لیسکو،اضافی بل،صارفین کے ساتھ ڈکیتی!

لیسکو،اضافی بل،صارفین کے ساتھ ڈکیتی!
 لیسکو،اضافی بل،صارفین کے ساتھ ڈکیتی!

  


پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت کے کھاتے میں لوڈ شیڈنگ پڑی اور اسے 2013ء کے انتخابات میں ہزیمت اٹھانا پڑ گئی۔ اس دور میں مسلم لیگ (ن) نے اس مسئلہ کو بہت اچھالا، خصوصاً وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے تو مینار پاکستان پر کیمپ آفس بنا کر ہاتھ والے پنکھوں سے ایک تاثر پیدا کیا، مخدوم یوسف رضا گیلانی کے دور میں مظاہرے ہوئے۔ان میں بھی مسلم لیگ (ن) کے ذیلی ونگ نمایاں ہوتے تھے،حتیٰ کہ تاجر اور صنعتکار جو اس جماعت کا ووٹ بنک ہے، بڑھ بڑھ کر حکومت پر تبرّہ کہتے تھے، ان دنوں بھی مسئلہ آئی پی پیز کے بقایاجات یا پھر پی ایس او کے ادھار کا ہوتا تھا۔ جب بھی زیادہ دباؤ بڑھتا، وزیراعظم خصوصی اختیارات سے 21-20 ارب ادا کرا دیتے اور کچھ دن آرام سے گزر جاتے اور پھر ملبہ بڑھتا تو نجی پاور والے وہی ہتھیار استعمال کرتے اور بجلی کی پیداوار کم کر دیتے کبھی پی ایس او والے تیل کی سپلائی روک لیتے۔

یہ حکمران خوش نصیب ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا، مظاہرے بھی ہوتے ہیں، اول تو یہ زیادہ فکر نہیں کرتے اور یوں بھی ان میں شدت نہیں ہوتی کہ عام طور پر گھریلو صارفین ہی احتجاج کرتے ہیں۔تاجر اور صنعتکار مطمئن ہیں کہ ان کے لئے لوڈشیڈنگ( شاید) نہیں ہے بہرحال وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف اور وزیراعظم محمد نواز شریف کو شاید مسلم لیگ (ن) کا یہ احتجاج یاد نہیں، اب یہ حکومت پاور پلانٹوں کے منصوبوں کی تکمیل کے وعدوں پر گزارا کر رہی ہے اور جتنا زور سابقہ حکومت کے خلاف لوڈشیڈنگ پر احتجاج کے لئے لگایا جاتا تھا، اس سے کہیں زیادہ اب اس وعدے پر لگایا جا رہا ہے کہ 2018ء تک لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔2017ء دسمبر تک اتنے ہزار میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو جائے گی یوں عوام کی فریاد دب کر رہ جاتی ہے۔ آج کل قوم بدترین لوڈ شیڈنگ کا شکار ہے۔ شہروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں 8گھنٹے سے کم کبھی نہیں ہوئی جو بڑھ کر اب دس سے گیارہ گھنٹے ہو گئی ہے۔ دیہات کا عالم کیاہو گا ، اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وزیرخزانہ نجی پاور کمپنیوں کے واجبات ادا نہیں کرتے اور بجلی ملتی نہیں ہے۔

