عشقِ رسول ﷺ کی تازہ لہر (1)

عشقِ رسول ﷺ کی تازہ لہر (1)
عشقِ رسول ﷺ کی تازہ لہر (1)

  

اگرہم بتائیں کہ ہمیں حضرت محمد مصطفی سے محبت ہے تو ہماری روحیں سکون نگر بن جاتی ہیں، اگر ہم کہیں شمس الضحیٰ ﷺ سے ہمیں پیار ہے توہمیں پھر بھی وجد وسرور کے جام ملتے ہیں ۔اگر ہم بولیں ہمیں ماہ مدینہ سے عقیدت ہے توہمارے دلوں میں چاندنی تیز ہو جاتی ہے ۔اگر ہم ذکر کریں کہ ہمیں سرور کونین سے عقیدت و ارادت ہے توہمارے دل و دماغ پر سکینہ کا نزول ہوتا ہے ،مگر جب سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا کے چاند کے بارے میں شوق کو عشق سے تعبیر کریں تو اس کا اپنا انداز ہے ۔ عربی لغت کے مطابق جب محبت پختہ ہو جاتی ہے تو عشق کا روپ اختیار کر لیتی ہے ، چنانچہ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی لکھتے ہیں کہ عشق رسول ﷺ تو ایمان ہے ،ایمان کی جان ہے ،جان کا چین ہے اور چین کا سامان ہے ۔

سرورکونین ، خاتم الانبیاءحضرت محمد مصطفی کو خالق کائنات جل جلالہ نے وہ منفرد محبوبیت عطا فرمائی ہے کہ ابتدائے آفرینش سے لے کر قیامت کے رونما ہونے کے بعد خلود میں بھی آپ سے عشق و محبت کا سلسلہ پھیلا ہو اہے ۔ مخلوقات کے مختلف طبقات اس سوغات کے امین ہیں ،فرش سے لے کر عرش تک آپ کے عشق کا جھنڈا لہرا رہا ہے، قوس قزح اور کہکشاں کے نکھار میں یہی سوز جلوہ گر ہے ۔ آپ سے چڑیا اور چکور کی الفت ،آپ سے مچھلی اور مور کی محبت ، شمس و قمر کے سینے میں آپ کی چاہت، جگر لالہ میں آپ کے عشق کا فیض ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ آپ سے پہاڑوںکی چوٹیاں اور درختوں کی ٹہنیاں پیار کرتی نظر آئیں ، شجر و حجر آپ پر درود و سلام میں مگن پائے گئے۔ جانور قدموں سے لپٹے اور منیٰ کے میدان میں قربانی کے وقت اونٹ چھری چومنے کے لئے آپ کی طرف دوڑ پڑے:

 عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دھوم دھام

کان جد ھر لگائیے  تیری ہی داستان ہے

مگر حضرت انسان نے جوآپﷺ کے ساتھ عشق کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے ۔آپ کی محبت کا رنگ اتنا گہرا ہے کہ جب چڑھ جائے تو اترتا ہی نہیں ،آپ کی عقیدت کا نور اتنا طاقتور ہے ، جو ظلم و ستم کی آندھیوں میں بھی بجھتا ہی نہیں ،آپ کے عشق میں ایسی مٹھاس ہے جس کا ذائقہ کبھی تلخ ہوتا ہی نہیں ۔آپ کے عاشق موت کے منہ میں بھی مسکراتے رہتے ہیں ، آپ کے دیوانے شروع ہی سے طاغوت کو نیچا دکھاتے رہتے ہیں۔ ذات نبی کی خاطر اپنے آپ کو بھول جانا اور شان پیغمبر کی خاطر موت کے پھندے پر جھول جانا گدایان طیبہ کا ہمیشہ شیوہ رہا ہے ۔ دور صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے لے کر آج تک ہر ماہ و سال اور لمحہ و گھڑی میں عشق سوئے دار و رسن زخم کھاتا اور مسکراتا بڑھتا رہاہے :

حُسنِ یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشت زناں

سر کٹاتے ہیں تیرے نام پہ مردان عرب

عشق مصطفی کا جھنڈا ہر دور میں لہراتا رہا، ان غازیوں کی ٹھوکروں کا مقابلہ کرنے میں بڑے بڑے نامور اپنا نام تک گم کروا بیٹھے ، اور بڑے بڑے تاجور اپنے تاج و تخت سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ آپ کے شیدائیوں کی ہیبت سے بڑے بڑے جابروں کے ایوانوں پر لرزہ طاری رہا ہے ۔عشق رسول ﷺ سے کائنات کو ایسی اعلیٰ قیادت نصیب ہوئی جن کے کردار پر قدسی بھی رشک کرنے لگے۔ عشق رسول ﷺ علم و عمل ،عدل وانصاف ، ایثار و اخوت ، شرم و حیا ، امن و رحمت ، فداکاری اور وفاشعاری کی شکل میں امت مسلمہ کی گزشتہ ہر صدی کی ہر گھڑی میں موجود رہا ہے ۔ جو عشق رسول ﷺ بدر وحنین ، یمامہ اور کربلا میں سرگرم رہا ۔جو عشق رسول ﷺ حضرت معاذ و معوذ رضی اللہ تعالی عنھما کی چمکتی تلواروں میں جلوہ گر رہا ۔جو عشق رسول ﷺ حضرت محمد بن مسلمہ اور حضرت عمیر خطمی رضی اللہ تعالی عنہماکے سینوں میں موجزن رہا ۔آج وہی عشق پھر انگڑائی لے رہا ہے

