مہنگائی.... حکومت کا اکلوتا ہنر

مہنگائی.... حکومت کا اکلوتا ہنر
مہنگائی.... حکومت کا اکلوتا ہنر

  

                                                            ایک مشہور شاعر کا مخمصہ یہ تھا کہ اگر وہ محبت میں ناکام ہو گیا تو کیا کرے گا ” مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا“۔ انتخابی مہم اور میڈیا ٹاک شوز میں میاں نواز شریف اور اُن کی ٹیم نے قوم کو بار بار یقین دلایا کہ انہیں بہت کچھ کرنا آتا ہے۔ بس ذرا ایک آزمائش شرط ہے، چار ماہ ہونے کو آئے ہیں، اب تک اٹھائے جانے والے ہر قدم سے یہ شبہ اب یقین میں بدل رہا ہے کہ حکومت کو فقط ”مہنگائی“ کا کام آتا ہے، سو دے دھنا دھن....

غیر ملکی کرنسی کے ذخائر گزشتہ کئی سال سے مفلس کے چراغ کی طرح گُھٹ رہے تھے۔ اس کے باوجود روپے اور ڈالر کا تعلق100روپے کے لگ بھگ بھلا چنگا نبھ رہا تھا، لیکن چند روز قبل انٹر بنک میں روپے کی وہ دھلائی ہوئی کہ111روپے پر جا کر بلبلا اُٹھا۔ اسٹیٹ بنک کے ذریعے بعدازاں وقتی طور پر 100روپے کے لگ بھگ معاملہ رفع دفع ہوا ہے، لیکن ماہرین معیشت اور افواہ ساز بضد ہیں کہ روپے کی اصل جگہ110روپے فی ڈالر ہے، بلکہ کچھ فراخ دل تو اسے115روپے فی ڈالر دیکھنے کے دعویدار ہیں۔ یار لوگوں نے اسحاق ڈار اور اُن کی ٹیم کے ہاتھوں ڈالر کی یہ درگت دیکھ کر اُن کے نام میں ڈالر کا اضافہ بھی کر ڈالا ہے، یعنی اسحاق ڈالر۔

ملکی تجارت میں درآمدات کا حجم برآمدات سے تقریباً دوگنا ہے۔ مندا روپے کی بے قدری سے مہنگائی کا ایک ریلابہہ نکلا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، صنعتوں کے لئے بجلی کی قیمتوں میں 55سے70 فیصد تک اضافہ کیا جا چکا ہے۔ صارفین کے لئے ایسے ہی ہوش ربا اضافے کا نوٹیفکیشن وقتی طور پر سپریم کورٹ کے انتباہ کی وجہ سے واپس ہوا ہے، لیکن اب قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ یہ اضافہ جلدہی نافذ العمل ہورہا ہے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بجٹ میں سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے سے خاطر خواہ تسلی نہیں ہوئی، لہٰذا گزشتہ ہفتے30کے لگ بھگ اشیاءپر سیلز ٹیکس کی شرح 17سے بڑھا کر19فیصد کر دی گئی ہے۔ میڈیا اور عوام بلبلا رہے ہیں کہ روزمرہ اور خوردو نوش کی اشیاءمیں 30فیصد سے بھی زائد اضافہ ہو چکا ہے.... حکومت کا یقینا یہ منشا نہیں ہو گا، لیکن صرف چار ماہ میں عوام و خواص کے ایک خاصے بڑے حصے کو اب پی پی پی کی یاد آنا شروع ہو گئی ہے، بلکہ فیصل آباد کے ضمنی انتخابات میں ووٹرز نے اپنے غصہ سے مسلم لیگ(ن) کو ہرا کر تحریک انصاف کا امیدوار جتوایا ہے۔

وزیر اطلاعات پرویز رشید اپنے مخصوص سپاٹ چہرے اور برفیلے لہجے میں متنبہ کر رہے ہیں کہ مشکل فیصلوں کا یہ سلسلہ ابھی شروع ہوا ہے۔ ملکی مفادات کی طوالت اس امر کی متقاضی ہے کہ قوم مزید کئی ایسی کڑوی گولیاں کھانے کے لئے تیار رہے، بلکہ عادت بنا لے،تو قوم اور حکومت دونوں کے لئے سہولت ہو جائے گی۔

کاروبار دوست حکومت کی دعویدار مسلم لیگ(ن) کے روایتی حامی بھی حکومت کی اس ”آمد“ کی تاب نہیں لا سکے۔ لاہور، کراچی کے چیمبرز و دیگر تجارتی تنظیموں نے رحم کی دہائی دینا شروع کر دی ہے۔ تشکیل حکومت کے دوران مختلف اجلاسوں میں متحرک صنعتکار اور بینکار اب اپنے اپنے عافیت کدوں میں واپس چلے گئے ہیں۔ حکومت کے پاس لے دے کے اب آئی ایم ایف کا آسرا ہی رہ گیا ہے۔ ہر الٹے قدم کی بیش تر ذمہ داری آئی ایم ایف اور باقی ماندہ گزشتہ حکومت پر۔ تشکیل ِ حکومت کے وقت دوائے دل بیچنے والے سارے حکیم اپنا اپنا نسخہ حکومت کو تھما کر کنکھیوں سے حکومت کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔

