چین سے کیمیائی ہتھیاروں کی برآمد محض چند ہزار ڈالر کے بدلے ممکن

چین سے کیمیائی ہتھیاروں کی برآمد محض چند ہزار ڈالر کے بدلے ممکن

بیجنگ(این این آئی)امریکی خبررساں ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ چین مقامی سطح پرکارفینٹانل نامی ایسا مہلک کیمیکل تیار کررہا ہے جو ہیروئن سے بھی پانچ ہزار گنا زیادہ شدید اثرات کا حامل کیمیکل ہے،چین کی کئی کاروباری کمپنیاں محض چند ہزار امریکی ڈالر کے بدلے ایک ایسا بہت طاقت ور اور مہلک ثابت ہونے والا کیمیکل برآمد کرنے پر تیار ہیں، جو ممکنہ طور پر ایک کیمیائی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔امریکی خبررساں ادارے کے مطابق شدید نوعیت کے نشہ آور اثرات کے حامل اور مصنوعی طور پر لیبارٹری میں تیار کیے جانے والے اس کیمیکل کا نام ’کارفینٹانل‘ ہے، جو اب تک منشیات کے عادی ایسے ہزارہا انسانوں کی موت کی وجہ بھی بن چکا ہے، جنہیں اس کا استعمال کرتے ہوئے اس کے شدید نتائج کا علم نہیں تھا۔کم از کم 12 چینی کمپنیوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ ممکنہ طور پر دہشت گردی کے لیے یا کیمیائی ہتھیار کے طور پر استعمال ہو سکنے والے اس کیمیکل کو امریکا، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، بیلجیم اور آسٹریلیا جیسے ملکوں کو برآمد کرنے پر تیار ہوں گے۔ساتھ ہی ان اداروں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس کیمیکل کو برآمد کرتے ہوئے درآمد کنندہ سے کوئی سوالات نہیں پوچھیں گے اور ایک کلوگرام (2.2 پاؤنڈ) تک کارفینٹانل کو محض پونے تین ہزار (2,750) امریکی ڈالر کے عوض تک بھی برآمد کیا جا سکتا ہے۔جرائم کی تحقیقات کرنے والے ماہرین کے مطابق منشیات کا غیر قانونی کاروبار کرنے والے گروہوں نے یہ طریقہ اپنا لیا ہے کہ وہ اپنے منافع میں اضافے کے لیے کارفینٹانل اور اس سے ملتے جلتے ایک اور بہت تیز کیمیکل فینٹانائل کو ہیروئن جیسی منشیات میں ملا دیتے ہیں، جس کے بعد یہ منشیات اور بھی زود اثر اور مہلک ہو جاتی ہیں۔اس سلسلے میں امریکی خبررساں ادارے نے چینی حکام سے رابطے کی کوشش کی تاہم انہیں کامیابی نہیں ملی۔

مزید : عالمی منظر