آج تو مسئلہ ذرا مختلف تھا کہ یہ لوڈشیڈنگ یاد آ گئی بہرحال اس کا بھی تعلق اس مسئلہ سے ہے۔ ہم پورے لاہور کی مثال ایک کالونی اور علاقے کے حوالے سے دیں کہ لیسکو والوں نے صارفین کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ اس مرتبہ بجلی کے جو بل آئے وہ صریحاً ڈاکہ زنی ہے کہ بلوں میں کم از کم پانچ سو اور کسی میں اس سے بھی زیادہ یونٹ اضافی طور پر شامل کر دیئے گئے ہیں اور بل دوگنا سے ڈھائی گنا تک ہو گئے لوگوں کی چیخیں نکل گئیں اور کئی کمزور دل حضرات صاحب فراش ہو گئے اگر کسی کی وفات ہوئی تو ذمہ دار لیسکو حکام ہوں گے۔ یہ شاید لیسکوبورڈ کی تبدیلی کا اعزاز ہے کہ آمدنی میں مصنوعی طور پر اضافہ کرکے عوام پر ظلم ڈھابا گیا ہے۔ مسئلہ کچھ یوں ہے کہ علامہ اقبال ٹاؤن گرڈ کے کئی سب ڈویژنوں میں پچھلے دو تین ماہ سے بل نہیں آرہے تھے۔ لوگ سروس سنٹر یاریونیو آفس سے بل بنوا کر یا پھر آن لائن پرنٹ لے کر ادائیگی کرتے تھے، آج صبح جب باہر دیکھا تو اوپر، نیچے کے دونوں پورشنوں کے بل پڑے تھے۔ بل دیکھ کر سانس اوپر کا اوپر رہ گیا کہ سابقہ بل سے ڈیڑھ سو فیصد زیادہ تھے، جب میٹر سے موازنہ کیا تو معلوم ہوا کہ پانچ سو سے زیادہ یونٹ فاضل ڈال دیئے گئے ہیں کہ میٹر کی جو تصویر لگائی گئی وہ بھی سرے سے غلط تھی۔ بل دیکھا تو اس پر ادائیگی کی آخری تاریخ 13اکتوبر درج ہے، آج ہفتہ اور کل اتوار دو چھٹیاں ہیں، پیر 10اکتوبر ہے، ورکنگ ڈے ہوگا، اس کے بعد 12-11 اکتوبر عاشورہ کی دو چھٹیاں ہیں اور جمعرات 13 اکتوبر ادائیگیکی آخری تاریخ دی گئی ہے۔

ہم نے سوچاکہ شاید یہ ہمارے ساتھ ہی ہوا کہ میٹر ریڈر نئے آئے تھے اور انہوں نے جس روز ریڈنگ نوٹ کی اس روز ہمارے صاحبزادے نے ان کو دونوں میٹر دکھائے بھی تھے۔ اس کے باوجود یہ ہوا، جونہی ہم دفتر آنے کے لئے گھر سے نکلے اور تھوڑا سا سودا لینے رکے تو درجنوں لوگ ہاتھوں میں بل لئے میٹروں کی ریڈنگ سے موازنہ کررہے تھے اور بل دیکھ رہے تھے جس میں سابقہ مہینوں کے استعمال کا بھی اندراج ہوتا ہے۔ ہربل میں یکسانیت تھی اور کم از کم پانچ سو یونٹ اضافی تھے۔ اب یہ کمپیوٹر کی غلطی ہے یا محکمہ کے زرخیز دماغ کی طرف سے آمدنی بڑھانے کے لئے ڈاکہ زنی، یہ تو انہی کو معلوم ہوگا صارفین کی پریشانی یہ ہے کہ وہ بل ٹھیک کروانے کے لئے سب ڈویژن پہنچے تو چھٹی تھی۔ ایس ڈی او اور انتظامی عملہ چھٹی پر تھا، صرف مرمت والا سٹاف موجود تھا، اب کل (9اکتوبر) اتوار اور یہ بھی چھٹی ہے، صرف پیر کا دن بچتا ہے ، اس میں ہی بل ٹھیک کرانا اور پھرادائیگی کرنا ہے۔ بشرطیکہ ایس ڈی او (محکمہ) درستگی پر آمادہ ہو اور اپنے عملے کی غلطی تسلیم کر لے ورنہ اس کے بعد ادائیگی کے سوا چارہ نہیں، پھر بل ٹھیک بھی ہوا تو ایڈجسٹمنٹ آئندہ بلوں میں ہوگی۔ کیایہ صریحاً ظلم اور ڈاکہ نہیں۔ یوں بھی یہ سب مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف سازش محسوس ہوتی ہے کہ آج ہی نعرہ بازی شروع ہو گئی۔ حتیٰ کہ بعض صارف تحریک انصاف پر بھی تنقید کر رہے تھے کہ صرف احتساب اور وزیراعظم کو مسئلہ بنایا عوام کے حقیقی مسائل کو چھیڑا ہی نہیں جا رہا، یہ صورت حال برقرار رہی اور صارفین کو ادائیگی پر مجبور کیا گیا تو یہ کسی بڑی ایجی ٹیشن کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اور عمران خان کا دھرنا بہت کامیاب ہو جائے گا کہ دل جلے اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ لیسکو انتظامیہ کو اس پر غور کرنا چاہیے اور موجودہ ادائیگی معطل کرکے بلوں کی درستگی کے احکام جاری کرنا چاہئیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو شدید احتجاج کی نوبت آئے گی۔

مزید : کالم