مفتی منیب صاحب : نئے اہل سنت اور تازہ مظلوم

مفتی منیب صاحب : نئے اہل سنت اور تازہ مظلوم
مفتی منیب صاحب : نئے اہل سنت اور تازہ مظلوم

  

 قائدِ اعظم سے صحافی نے پوچھا:’’ آپ سیاستدان نہ ہوتے تو کیا ہوتے ‘‘ ؟ فرمایا: ’’ صحافی ‘‘۔ پھر اس کی وضاحت یوں فرمائی:’’ہم جہاز میں سوار ہوکر کسی جگہ اترتے ہیں توعین دروازے پر ایک صحافی کسی ایسے واقعہ پر ہم سے رائے جاننے کو آ موجود ہوتاہے،جو واقعہ ابھی ابھی کہیں رونما ہوا ہوتا ہے اور جسے ہم نے ابھی قطعاًجانا نہیں ہوتا۔ سو میں سیاستدان نہ ہوتا تویقیناًایک صحافی ہونا پسند کرتا‘‘۔۔۔ یہ قائداعظم تھے اور ظاہر ہے ، ہماری طرح صحافی نہیں تھے،سو ان کی مجبوری تھی کہ واقعہ جانے بغیراس پر رائے نہیں دیتے تھے ، ایک صحافی الحمدللہ چونکہ نہ قائدِ اعظم ہوتاہے اور نہ سیاستدان ، سو ثم الحمدللہ وہ ایسے ہر واقعہ پر ڈٹ کے رائے بھی دے سکتا ہے اور متعدد کالم بھی رقم فرما سکتا ہے۔تفنن برطرف صحافت واقعی ایک مستعد بیداری، ہمہ وقتی ہوشیاری اورخرد مندانہ خبرداری کا نام ہے ، جس سے ہم جیسے کبھی تو دور ہوتے ہیں اور کبھی کوسوں دور۔ صاحبو! ہم بھی عجب صحافی ہیں کہ جب کبھی کسی مصروفیت و غفلت کے جہاز سے اترتے ہیں تو سامنے کوئی مفتی عبدالقوی مد ظلہ یا پھر مولانا الیاس گھمن اپنی گھمن گھیریوں سمیت ہماری بے خبری کا منہ چڑا رہے ہوتے ہیں۔ اب کیسے پتا چلا کہ کسی اور نے نہیں یہ پھول شبلی ہی نے تاک مارا ہے، میرا مطلب چاند چڑھانے والے (مفتی عبدالقوی صاحب) نے نہیں، بلکہ چاند دیکھنے والے سنجیدہ و متین مفتی صاحب کے کالم نے بہت سے مسلمانوں کو خوفزدہ کررکھاہے۔ خطِ نستعلیق میں بااعراب عربی (جس میں کہیں کہیں اردو بھی تھی) میں لکھا اوردنیا و دلیل پر چھپا یہ کالم دیکھا تو میں نے بھی تھا، مگرپھر اسے مفتی صاحب کو عینک لگنے کی وجہ سمجھ کے چھوڑ ہی دیا تھا۔مگرپھر گھبرائی گھبرائی سی تفصیلات کے مجبور کرنے پر یہ کالم پڑھنا ہی پڑا:

جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار

اے کاش نہ جانتا تیری رہ گزر کو میں

واقعی یہ ایک حیران کن، بلکہ پاکستان و عالم اسلام کے موجودہ حالات میں خاصا پریشان کن کالم تھا، جسے شاید مدیر صاحب نے بھی محض عربی سے متاثر ہوکر اور مضمرات کا اندازہ لگائے بغیر چھاپ دیا۔ قصہ یہ تھاکہ چیچنیاکے دارالحکومت میں جمع ہو کر چند بھاری بھرکم غیر ملکی ناموں والے پروفیسروں نے، جو ظاہر ہے کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی یونیورسٹی وغیرہ میں زیرِ جاب بھی تھے ، ’’اہلِ سنت کون ؟‘‘ کے عنوان کے تحت یہ نیک کام کیا کہ امت کے کچھ لوگوں کو تو ازراہِ مہربانی اہلِ سنت ہی رہنے دیا، جبکہ باقی کئی اہم ترین لوگوں کو اس دائرہ سنت والجماعت سے فی الفور نکال باہر کیا کہ چلو باہرنکلو ، کیا رش لگا رکھاہے۔ اب تک توہم نے اسلافِ امت سے یہی سنا تھا کہ فی الاصل اس امت کے دو ہی فرقے یا گروہ ہیں ،یعنی اہل تشیع اور اہلِ سنت۔اگرچہ اس سے آگے یہ دونوں از خود بھی کافی خود کفیل ہیں۔ یہ مگر پہلی دفعہ ہوا کہ صدیوں سے چلی آتی اس تقسیم کو پیوٹن کے زیرِ سایہ تقسیم مزید کے عملِ زہ سے بھی گزارا گیا۔ یکلخت میں نے سوچا کہ جب سعودی عرب ان دنوں ایران کے مقابل وہابیوں کے علاوہ بھی سبھی اہلِ سنت کو قریب، بلکہ قریب تر کر رہا ہے تو پھر اس کانفرنس کومہبطِ وحی مکہ و مدینہ سے اتنی دور لے جانے کی آخر کیا ضرورت تھی؟ یادش بخیر، اقبال کے پاس غالباً مولانا ظفر علی خان پریشان آئے کہ انگریز حجاز میں ہسپتال کھولنے کے بہانے اپنا کوئی اڈا کھولنا اور مسلمانوں سے چندہ بٹورنا چاہتاہے۔ اقبال نے کاغذ پکڑا اور یہ نسخہ لکھ کر تھما دیاکہ جاؤ اب یہ ہسپتال نہیں بنے گا :

اک پیشوائے قوم نے اقبال سے کہا

کھلنے کو جدہ میں ہے شفاخانہ حجاز

اوروں کو دیں حضور یہ پیغامِ زندگی

میں موت ڈھونڈتا سرزمینِ حجاز میں

یاحیرت ! اقبال موت بھی حجاز میں ڈھونڈے ،اور اقبال کا شاہین اپنا دین بھی پیوٹن کے گروزنی میں جا ڈھونڈے ؟ویسے ظاہر ہے کہ جو چیر پھاڑ پنجۂ عیسیٰ میں آئے ہسپتال میں ممکن ہے ، وہ مطبِ نبوی کی حکیمانہ حکمت میں کہاں ممکن ہے۔ خیر، لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے فارمولۂ تقسیم کی طرح گروزنی کی تقسیم اہلِ سنت کا فارمولہ بھی بڑا سادہ سا تھا، یعنی جو مسلمان فلسفۂیونان کی عقلی موشگافیوں کے وضع کردہ نظامِ علم الکلام کے بجائے محدثین کے بتائے سادہ طریقے سے رب کی صفات کو مانے،نکلے یہاں سے ، اس کاکوچہ اہلِ سنت میں بھلا کیا کام؟ لارڈ ماؤنٹ بیٹنی یہ فارمولہ ہے کیا؟ آپ سادہ انداز میں یوں سمجھئے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر قرآنِ مجید ، سورہ فتح میں ایک آیت نازل ہوئی: ’’وہ جو تمھاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔‘‘

( ترجمہ احمد رضا خاں بریلوی)

