عمران کو دھکا ملنے والا ہے

عمران کو دھکا ملنے والا ہے
 عمران کو دھکا ملنے والا ہے

  


پاکستانی سیاست عمران خان کے گرد گھوم رہی ہے یا عمران پاکستانی سیاست کے پیچھے پڑگئے ہیں۔ ان کے تیوربتاتے ہیں کہ وہ بلاول بھٹو کو جگہ نہیں دینا چاہتے کہ کہیں وہ چھا نہ جائے ،حالانکہ اصول کے مطابق عمران نے گزشتہ دو مہینے اپنا چمتکار دکھالیا ہے اوراب بلاول کو موقع ملنا چاہئے ۔

ہمارا پچھلا کالم پی ٹی آئی بمقابلہ پیپلز پارٹی کے عنوان سے تھا جس پر چند مہربانوں کا اعتراض تھا کہ عنوان میں پیپلز پارٹی کی بجائے نون لیگ ہونا چاہئے تھا کیونکہ پیپلز پارٹی قصہ پارینہ ہو چکی۔ وہ کالم تین اکتوبر کو لکھا گیا تھا اور یہ کالم آٹھ اکتوبر کو لکھا گیا ، ان پانچ دنوں میں بلاول جس طرح سے اپوزیشن کی صفوں کوچیر کر نکلے ہیں ، قابل دید ہے۔امید ہے ہمارے ان مہربانوں کا گلہ کچھ کم ہوا ہوگا!

اب تو میرا دشمن بھی میرے ساتھ روتا ہے

کچھ گلے تو کم ہوں گے ساتھ ساتھ رونے سے

مقبول بات یہ ہے کہ ملک میں پرو نواز سیاست ہو رہی ہے یا انٹی نواز ،لیکن عمران خان انٹی نواز ہی نہیں بلکہ انٹی زرداری، انٹی الطاف، ، انٹی مولانا فضل الرحمٰن ،انٹی بلاول ، انٹی سپریم کورٹ، انٹی نیب، انٹی ایف آئی اے، انٹی ایف بی آر اور انٹی عوام سیاست پر اترے ہوئے ہیں، کیونکہ جب ان کے نزدیک پاکستان کی جملہ سیاسی قیادت اور ادارے کرپٹ ہیں توان کے ووٹروں سپورٹروں کے بارے بھی ان کی یہی رائے ہوگی ، حقیقت یہ ہے کہ وہ ادراک نہیں رکھتے کہ سیاست صرف قیادت کا نام نہیں ہوتا،بلکہ ایک انبوہ انسانی کا نام ہوتاہے ۔ چنانچہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ عوام آپ کے بارے غلط تاثر نہ قائم کر لیں جو کبھی غلام مصطفےٰ کھر کے بارے میں قائم ہو گیا تھا اور اب عمران خان کے معاملے میں پختہ ہو تاجا رہا ہے !....ان کی مخالفت کسی ایک سے نہیں پورے نظام سے ہے، خود ان کا اپنا حال یہ ہے ان کا کہا حرف آخر ہے اور ان سے اختلاف کرنے والا شخص ان کی پارٹی میں آخری آدمی ابھی چار روز پہلے ہی جب وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کررہے تھے تو حیران و ششدر ساتھیوں کو یہ مشورہ بھی دے رہے تھے کہ وہ نواز شریف کی محبت میں مسلم لیگ (ن) میں چلے جائیں۔

عمران خان کو باور کرایا جا رہا ہے کہ وہ پوری سیاسی قیادت پر کرپشن کا الزام دھر کر انہیں فارغ کر سکتے ہیں اور عوام میں اپنی پذیرائی بڑھا سکتے ہیں۔ لیکن جس طرح کبھی ذوالفقار علی بھٹو نے غریب کا نعرہ لگا کر جاگیرداروں کو پارٹی میں شامل کرلیا تھا اسی طرح عمران خان کرپشن کا نعرہ لگا کر پیسہ بنانے والوں کو پارٹی میں شامل کرتے جا رہے ہیں۔وہ کرپشن کو نعرے کے طور پر استعمال کرکے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں جس طرح 2013میں نون لیگ لوڈشیڈنگ کیخلاف نعرہ لگا کر اقتدار میں آئی تھی ، نون لیگ سے لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہو سکی ہے ، عمران سے کرپشن ختم نہیں ہو سکے گی!

