”بقا کی جنگ“ یا امن کی تلاش!

”بقا کی جنگ“ یا امن کی تلاش!
 ”بقا کی جنگ“ یا امن کی تلاش!

  

                                         طالبان کے ساتھ قیام امن کے مذاکرات کے خوش آئند فیصلے کے بعد آل پارٹیز کانفرنس پرایک مخصوص لابی کی جانب سے طعن وتنقید کی بوچھاڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پس منظر میں جناب نجم سیٹھی صاحب کا 6 اکتوبر کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والا مضمون بعنوان: ”بقا کی جنگ یا تباہ کن امن“ خصوصی توجہ کا حامل ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ :”فاٹا میں بھر پور جنگ ہی پاکستان کا واحد دفاع ہے۔©ہماری سیاسی قیادت جتنی جلد اس حقیقت کو پا لے گی، اتنا ہی بہتر ہے۔ اس وقت امن ہمیں تباہ کر دے گا، جبکہ فیصلہ کن جنگ ہماری بقا کی ضمانت دے گی“۔

ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے ماضی میں ” اپنی بقا کی خاطر لڑی جانے والی جنگوں“ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ مشرقی پاکستان میں ہم نے سیاسی معاملات کو سلجھانے کے لئے فوج استعمال کی جس نے چھ ماہ سے کم مدت میں پورے ملک میںحکومت کی رٹ قائم کر دی۔ ہمارے جنرل آفیسر کمانڈنگ نے جنرل نیازی کو تجویز دی کہ ”اب مناسب وقت ہے کہ سول انتظامیہ کوبحال کر کے سیاسی عمل شروع کیا جائے“۔ یہ مشورہ جنرل نیازی کو ناگوار گزرا اور انہوں نے متعلقہ جنرل آفیسر کمانڈنگ کو کمان سے ہٹا دیا اور ہم اپنی بقا کی جنگ لڑتے رہے، جس کے نتیجے میں ایک عظیم سانحہ سے دوچار ہوئے اور بھارتی سازشوں کے سبب ملک دولخت ہو گیا۔

1974ءمیں ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں بدامنی پر قابو پانے کے لئے بقا کی جنگ شروع کی۔ 1975ءکے اوائل تک فوج نے حالات پر قابو پا کر امن و امان بحال کر دیا۔اس موقع پر وزیراعظم میرے بریگیڈ کے دورے پر تشریف لائے اور انہوں نے بگٹی قبیلے کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب بھی کیا، جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو بہت پذیرائی بخشی۔ انہیں واپس ہیلی پیڈ تک چھوڑنے کے لئے جاتے ہوئے مَیں نے ان سے وہی سوال کیا جو میرے جنرل آفیسر کمانڈنگ نے جنرل نیازی سے کیا تھاکہ ”جناب وزیر اعظم! اب سول نظام کی بحالی اور سیاسی عمل شروع کرنے کا بہت موزوں وقت ہے“۔ اس پر انہوں نے کہا: ”ہاں! آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ بہت جلد آپ کو اس کے احکامات مل جائیں گے “.... لیکن ایسے احکامات ہمیں نہ مل سکے اور 1977ءکے دوران پیش آنے والے حالات نے انہیں موقع بھی نہ دیا۔

2008ءمیں آصف علی زرداری نے بھی سوات، دیر، باجوڑ، فاٹا اور بلوچستان میں ”بقا کی جنگ“ کا فیصلہ کیا اور بدنظمی پر قابو پانے کی ذمہ داری فوج کو سونپی ۔فوج نے 2009ءکے آخر تک حالات پر قابو پا کر حکومتی عملداری بحال کر دکھائی۔اب جبکہ2013ءبھی ختم ہونے کو ہے، اس دوران منتخب حکومتیں برسر اقتدار رہ چکی ہیں، لیکن ان علاقوں میں سول انتظامیہ کی بحالی یقینی بنانے اور سیاسی عمل شروع کرنے کے اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہیں ۔یہ علاقے ملک کے مجموعی رقبے کے تقریباً 40 فیصد پر مشتمل ہیں اور ابھی تک فوج کے کنٹرول میں ہیں۔اس طویل عرصے میںان علاقوں سے فوج کو نکالنے کے لئے صرف خیبر پختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ ہی کی جانب سے ایک کمزورآواز اٹھائی گئی، لیکن عملاًہوا کچھ نہیں۔ حکومتوں کی ان بدانتظامیوں اور ناکامیوں پر فوج کو موردالزام ٹھہرانا اور مزید قربانیوں کا تقاضا کرنا کہاں کا انصاف ہے، جبکہ حکومتی اہلکار ہر طرح کی سہولتوں و مراعات سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی لوٹ مار کسی کے سامنے جواب دہ بھی نہیں ہیں۔ یہ علاقے بدستور فوج کے کنٹرول میں ہیں اور یہاں سول انتظامیہ بحال نہ کئے جانے کی وجہ سے بد انتظامی بڑھتی جا رہی ہے، کیونکہ قانون کی عمل داری قائم کرنے کے لئے فوج سول نظام کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔

