علامہ اقبالؒ کے ہاں شوخی بھی ہے اور عشق کی جذب و مستی بھی

      علامہ اقبالؒ کے ہاں شوخی بھی ہے اور عشق کی جذب و مستی بھی
      علامہ اقبالؒ کے ہاں شوخی بھی ہے اور عشق کی جذب و مستی بھی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  جب بھی کبھی علامہ اقبالؒ کے ان اشعار پر نظر پڑتی ہے، دل و دماغ جھوم جاتے ہیں اور اس طرح کی گہری اور معنی خیز بات تو اقبال ہی کر سکتا ہے۔اقبال اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر اپنی مخصوص لہر میں یوں عرض پرداز ہے۔  

تیری دنیا جہان مرغ و ماہی

میری دنیا فغان صبح گاہی

تیری دنیا میں، میں مجبور و محکوم

میری دنیا میں تیری پادشاہی

علامہ اقبالؒ فلسفی شاعر بھی، شاعر فطرت بھی ہے، عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہے، آزادی اور حریت کا علمبردار بھی ہے، اس کے ہاں شوخی بھی ہے، کہ

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی

بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں 

اور پھر یوں بھی کہا کہ

نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی

مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی

اور ہلکی سی شرارت بھی ہے۔         

ہے حسینوں میں وفا ناآشنا تیرا خطاب 

اے تلون کیش، تو مشہور بھی،رسوا بھی ہے

لے کے آیا ہے جہاں میں عادت سیماب تو

تیری بیتابی کے صدقے، ہے عجب بیتاب تو

اور کبھی کہا کہ،

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں 

میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں 

اور کبھی زاہد کو چٹکی کچھ یوں بھری،

گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوت

اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی

علامہ اقبالؒ جب عشق پر بات کرتے ہیں تو تو ڈوب کر کرتے ہیں۔ وہ عشق حقیقی اور عشق جاودانی کی بات کرتے ہیں اور اقبال کی شاعری کا محور تو یہی عشق ہے، جس کی کسک، جس کی لگن، جس کی چاشنی، جسکی رنگینی،جس کی جزب و مستی  نے کلام اقبال کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ویسے تو اقبال کی ساری شاعری میں عشق کی مہک جاوداں رچی بسی ہے، مگر ”بال جبریل“ میں یہ عشق ایک نرالی آن اور شان سے جھلک اور ڈھلک رہا ہے۔

عشق بھی ہو حجاب میں، حسن بھی ہو حجاب میں 

یا تو خود آشکار ہو،یا مجھے آشکار کر

وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے

غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا

نگاہ عشق و مستی میں، وہی اؤل، وہی آخر

وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یاسین وہی طٰہ

 اور      

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی

کْھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی

عشق تری انتہا، عشق میری انتہا

تو بھی ابھی ناتمام، میں بھی ابھی ناتمام

جب علامہ اقبالؒ اعلیٰ تعلیم کے لئے لندن میں تھے تو ان کے بیٹے ڈاکٹر جاوید اقبال جو اس وقت چھٹی یا ساتویں جماعت کے طالب علم تھے،نے اپنے والد کو لندن میں ایک خط لکھ کر اپنے لئے گراموفون منگوانے کی فرمائش کی، تو اقبال نے عشق کی کئی پرتیں کھولتے ہوئے ایک شاہکار نظم اپنے لخت ِ جگر کو بھیجی، جسکے دو  تین شعر ہی فلسفہ عشق کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں۔

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

اٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساں 

سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر

خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو

سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر 

 اور پھر اس دوامی اور لا زوال عشق کے بارے میں یہ کہہ کر بات ہی ختم کر دی۔ کہ

کیا عشق ایک زندگی مستعار کا

 کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا

وہ عشق، جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک

اس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا

عشق کی تپش اور حرارت،کیف و مستی،  کلامِ اقبال میں جا بجا موجود ہے۔ اقبال عشق الہٰی میں تو ڈوبا ہوا ہے ہی، وہ ایک بڑا اور اخلاص والا عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہے، وہ اہل ِ بیت اطہار علیہ السلام کا ثنا خواں اور پرستار بھی ہے، وہ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قدر دان اور انکے عشق رسول پر داد و تحسین کے پھول بھی نچھاور کرتا نظر آتا ہے۔علامہ اقبال مولا علیؓ کو اور دیگر اہل بیت کو اپنے فارسی کلام میں جابجا نہایت دلنشیں انداز میں نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں اور سید الشہداء حضرت امام حسینؓ کو  بزم عاشقان کے صدر نشین گردانتے ہوئے ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

آں امام عاشقاں پور بتولؓ

سرو آ زادے زبستان رسولؐ

اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر

معنی ذبح عظیم آمد پسر

غرض علامہ اقبالؒ کی شاعری میں عشق کی ہر رمز، ہر استعارہ، ہر تشبیہ، ہر اشارہ، ہر کنایہ، پوری آب و تاب سے جلوہ فگن ہے۔ اقبال عشق حقیقی کی ہر لے اور ہر ادا سے نہ صرف واقف ہیں  بلکہ خود بھی اسی کیفیت  کی سرشاری اور وارفتگی میں گرفتار ہے۔ عشق کی جو گہرائی، جو وسعت اور جو جہتیں اقبال کی شاعری میں نظر آتی ہیں وہ کسی دوسرے شاعر کے ہاں ممکن ہی نہیں۔ کہ علامہ اقبال صرف شاعر ہی نہیں ایک درویش، صوفی، سر تا پا عشق ہی عشق ہے۔ 

علامہ اقبال کے یوم ولادت پر لکھی گئی خصوصی تحریر۔

مزید :

رائے -کالم -