عمران کسی بہانے عوام کی توجہ اپنی جانب کئے رکھنا چاہتے ہیں ،اسی لئے وہ آئے دن ایسے شو منعقد کررہے ہیں جن سے ان کی عوام میں مقبولیت کا تاثر قائم رہے۔ اسی طرح پس پردہ قوتوں کی بھی خواہش ہے کہ عمران کے احتجاجی جلسے جلوسوں کی آڑ میں ایسا اودھم بپا کرکے وزیر اعظم نواز شریف کو کمزور رکھا جائے۔ عمران خان یہ بھی جانتے ہیں کہ کسی بھی جوڈیشل فورم میں پانامہ لیکس کے مقدمے سے کچھ نہیں نکلے گا ،یہ پانی میں مدھانی کی طرح ہے اگرچہ چودھری اعتزاز احسن اسے گلے میں گھنٹی کہہ رہے ہیں اس لئے قبل اس کے کہ کوئی ادارہ اس پر فیصلہ دے وہ ایک ایسی عوامی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں وزیر اعظم نواز شریف سرخرو ہو کر بھی مجرم نظر آئیں ۔ وہ اس قدر جھوٹ بولنا چاہتے ہیں کہ لوگ سچ سمجھنا شروع کردیں۔ دوسری جانب وزیر اعظم نواز شریف کسی صورت پانامہ لیکس کے بدنما داغ کے ساتھ اگلے عام انتخابات میں نہیں جائیں گے بلکہ انتخابی دھاندلی کے الزام کی طرح اس الزام سے بھی بریت کی ایسی مہر ثبت کروائیں گے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کو بھی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لئے عمران خان کے لئے ضروری ہے کہ وہ بلاول بھٹو کا راستہ روکنے کی بجائے انہیں کھل کر سیاست کا موقع دیں تاکہ پیپلز پارٹی ایک ایسی سیاسی فضا بنانے میں کامیاب ہو سکے جس کاتحریک انصاف کو بھی اگلے عام انتخابات میں فائدہ ہوسکے۔

پیپلز پارٹی جانتی ہے کہ اسے کیا کرنا ہے لیکن وہ حالات کی صحیح شکل نکل آنے تک انتظار کرے گی۔ اس اثنا میں بلاول بھٹو اپنے دائرہ کار کو بڑھاتے جائیں گے جس کے لئے انہیں عمران خان کے سوا باقی سیاسی قیادت کی حمائت بھی حاصل رہے گی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عوام کے جس طبقے نے نواز شریف کے بغض میں عمران خان کو ووٹ ڈالا ہے وہ دوبارہ سے پیپلز پارٹی کو بھی ڈال سکتے ہیں ۔ دیکھا جائے تو تحریک انصاف کی طرف آنے والے ووٹ کا بڑا حصہ ان لبرل طبقوں پر مشتمل ہے جو روائتی طور پر پیپلز پارٹی کے ساتھ رہے ہیں۔ یہ طبقہ آصف زرداری کو پیپلز پارٹی کی قیادت کے اہل نہیں سمجھتا لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ زرداری کے بیٹے کو بھی اس کا اہل نہیں سمجھتے ۔ یہ طبقے ابھی تیل دیکھ رہے ہیں اور تیل کی دھار دیکھ رہے ہیں اور اس اثناء میں اپنے زیر انتظام این جی او کراؤڈ کو عمران خان کے جلسوں کی زینت بنا کر اس تاثر کو قائم رکھے ہوئے ہیں کہ عمران خان ایک پاپولر لیڈر ہے لیکن جہاں جہاں یہ حمائت واپس ہوئی ہے وہاں وہاں تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت کی قلعی کھل گئی ہے ، وہ خواہ جناح گراؤنڈ کراچی ہو یا شاہدرہ سے مال روڈ تک ریلی کا سفر یا پھر راولپنڈی کی ریلی، ہر جگہ عمران خان بری طرح ایکسپوز ہوئے ہیں ۔ صرف لاہور رائے ونڈمیں کامیابی نظر آئی ہے اور وہ بھی اس لئے این جی او کراؤڈ نے ان کا جلسہ بھرنے کی حامی بھرلی ، وگرنہ ان تلوں میں تیل نہیں رہاہے!

اب دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کس قدر جلد پارٹی کی تنظیم نو کا مرحلہ مکمل کرتی ہے اوربلاول عمران خان کو دھکا دے کر سامنے آتے ہیں !

مزید : کالم