اب یہاں اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہوئے لفظ ’ہاتھ‘(ید)کو سمجھنے میں کچھ مسلمانوں کو مشکل پیش آئی۔ صحابہ کو نہیں، فلسفۂ یونان کے علم الکلام کے زیر اثر آنے والے بعد کے کچھ لوگوں کو۔ انہوں نے کہا ، ہیں تو گویا اللہ کا بھی ہاتھ ہے؟ہرگز نہیں، ہاتھ تومخلوق کا ہوتاہے ، اللہ کا ہاتھ مان لیا توگویا اللہ کو تونعوذ باللہ مخلوق جیسا مان لیا ، نہیں جی ، ہرگز نہیں ، یوں تو ہم نہ مانیں گے ، چلئے جلدی کیجئے ،اس ید کا معنیٰ کچھ اور کیجئے ، جو بھی کرو بس اللہ کا ہاتھ نہیں ہونا چاہئے، حالانکہ علاوہ اور علمی دلائل کے علماء نے علم بلاغت (زبان و بیان کے علم ) سے بھی انہیں سمجھایا کہ لفظی مشارکت اور تشبیہ سے یہ قطعاً لازم نہیں آتا کہ جس سے تشبیہ دی گئی ہو ، تشبیہ دیا جانے والا بھی سو فی صد ویسا ہی مانا جائے، مثلاً مسلم لیگ (ن) والے نواز شریف کو اگر شیر کہتے ہیں تومعاف کیجئے گا کیا اس سے یہ بھی لازم آ جائے گاکہ اب میاں صاحب کی شیر کی طرح دم بھی مانی جائے؟مثلاً منہ انسانوں کا بھی ہے اور جانوروں کا بھی۔تو اگر انسان یہ کہیں کہ ہمارے منہ کو آج سے ٹانگ کا پٹ کہا جائے، وگرنہ ہماری جانوروں سے مشابہت لازم آئے گی ؟ تو کیا ایسا سمجھنا درست ہو گا؟ یقیناًنہیں۔ چنانچہ محدثین نے یہ رائے مسترد کردی، انہوں نے کہا کہ بھئی معنیٰ تو ہم وہی کریں گے جو بنتاہے، البتہ ہم یہ کہیں گے کہ ہے تو ہاتھ ہی، مگر یہ ہاتھ مخلوق جیسا نہیں ہے۔ پھر کیسا ہے؟ بھئی جیسا اللہ کی شان کے شایاں ہے۔ ہم نے دیکھا تھوڑی ہے؟ جنت میں دیکھیں گے تو تفصیل بھی بتا دیں گے۔۔۔ لیجئے صاحب! اسی محدثین کے سچے اور سچے موقف والوں کو آج چند پروفیسروں کے زورِ بیان نے گروزنی میں قابلِ گردن زدنی ٹھہرا دیا ہے۔کہئے نعرۂ تکبیر!اللہ اکبر! دیکھا کیسی شاندار کانفرنس تھی!

قارئین! بات لیکن اتنی سادہ بھی نہیں کہ کسی کے پُرجوش نعرۂ تکبیر میں لپیٹ دی جائے، کیونکہ اگریہی اصرار ہے توپھر امام بخاری ، امام مسلم سمیت سارے محدثین، یعنی امام احمدابنِ حنبل ، امامِ مالک ، امام شافعی کے علاوہ فقہا و علماء امام ابو حنیفہ ، امام ابنِ تیمیہ ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، ابو الکلام آزاد ، ثنااللہ امرتسری ، مولانا داؤد غزنوی ، علامہ احسان الٰہی ظہیر ، پروفیسر ساجد میر، حافظ سعید، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر اور نہ جانے کتنے اور لوگ اسی ایک گروزنی کانفرنس سے اور مفتی صاحب کے ایک کالم سے تا حکمِ ثانی کالعدم اہلِ سنت قرار پائیں گے۔ کیا یہ واقعی اتنا ہی آسان ہے؟ پھر یہ بھی تو سوچئے کہ جو صحابہ و تابعین دور عباسی میں فلسفہ یونان آنے سے پہلے پہلے رب کے پاس جا پہنچے ، آیا انہیں گروزنی کانفرنس سے بچا لیا جائے گا یا گئی ان کی بھی اہلِ سنیت ؟ شورش یاد آگیا۔ عجیب شخص تھا۔۔۔ ’’شب جائے کہ من بودم ‘‘کے نام سے اپنے سفرِ عمرہ کی روداد لکھی توشاہوں پر اپنے کاٹ دار انداز میں تنقید کی ، لکھا کہ وہ بدعت سے خائف ہوکر یا عدم توجہی کی بنا پر سنت کی یاد گاریں گم کر رہے ہیں۔ جی اسی شورش نے جب سنا کہ کسی نے قائدِ اعظمؒ کے ساتھی اور مسلکِ اہلِ حدیث کے رہنما داؤد غزنوی کے بارے میں کہا ہے کہ وہ جنت میں نہیں جائیں گے۔ توپھر کیا تھا، موچی دروازے میں شورش بپھر گیا۔ اپنے خاص طنطنے ، دبدبے ، دغدغے سے کہا ، اگر داؤد غزنوی جنت میں نہیں جائے گا تومیں اس کے ساتھ جہنم میں بھی جانے کو تیار ہوں ، لیکن تمہارے ساتھ تومیں جنت جانے کوبھی تیار نہیں۔ اللہ اللہ ! کیاخاص ڈکشن ، خاص سانچے کے اور خاص طرح کے بڑے اور باصفا لوگ تھے وہ۔جناب مفتی صاحب! خدارا اتنا تو سوچئے کہ اگر اسلام کے صفِ اول کے یہ سارے متذکرہ لوگ اہلِ سنت نہیں تو پھر اہلِ سنت ہے کون؟ (صرف ایک کالم اور)

مزید : کالم