جعلی انٹرا پارٹی انتخابات ، الیکشن کمیشن کی بے بسی عیاں

جعلی انٹرا پارٹی انتخابات ، الیکشن کمیشن کی بے بسی عیاں
 جعلی انٹرا پارٹی انتخابات ، الیکشن کمیشن کی بے بسی عیاں

  

الیکشن کمیشن نے بالاآخر سیاسی جماعتوں کو اپنی جماعتوں کے اندر پارٹی انتخابات کروانے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی کے سوا مُلک کی کوئی سیاسی جماعت اپنے اندر جماعتی انتخابات کروانے میں سنجیدہ نہیں بلکہ کوئی بھی نہیں کروانا چاہتا۔ اسی لئے مُلک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتوں میں نہ تو جماعتی انتخابات برو قت ہو تے ہیں اور نہ ہی ان انتخابات کی کوئی وقعت ہے، بلکہ انتخابات کے نام پر بھی سلیکشن ہی ہوتی ہے۔ یہ المیہ ہے کہ جمہوریت کی علمبردار سیاسی جماعتیں اپنے اندر کسی بھی قسم کی جمہوریت کے لئے تیار نہیں ہیں۔ پتہ نہیں ان جماعتوں کو کیسے سمجھ آئے گی کہ مُلک میں آدھی جمہوریت نہیں چل سکتی۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں کسی حد تک شخصی ووٹ بنک پر قائم ہیں اور باقی وراثتی ووٹ بنک کی مرہون منت ہیں۔ اس طرح یہ سیاسی جماعتیں کسی نظریہ یا فلسفہ کی بنیاد پر نہیں، اپنے لیڈر کی عوامی مقبولیت کی بنیاد پر قائم ہیں، جبکہ باقی جماعتوں میں قیادت وراثتی طریقہ کار کے ذریعے سامنے آئی ہے۔ اس میں بھی نظر یہ اور فلسفہ کا کوئی کمال نہیں۔ شخصی اور وراثتی قیادت نے جہاں سیاسی جماعتوں میں سیاسی کلچر ختم کر دیا ہے۔ وہاں سیاسی جماعتوں کو پرائیوٹ انٹر پرائز بنا دیا ہے۔ سیاسی جماعتیں سیاسی جماعتیں کم اور کارپوریٹ انٹر پرائزز زیادہ بن گئی ہیں۔ اس بات کا تصور بھی نہیں کہ آپ قیادت سے کسی بھی ایشو پر کوئی اختلاف کر کے پارٹی میں اپنا وجود برقرار رکھ سکیں۔ اختلاف کی سزا سیاست ختم ہی ہے۔

ملک کی اکثر سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) اپنی جماعتوں کے اندر کسی بھی قسم کی جمہوریت کے لئے تیار نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ان جماعتوں میں فرد واحد کی حکومت ہے ۔ مسلم لیگ (ن) میں بلا شبہ میاں نواز شریف کی حکومت ہے۔ اگر میاں نواز شریف کو مائنس کر دیا جائے گا تو مسلم لیگ (ن) کا کوئی وجود نہیں۔ اس سیاسی فلسفہ میں بھی جان ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بنک میاں نواز شریف کی ذات کا مرہون منت ہے، لیکن جب ایک فرد واحد کی وجہ سے ووٹ بنک ہو تو وہ اس میں کسی کو شراکت دار کیسے بنا سکتا ہے۔ وہ فرد واحد ہی عقل کل بن جاتا ہے اور سب فیصلے اپنی مرضی سے کرتا ہے۔

اسی قسم کی صورتِ حال پیپلزپارٹی میں بھی ہے۔ گو پیپلزپارٹی میں ووٹ بنک کافی ہاتھ بدل چکا ہے، لیکن پھر بھی کسی نہ کسی شکل میں اس نے اپنی وراثتی شکل قائم رکھی ہے۔ یہ ووٹ بنک بھی کوئی جمہوری شکل نہیں لے سکا ہے۔ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے بعد یہ ووٹ بنک ان کے بیٹوں کو نہ مل سکا بلکہ بیٹی کو ملا اور بیٹی سے ان کے خاوند اور بیٹے کی طرف جا رہا ہے۔ یہ ووٹ بنک وقت کے ساتھ کم ضرور ہوا ہے، لیکن اس نے ایک وراثتی شکل برقرار رکھی ہے۔ اس وراثتی شکل نے پیپلزپارٹی کو اندرونی جمہوریت سے دور رکھا ہے۔ وراثتی سفر میں یہ ووٹ بنک جس کے ہاتھ میں بھی پہنچا ہے۔ اس نے اس کو اپنی ذاتی میراث سمجھ کر ہی پارٹی کو چلا یا۔ اسی لئے اس پارٹی میں بھی جمہوریت نہ آسکی۔

