انتہا پسند ہندوؤں کا پاکستانی اداکاروں کی فلموں کو اجازت دینے سے انکار

انتہا پسند ہندوؤں کا پاکستانی اداکاروں کی فلموں کو اجازت دینے سے انکار

ممبئی( آن لائن ) ہندو انتہا پسند تنظیم مہارشٹرا نونرمان سینا نے انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرزایسوسی ایشن کی اپیل کے باوجود پاکستانی اداکاروں ماہرہ خان اور فواد خان کی فلموں رئیس اور اے دل ہے مشکل کو نمائش کے لیے پیش کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے ارکان نے گزشتہ روز مہارشٹرا نونرمان کے فلم ونگ چترپت کرمچاری سیناکی سربراہ شالنی ٹھاکرے اور ایم این ایس کے دیگرعہدیداروں سے ملاقات کی اورانھیں پاکستانی فنکاروں کی دو فلموں رئیس اور اے دل ہے مشکل کو نمائش کے لیے پیش کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تاہم ہندو انتہاپسند تنظیم ایم این ایس نے ان دونوں فلموں کوریلیزکی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔اس سلسلہ میں انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرزایسوسی ایشن کے صدر ٹی پی اگروال نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے گزشتہ روز شالنی ٹھاکرے سے ملاقات کی اورانھیں بتایاکہ پاکستانی اداکار ان دونوں فلموں میں اپنے کام کا معاوضہ لے کر جاچکے ہیں۔ جب کہ بھارتی فلمسازوں نے ان فلموں پر بھاری سرمایہ لگارکھا ہے اگر یہ دونوں فلمیں نمائش کے لیے پیش نہ ہوئیں تو ان کا بھاری نقصان ہوگا۔ تاہم شالنی ٹھاکرے نے اجازت دینے سے انکار کردیا ہے ۔

اور کہا ہے کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے کہ ہم کیا سوچ رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ لوگ کیا چاہتے ہیں اورملک میں موجودہ صورتحال کے بعد لوگ ایسی کوئی فلم دیکھنا نہیں چاہتے جس میں پاکستانی اداکار شامل ہوں ہم لوگوں کے جذبات اور احساسات کے مخالف نہیں جاسکتے اس لیے ان فلموں پر پابندی کے موقف پر قائم ہیں۔دوسری طرف انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرزایسوسی ایشن نے راج ٹھاکرے اور ادے ٹھاکرے کو خط لکھا ہے جس میں انھوں فلموں کو نمائش کے لیے پیش کرنے کی اجازت دینے کا کہاہے جب کہ انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرز ایسوسی ایشن اور ایم این ایس نے بھارتی حکام کو اپیل کی ہے کہ آئندہ پاکستانی فنکاروں کو ویزہ جاری نہ کیا جائے۔

مزید : کلچر