیں گی۔ میاں نواز شریف کئی دہائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں، اِس لئے وہ امریکی حکومتوں کے مزاج، پالیسیوں اور رویوں کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں اور چونکہ جو بائیڈن کے الیکشن جیتنے کی بھاری توقع کئی مہینوں سے کی جا رہی تھی اور تمام تجزئیے اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ امریکی الیکشن میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جیت کے زیادہ امکانات ہیں اس لئے میاں نواز شریف نے اس بات کی نزاکت سمجھتے ہوئے پہلے سے ہی ملک میں جمہوریت کی مکمل بحالی کا سٹیند لے لیا تھا۔ نئی امریکی انتظامیہ کی سوچ پاکستان میں حکومت سے زیادہ اپوزیشن کی سوچ کے قریب ہے اِس لئے پاکستان میں نیم جمہوری کی بجائے مکمل جمہوری حکومت کی راہ ہموار ہوگی اور ایک صفحہ والابیانیہ غیر متعلق ہو جائے گا۔ صدر ٹرمپ کا دور میڈیا کے لئے پریشان کن تھا اور اس کے اثرات پاکستان تک پہنچے جس میں میڈیا کو جبر اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ صدر بائیڈن میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں اس لئے مجھے امید ہے پاکستان میں بھی میڈیا پر دیکھی اور ان دیکھی بندشیں کمزور ہو جائیں گی۔

میاں نواز شریف کے سویلین بالادستی کے بیانیہ کو صدر بائیڈن کے دور میں زیادہ بہتر انداز میں سمجھا جائے گا، جس کی وجہ سے پاکستان میں دوررس تبدیلیاں ہوں گی۔اسی لئے مریم نواز شریف نے گلگت بلتستان کے ایک جلسہ میں کہا ہے کہ جلد بدلا ہوا پاکستان نظر آئے گا۔ یقینا اس سے ان کی مراد سویلین بالادستی اور مکمل جمہوریت کی طرف مراجعت ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان میں تیزی سے وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ حافظ آباد کے جلسہ میں بھی وہ پرانی گھسی پٹی باتیں ہی کرتے رہے جن کی عوام کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہے، کیونکہ عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، لیکن حقائق سے یکسر لا تعلق عمران خان کہہ رہے کہ پہلی بار عام آدمی مطمئن ہے۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ وزیراعظم کو صرف ”سب اچھا“ کی رپورٹ پہنچائی جاتی ہے اور اسے عوام میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ اگر اپوزیشن آرام سے گھر بیٹھ بھی جائے تو بھی مہنگائی اور بے روزگاری حکومت کے لئے ایسے تشویش ناک حالات پیدا کردے گی جسے سنبھالنا کسی کے بس میں نہ ہو گا۔ نیا امریکہ جمہوری بالادستی کا امریکہ ہے کیونکہ امریکی عوام نے نہ صرف جو بائیڈن کو صدر منتخب کیا ہے، بلکہ ایوان نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی کو واضح اکثریت دلا دی ہے اور دوسری طرف سینیٹ میں تعداد کی کمی کو پورا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے صدر بائیڈن کو اب کوئی بل پاس کرانے میں کوئی دشواری نہیں ہو گی اور وہ آزادانہ اپنی پالیسیوں کا نفاذ کر سکیں گے۔ نیا امریکہ صرف امریکہ کے لئے ہی اہم نہیں ہے،بلکہ آنے والے مہینوں میں ہم ایک بدلا ہوا پاکستان بھی دیکھیں گے۔ 

مزید :

رائے -کالم -