علامہ اقبالؒ نے کیا خوب نکتہ اُٹھایا کہ متاع ِ کارواں کی ناکامی اپنی جگہ، لیکن کارواں کے دل سے احساسِ زیاں چھن جانے کا سانحہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اسحاق ڈار کے خزانے کی ”متاعِ کارواں“ کی مفلسی اپنی جگہ، لیکن نئے انتخابات سے عوام میں پیدا ہونے والی امید کا اس قدر جلد زیاں اور اس پر مستزاد حکومت کا اس ”احساس زیاں“ کا عدم ادراک ایک سانحے سے کم نہیں۔ ماضی میں دو بار مسلم لیگ(ن) کی حکومت بننے کے بعد کاروبار اور سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا، لیکن اس بار یہ امید بھر نہیں آئی۔ مجبوری ہے یا حکومت میں ہونے کا سفاک سچ، حکومت مہنگائی کا باعث بننے والے ہر فیصلے پر”تلخ فیصلے“ کی بہادری دکھانے پر داد طلب ہے۔ وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا!!!

امن و امان اور بے یقینی نے ملک بھر میں سرمایہ کاری کو یرغمال بنا کر رکھا ہے، جن چند شہروں میں طوہاً و کرہاً صنعتیں اور کاروبار چل رہے تھے وہاں اب بھتے کی پرچیاں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔ کراچی اس عذاب کا کافی عرصے سے شکار تھا، لیکن اب تو اسلام آباد اور لاہور بھی اس عذاب سے روشناس ہورہے ہیں ، اس ماحول میں روایتی صنعتیں اور کاروبار اپنی بقاءکی جنگ لڑرہے ہیں، البتہ پراپرٹی ، سٹاک ایکسچینج اور ڈالر کا کاروبار عروج پر ہے، بلیک اکانومی کا پیسہ سیلز ٹیکس وغیرہ کی جھک جھک سے محفوظ بھی ہے اور ان تینوں شعبوں میں پر لگائے محفوظ اور منافع بخش پرواز میں مست بھی، اب کون کم بخت راتوں رات برسنے والے ہن کی بجائے صنعتوں کے ذریعے سالوں بعد منافع کی شکل دیکھنے کا احمقانہ فیصلہ کرے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مدت ہوگئی سٹاک ایکسچینج پر نئی کمپنیوں کا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا....

اسٹیٹ بنک کے مطابق بینک اپنے قرضوں کا تین چوتھائی سے بھی زائد حکومتی تمسکات میں لگا رہے ہیں، نجی شعبے میں قرضے کی اشتہاءبڑھنے کی بجائے کم ہوگئی ہے، مستقبل کے بارے میں بینک ڈیپازٹرز کے یقین کا یہ عالم ہے کہ بینکوں میں فکسڈ اکاﺅنٹس میں جمع شدہ رقوم کا صرف 7.7 فیصد دو سال یا دو سال سے زائد مدت پر مشتمل ہے۔ بینکوں میں 1970 ارب روپوں کی کل جمع شدہ رقوم میں 86 فیصد دو سال سے بھی کم مدت کے لئے جمع ہیں، رہی سہی کسر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری نے پوری کردی ہے امید کے لئے ہر میدان سکڑ رہا ہے۔

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میںتیزی سے کمی، روپے کی قدر کے بارے میں پائی جانے والی بے یقینی، سرمایہ کاری میں جمود، سٹے بازی کے زور پر پراپرٹی، سٹاکس اور کرنسی سے پرکشش منافع کے رجحان نے معیشت کے بارے میں عوام اور خواص کے شکوک کو زبان دے دی ہے امید دھند لارہی ہے۔ بے یقینی کا جھٹپٹا بڑھ رہا ہے کاروبار حکومت کی دیدہ ونادیدہ مجبوریاں اپنی جگہ پر ، لیکن عوام اور معیشت پر ہر نیا بوجھ انہیں امید سے دور اور پچھتاووں سے قریب کررہا ہے۔ معانقے اور بھینچنے میں جو فرق ہے حکومت کو یہ فرق جلد سمجھنے کی ضرورت ہے ورنہ دم نکلنے میں وقت ہی کتنا لگتا ہے!!

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے

اب اتنا بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

      (عبید اللہ علیم ) ٭

مزید :

کالم -