پاکستان کی تیسری بڑی اور نئی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف ہے۔ یہ درست ہے کہ عمران خان نے اس جماعت کی بنیاد رکھتے ہوئے اس میں جمہوریت قائم رکھنے کے دعویٰ کئے تھے۔ انہوں نے جماعتی انتخابات کروانے کی کوشش بھی، لیکن وہ نا کام ہوئے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ عمران خان بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ان کی جماعت کا ووٹ بنک صرف اور صرف ان کی وجہ سے ہے۔ اگر ان کو مائنس کر دیا جائے تو باقی کچھ نہیں بچتا۔ اسی سوچ نے عمران خان کو اپنی جماعت کے اندر شدید خواہش کے باوجود جمہوریت قائم نہیں کرنے دی۔ ان کے کارکن ان کے ہی نمائندوں کے خلاف ووت دے دیتے، جس کی وجہ سے پیسہ بھی چلا اور دھاندلی بھی ہوئی۔

اے این پی کی داستان بھی مختلف نہیں۔اس کا ووٹ بنک بھی کم ہو اہے، لیکن یہ بھی وراثتی سفر سے اسفند یار ولی خان تک پہنچا ہے، جس طرح محترمہ بے نظیر بھٹو کے آخر میں اپنی والدہ محترمہ نصرت بھٹو سے اختلافات ہو گئے تھے۔ اسی طرح اسفند یار ولی خان کے بھی محترمہ نسیم ولی خان سے اختلافات ہو گئے ہیں، جس طرح محترمہ نصرت بھٹو آخر میں ووٹ بنک کو اپنی مرضی سے میر مرتضیٰ بھٹو کی طرف نہ موڑ سکیں،کیونکہ وہ پہلے یہ وراثت خود ہی محترمہ بے نظیر بھٹو کو دے چکی تھیں۔ محترمہ نسیم ولی خان سے بھی یہی غلطی ہو ئی ۔

ایم کیو ایم میں وراثتی جنگ فاروق ستار اور نصرت صاحب کے درمیان شروع ہو چکی ہے۔ دونوں کسی جمہوری طریقہ سے وراثت لینے کے لئے تیار نہیں، بلکہ بس دھونس دھاندلی کا ہی سہارا لے رہے ہیں۔ نہ تو فاروق ستار نے کنونیئر بننے سے پہلے اپنے کارکنوں سے کوئی ووٹ لیا۔ نہ ہی ندیم نصرت صاحب اس کے لئے تیار ہیں۔ بس جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی مصداق قبضہ کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایسے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو اپنے اندر انٹرا پارٹی انتخابات کا حکم ۔ مذاق ہی لگتا ہے۔ یہ سیاسی جماعتیں تو ذاتی ملکیت ہیں۔ ان میں جمہوریت کیسی۔ اگر الیکشن کمیشن واقعی انٹرا پارٹی انتخابات میں سنجیدہ ہے تو اسے اس کے لئے سخت ترین قواعد بنانے چاہئے۔ یہ ڈنگ ٹپاؤ کام کسی کا کام نہیں۔ اگر دیر میں خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے پر انتخاب کا لعدم ہو سکتے ہیں۔ تو پھر سیاسی جماعتوں کے اندر یہ جعلی انتخابی عمل کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن کو اپنا کردار موثر کرنا ہو گا۔ بے معنی اور لاغر انٹرا پارٹی انتخابات نہ جمہوریت کی کوئی خدمت ہے اور نہ ہی اس سے سیاسی کارکنوں کی کوئی بہتری ہو گی۔

ضرورت اس امر کی ہے الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن اپنے کردار و قواعد کو موثر بنائے ۔ورنہ ان سیاسی جماعتوں کو ذاتی ملکیت سے کوئی نہیں چھڑا سکے گا۔ یہ کام صرف الیکشن کمیشن کر سکتا ہے جو کہ ابھی تک کرنے کو تیار نہیں۔

مزید : کالم