وزیراعطم نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیخلاف ریفرنس پر کابینہ کو نظر انداز کیا: جسٹس مقبول باقر

  وزیراعطم نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیخلاف ریفرنس پر کابینہ کو نظر انداز کیا: ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ کے جج جسٹس مقبول باقر کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کو بھجوانے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اپنی کابینہ کو نظرانداز کیا۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ کابینہ ایگزیکٹو کا اعلیٰ ادارہ ہے جس کی اعلیٰ آئینی حیثیت ہے، وزیر اعظم کی جانب سے اسے فیصلہ سازی کے لیے محض ربڑ اسٹیمپ کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔4 نومبر کو جاری ہونے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق فیصلے میں اپنے 68 صفحوں کے اس متنازع نوٹ میں جسٹس مقبول باقر نے مشاہدہ کیا کہ وزیر اعظم کی جانب سے فیصلہ سازی کے لیے کابینہ کو شامل نہ کرنہ اور اسے ربر اسٹیمپ بنادینا آئین کی اصل روح کی خلاف ورزی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کابینہ کے طرز کی حکومت کو تبدیل کرکے وزیر اعظم کے طرز کی حکومت بنادیا جائے جو آئین سے متصادم تصور ہے۔جسٹس باقر نے وضاحت دی کہ 'اگر ہم وزیر اعظم کے عہدے کو کابینہ کے مترادف سمجھتے ہیں تو اس کے بعد وزیر اعظم خود ایک فرد کی حیثیت سے وفاقی حکومت بن جاتے ہیں، یہ ناقابل فہم ہے'۔جسٹس باقر نے متنبہ کی کہ یہ آئینی جمہوریت سے دشمنی ہے جو بادشاہ لوئس چودھویں کے مشہور دعوے کی یاد دلاتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 'میں ہی ریاست ہوں '۔سپریم کورٹ کے جج نے فیصلے میں لکھا کہ 'اس طرح وزیر اعظم کے اپنے اقدام پر کیے جانے والے کسی بھی فیصلے میں قانون یا آئین کا اختیار موجود نہیں '۔

جسٹس مقبول باقر

مزید :

صفحہ اول -