9 اکتوبرڈاک کا عالمی دن اورپاکستان

9 اکتوبرڈاک کا عالمی دن اورپاکستان
9 اکتوبرڈاک کا عالمی دن اورپاکستان

  


شاہدچودھری

9 اکتوبر کا دن عالمی ڈاک کے یادگاری دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے تحت جہاں ہر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق پوری دنیا میں آگہی پھیلانے ،اداروں اور انسانوں کے درمیان باہمی تعاون کی فضا قائم کرنے کا سلسلہ جاری رہتاہے وہاں ان دنوں کو یادگارخصوصی دن کے طورپر منایا جاتاہے۔9 اکتوبر کو دنیا بھرمیں ترسیل کے روائتی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور محکمہ ڈاک کی خدمات کو سراہا جاتا اور اس بات کاعادہ کیا جاتا ہے کہ یہ ادارہ چونکہ انسانوں کے بہت قریب ہے لہذا اسکی کارکردگی کا معیار اعلا ہونا چاہئے ۔اقوام متحدہ کے زیر اہتما م یونیورسل پوسٹل یونین سے وابستہ192 ممالک اس دن کانفرنسز اور سیمینارز کرتے ،جلوس نکالتے اور یادگاری ٹکٹ جاری کرکے اپنے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتے اور ملکی و عالمی سطح پر ترسیل کے نظام میں بہتر کارکردگی کا ثبوت دینے کا عہد کرتے ہیں۔پاکستان میں بھی محکمہ ڈاک یہ دن جوش و خروش سے مناتا ہے ،اس روز کئی شہروں میں خصوصی پروگرام ہوتے اور محکمہ ڈاک کی اہمیت اور مستقبل پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔محنت اور دیانت داری کادرس دیا جاتا ہے۔نئے دور کے جدید تقاضوں کو بروئے کار لاکر کسٹمرز کو زیادہ سے زیادہ مراعات وسہولیات دینے کا اعلان کیا جاتا ہے،ورکزر کی فلاح کے منصوبوں پر روشنی ڈالی جاتی ہے.... لیکن عملاً اسکے برعکس ہوتا ہے۔یہ دن جس عہد کو نبھانے کا درس دیتا ہے اسکو بھلا دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں محکمہ ڈاک کی کارکردگی انتہائی زوال پذیر ہوچکی ہے ۔دنیا سمٹ رہی ہے ،انٹرنیٹ ،ای میل،وٹس ایپ، فیس بک،فیکس وغیر جیسی مزید کئی پیغام رسانی کی سہولیات نے محکمہ ڈاک کو نقصان پہنچایا ہے لیکن اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ محکمہ ڈاک جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے برباد ہورہا ہے۔اسکی بربادی کی وجہ اسکا دور حاضر کے مطابق سروسز فراہم نہ کرنا،مہنگی اور سست سہولیات کے علاوہ عملے کا بدترین سلوک ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے محکمہ ڈاک پر انحصار کم کیا جانے لگا ہے۔حالانکہ دوہا کانفرنس2012 جو کہ یونیورسل پوسٹل یونین نے منعقد کرائی تھی اس میں طے پایا تھا کہ2013 سے2016 تک پوسٹل یونین کے ممبران اس عالمی سٹریٹجی کے معیارات کو پورا کریں گے تاکہ عالمی سطح پر ترسیلات کے بدلتے نظام کا مقابلہ کیا جاسکے۔کانفرنس میں اس محکمہ کو بدعنوانی سے پاک کرنے کا وعدہ بھی لیا گیا تھا جسے پاکستان پورا نہیں کرسکا۔

نیب کی طرح پاکستان پوسٹ نے بھی بدعنوانی سے انکار “say no to Corruption” کا سلوگن عام کیا ہوا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان پوسٹ اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے سے معذور نظر آرہا ہے۔ایک رپورٹ کےمطابق محکمہ ڈاک نے گزشتہ چھ سال میں 25 ارب روپے کی کرپشن کی ہے۔محکمہ ڈاک میں مالی بدعنوانیوں کا رونا اپنی جگہ اسکی انتظامی بدعنوانیاں اس سے بھی سنگین ہیں ۔ملازمین میں پیشہ وارانہ جذبے اور مہارت کا شدید فقدان ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر کسٹمر ان کے رویوں کے شاکی ہوکر سہولیات سے استفادہ نہیں کرتے۔یہ بات مشاہدہ میں آچکی ہے کہ منی ٹرانسفر جیسے تیز ترین دور میں محکمہ ڈاک بھی یہ سہولت دینے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن بیرون ملک سے آنے والی رقوم کی وصولی کےلئے ان کا اپنا سسٹم اکثرخراب رہتا ہے اور کسٹمر کو تسلی آمیز جواب بھی نہیں دیا جاتا۔جبکہ یہ رقوم باہر سے کسی بھی جگہ سے آسانی سے اور عزت سے وصول کی جاسکتی ہیں۔اسیطرح بیرون اور اندورن ملک پارسل کا نظام بھی مہنگا ترین ہوچکا ہے۔پرائیویٹ کورئیر سروسز جتنے ریٹس وصول کرنے کے باوجود محکمہ ڈاک کی سروس سست واقع ہوتی ہے۔اس بات کا ادراک ادارہ کے اعلا افسران کو نہیں ہوپارہا کہ محکمہ ڈاک کی افادیت کو اس وقت ہی قائم رکھا جاسکتا ہے جب یہ نجی سیکٹر کا مقابلہ کرتے ہوئے اعلا سروسز مہیا کریں گے ۔دنیا بھر میں 9 اکتوبر کے روز ترقی پذیر ملکوں میں محکمہ ڈاک ایک سنگ میل کا تعین کرتا ہے،وطن عزیز میں بھی اسی عزم سے اہداف حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : بلاگ /اہم خبریں