آج منحوس اور پلید سوچوں نے جب رفعت مصطفی کی روزافزوں تجلیوں اور عظمت مصطفی کی چٹکتی کلیوں سے حسد و بغض کی بنا پر گستاخانہ فلم تیار کی تولیبیا ، سوڈان ،تیونس ، یمن ،مصر سے لے کر پاکستان تک، بلکہ شرق و غرب کے پورے جہاں تک ایک ہلچل مچ گئی ہے۔ گستاخانہ فلم کے رد میں جس طرح عاشقان رسول ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور مختلف ملکوں اور شہروں میں روزانہ عشق ومستی کے غیور قافلے امریکی سفارتخانوں کی طرف دھاڑتے اور للکارتے ہوئے بڑھ رہے ہیں ،میری آنکھ کو مستقبل کا کچھ اور ہی منظر نظر آرہا ہے ۔

21 ستمبر 2012ءکا دن اسلامیان پاکستان کی تاریخ کا ایک نہایت خوشگوار اور یاد گار دن ہے۔ حکومت پاکستان کی یہ سعادت ہے کہ اس نے گستاخانہ فلم کے رد عمل میں سرکاری سطح پر ”یوم عشق رسول ﷺ “منانے کا اہتمام کیا ۔اگرچہ مسلمانوں کے لئے ایک دن کیا ہر دن ہی، بلکہ ہر گھڑی ہی عشق رسول ﷺکے لئے وقف ہے، لیکن کسی ایک دن کو کسی عظیم نام سے منسوب کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔اس دن قوم کا جوش و خروش دیدنی تھا ، گلیوں کی چھوٹی انجمنوں سے لے کر ملک گیر اور انٹرنیشنل جماعتوں تک لوگ جذبہ عشق رسول ﷺ سے سرشار تھے ۔چھوٹے چھوٹے بچوں سے لے کر لاغر اور نحیف بوڑھوں تک ،عورتیں ،مرد سب ”ہم عظمت رسول ﷺ کے پاسباں ہیں پاسباں “ کے نعرے لگا رہے تھے ۔چوکوں ،چوراہوں ،مکانوں ،دکانوں، فیکٹریوں اور گاڑیوں پر رسول ہاشمی سے اظہار محبت کے بینر آویزاں تھے اور مظاہرین کی پُرنور اور پُرجوش جبینوں پر یہی لکھا نظر آ رہا تھا ۔

شراب عشق احمد میں کچھ ایسی کیف و مستی ہے

کہ جان دے کر بھی اک دو بوند مل جائے تو سستی ہے

 بلاشبہ کروڑوں لوگوں نے دیہاتوں ،قصبوں اور شہروں میں دکانیں اور کاروبار زندگی بند کر کے چھوٹی چھوٹی گلیوں سے بڑی بڑی شاہراہوں تک ناموس مصطفیﷺ پر مر مٹنے کا اظہار کیا ۔ لوگوں کے لہجے میں امریکی، یہودی گستاخوں کے بارے میں شدید نفرت تھی اور گستاخان رسول ﷺ پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑنے کا جذبہ موجود تھا ۔اس دن مفلس و نادار لوگ بھی طاغوت کے مقابلے میں آہنی دیوار بن جانا چاہتے تھے۔ ہر شخص کی زبان سے نکلنے ولا نعرہ ایک شعلہ محسوس ہوتا تھا ۔لوگوں کے جذبات اور احساسات کی تپش یہ واضح کر رہی تھی:

 ناموس نبی کی خاطر ہم ہر باطل سے ٹکرائیں گے

 جو راہ میں ہماری آئے گا ہم اس کو مار گرائیں گے

 مَیں نے اس روز نماز جمعہ کے بعد گوجرانوالہ سے لاہور شملہ پہاڑی تک کے سفر میںحب رسول ﷺ کے عجیب و غریب مناظر دیکھے۔ اس دن کی ہڑتال میں کسی لیڈر یا جماعت کی کال کا منظر نہیں، بلکہ جذبہء بلال رضی اللہ تعالی عنہ کا منظر نظر آ رہا تھا۔لوگ کسی تنظیم کا ممبر ہونے کی وجہ سے نہیں ،بلکہ عاشق پیغمبرﷺ ہونے کی وجہ سے گھروں سے نکل آئے تھے ۔گلیوں ،بازاروں، بالکونیوں اور چھتوں پر یوں ہجوم تھا، جیسے ”طَلَعَ ال±بَد±رُ عَلَی±نَا “کا زمانہ لوٹ آیا ہے ۔فضائیں ” کُلُّنَا فِدَاکَ یَا رَسُو±لَ اللّٰہِ ﷺ“ سے گونج اٹھیں ۔ حکومت کے ”یوم عشق رسول ﷺ “منانے کے پس پردہ مقاصد کیا تھے ؟یہ تو وقت بتائے گا ، مگر بظاہر یہ ایک اچھا اور اہم اقدام تھا ، لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ حکومت ،اس کے وزرا ءاور اہم شخصیات عوام میں نہ آ کر اور ریلیوں میں شرکت نہ کر کے زخمی اور دکھی عاشقان رسول ﷺ سے اظہار ہمدردی اور اظہار یکجہتی میں ناکام رہے ہیں ۔ جس وجہ سے عوام جوپہلے ہی حکمرانوں کو امریکی غلام سمجھتے ہیں، نالاں اور غیظ و غضب میں نظر آئے ۔اگر حکمران عوام کو مطمئن کرتے تو اشتعال کی لہر نہ اٹھتی ، حکمران قوم کی ڈھال اور زبان ہوتے ہیں۔ جب ڈھال سہارا نہ بنے اور زبان گنگی ہو جائے توانسان ایک بے صبری کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ (جاری ہے)   

مزید :

کالم -