حیرانی اس بات پر ہے کہ نجم سیٹھی صاحب کو 25ملین پاکستانی اور17 ملین افغان پختونوںپر مشتمل افغانستان میں اسلامی جمہوری نظام کے قیام سے کس بات کا خوف ہے، جو وہاں سے غیر ملکی قابض فوجوں کے انخلاءکے بعد قائم ہو گا،جبکہ ایسا ہونا فطرت کے عین مطابق ہو گا، جو نسلی اور تناسب آبادی کی منطق کی روشنی میں قابل عمل ہے، یعنی 25 ملین پاکستانی پختونوں کو 17ملین افغان پختونوں پر اکثریت کی انضباطی کشش حاصل ہو گی، جس سے ڈیورنڈ لائن کی سرحدوں کی فعالیت بھی متاثرہوگی ۔تاریخ شاہد ہے کہ افغان شہنشاہوں کو افغانستان پر تسلط برقرار رکھنے کے لئے ہمیشہ پاکستانی قبائل کی حمایت کی ضرورت رہی ہے اور یہی بات آج بھی سچ ثابت ہورہی ہے، جبکہ شہنشاہیت کی جگہ عوامی نمائندے لے چکے ہیں۔

مَیں نجم سیٹھی صاحب کی باتوں پر سخت حیران ہوں، کیونکہ انہیں کافی عرصے سے جانتا ہوں۔ انہوں نے1963ءمیں پاکستانی شہریت اختیار کی اوراپنے انقلابی خیالات کی وجہ سے جلد ہی ایک منجھے ہوئے جرنلسٹ اور کالم نگار کی حیثیت حاصل کرلی۔مجھے نہیں معلوم کہ اس کے بعد ان کے اور میاں نواز شریف کے مابین کیا تلخی ہوئی کہ8 مئی1998ءکو انہیں حسین حقانی کے ہمراہ وطن دشمن سرگرمیوں کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا تھا،جس پر امریکی سینٹ اور بھارتی کانگریس کی جانب سے سخت احتجاج ہوا اورآخر کار نواز شریف انہیں چند ہی روز بعد رہا کرنے پر مجبور ہو گئے۔ حسین حقانی کی ساکھ سے تو میموگیٹ سکینڈل نے پردہ ہٹا دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور ہیں، لیکن نجم سیٹھی نواز شریف کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور انہی کی نظر کرم سے پہلے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ اور اب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے عہدے پر فائز ہیں، لیکن میاںنواز شریف کی زیر صدارت آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستانی طالبان کے ساتھ قیام امن کے مذاکرات کے فیصلے پراچانک ان کی سخت مخالفت بڑی معنی خیز ہے۔

یہ ہماری قومی روایت ہے کہ جب بھی کسی خاندان کا کوئی فرد کسی وجہ سے خاندانی اقدار سے بغاوت کا مرتکب ہوتا ہے تو خاندان کے بزرگ سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں اور اس کے بازواورٹانگیں توڑنے یا مارپیٹ کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے پیار و محبت سے اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ہمارے آل پارٹیز کانفرنس کے سیاسی اکابرین نے بھی ہمارے ناراض طالبان کو معاشرے کے قومی دھارے میں واپس لانے کے لئے یہی راستہ اختیار کیا ہے جو درست ہے، قابل عمل ہے اور قومی سلامتی کی ضمانت بھی ہے۔ در حقیقت نجم سیٹھی پاکستان کو دومحاذوں پر جنگ کی بھٹی میں جھونکے رکھنے کے امریکی اور بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، جو قائداعظم ؒ کے اس نظریے کے سراسر خلاف ہے کہ: ”ہماری جنوب مغربی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری ان علاقوں کے قبائل پر ہے“....اور قبائل نے 2005ءتک یہ ذمہ داری بطریق احسن نبھائی، لیکن اس کے بعدبیرونی قوتوں کے اشاروں پر ان کے خلاف لشکر کشی کی گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہماری یہی سرحدیں ہمارے دشمنوں کی سازشی کارروائیوں اور سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات کی آماج گاہ بن چکی ہیں۔ان تمام برائیوں کی جڑ افغانستان پر بیرونی طاقتوں کا قبضہ ہے، جو بُری طرح شکست کھا کر اب پسپائی اختیار کر چکا ہے۔ اب انشاءاللہ جلد ہی افغانستان میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا، جس سے ہمارے سیاسی قائدین کی امن و امان کی خاطر جاری کوششوں کو تقویت ملے گی۔

تلاش امن کی کوششوں کو روکنا اب ناممکن ہو چکا ہے، کیونکہ قائداعظم ؒ نے تحریک پاکستان کے مخالف‘ وائسرائے ہند کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”جو ہونا ہے، وہ ہو کر رہے گا“.... (What has to be, has to be) .... قوم نے ماضی میں کئے جانے والے اپنے عظیم قائد کے اسی فیصلے کو مشعل راہ بنا کرپاکستان حاصل کیا اور اب ہماری سیاسی قیادت نے اپنے ناراض بھائیوں کے ساتھ مذاکرات کر کے امن کے قیام کویقینی بنانے کی راہ اختیار کی ہے، جو پاکستان کے لئے ایک پُرامن اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔   ٭

مزید :

کالم -