مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک مزید تیز 12سالہ بچہ شہید ، جنازے پر فائرنگ سے درجنوں زخمی ، پنجاب میں سکھوں کا بھی احتجاج

مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک مزید تیز 12سالہ بچہ شہید ، جنازے پر فائرنگ سے ...

 سری نگر (مانیٹرنگ ڈیسک )مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے درندگی کی انتہا کر دی ، پیلٹ گن کی بے دریغ فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والا 12سالہ معصوم جنید احمد بھٹ گہرے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا ،قابض فوج کی فائرنگ سے ننھے جنید کی شہادت کی خبر سن کر کشمیریوں کے صبر کا پیمانہ چھلک گیا ،آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے دیوانہ وار سڑکوں پر نکل آئے اور بھارتی فوج کے خلاف شدید احتجاج کیا،ہندوستانی فوج نے شہید جنید کے جنازے پر بھی اندھا دھند گولیاں برسا کر انسانیت کی تمام حدیں توڑ دیں ،درجنوں کشمیری بھارتی قابض فوج کی فائرنگ، پیلٹ گنوں اورشیلنگ سے زخمی ،بھارتی میڈیا بھی قابض فوج کے مظالم پر خاموش نہ رہ سکا۔92ویں روز بھی کرفیو جاری ہے۔نجی چینل ’’ای ٹی وی ‘‘ کے مطابق گذشتہ روز سری نگر کے پائین شہر میں’’ آزادی کے متوالوں ‘‘ پر قابض فوج نے چھرے والی گنوں اور آنسو گیس کے شیلوں کا بے دریغ استعمال کیا جس سے درجنوں کشمیری زخمی ہو گئے تھے ،ان زخمیوں میں اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا 12سالہ معصوم جنید احمد بھٹ بھی شامل تھا جس پر بھارتی فوج نے سیدھی فائرنگ کی تھی ،سر اور سینے میں چھرے لگنے سے شدید زخمی ہونے والا جنید احمد ’’ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ‘‘میں کم از کم 12گھنٹوں تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد بالآخر ہفتہ کی علی الصبح چار بجے دم توڑ گیا۔کم سن جنید کی شہادت کی خبر ملتے ساتھ ہی ہزاروں کشمیری کرفیو کی تمام پابندیا ں توڑتے ہوئے باہر نکل آئے اور بھارتی فوج کے خلاف شدید احتجاج کیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سعید پورہ میں کم سن جنید شہید کی رہائش گاہ پر قرب و جوار سے کشمیری نوجوان کرفیوکی پابندیاں توڑتے ہوئے پہنچے اور جنید شہید کی میت’’ مزار شہدا‘‘ کی طرف لیجا رہے تھے کہ ایک مرتبہ پھر بھارتی فوج انتقام میں اندھی ہو گئی اور جنید شہید کے جنازے پر عالی مسجد کے قریب پیلٹ گن اور آنسو گیس کی شدید شیلنگ شروع کر دی ،جس کے نتیجے میں درجنوں کشمیری زخمی ہو گئے۔جنازے پر فائرنگ کے بعد عالی مسجد کا علاقہ میدان جنگ بن گیا اور بھارتی فوج نے نہتے کشمیریوں پر فائرنگ ،آنسو گیس اور لاٹھی چارج شروع کر دیا ،نہتے کشمیری بھارتی فوج کی درندگی کے خلاف میدان میں ڈٹے رہے اور پتھر برسا کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔سعید پورہ عید گاہ روڈ پر ہونے والی جھڑپوں کی خبر نے پورے مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال کو مزید بھڑکا دیا ہے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوج کی شیلنگ کے چند ہی منٹوں بعد منتشر ہونے والے شرکاء پہلے سے بھی بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور کم سن جنید شہید کی میت کو مزار شہدا لیجایا گیا اور پر نم آنکھوں سے جنید شہید کو سپرد خاک کر دیا گیا۔کمسن جنید کی شہادت کے ساتھ ہی وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد شروع ہونے والی آزادی کی نئی لہر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران شہید ہونے والے نہتے کشمیریوں کی تعداد 115سے بڑھ چکی ہے۔بھارتی ٹی وی کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والوں میں نو عمر لڑکوں اور جواں سال نوجوانوں کی تعداد قریب 70 سے زیادہ ہے ، جبکہ گزشتہ 92 روز کے دوران زخمی ہونے والے کشمیریوں کی تعداد 17 ہزار سے زیادہ ہے۔بھارتی ٹی وی کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ستمبر کے اوائل میں یہ اعلان کیا تھا کہ اب کشمیر میں چھرے والی بندوق کی جگہ پاوا شیلوں کا استعمال ہوگا، جس سے کسی کی موت واقع نہیں ہوگی، لیکن اِس اعلان کے باوجود مقبوضہ وادی میں احتجاجی مظاہرین کے خلاف چھرے والی بندوق کا استعمال جاری ہے۔بھارتی ٹی وی کا کہنا تھا کہ وادی میں گذشتہ 3ماہ کے دوران قریب ایک ہزار شہری جن میں زیادہ تعداد کم عمر نوجوانوں کی ہے، آنکھوں میں چھرے لگنے سے اپنی ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔اگرچہ پولیس نے بتایا کہ سری نگر کے دوسرے علاقوں میں لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے کے لئے صرف دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں، لیکن ایسے علاقوں کی صورتحال بھی مختلف ہی نظر آئی جن میں بیشتر سڑکوں کو خاردار تاروں سے بند رکھا گیا تھا۔پورا نالہ مار روڈ دوسرے دن بھی سنسان پڑا ہوا نظر آیا جس پر لوگوں کو جمع ہونے سے روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات رکھی گئی۔

سری نگر/مظاہرے

امرتسر(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی پنجاب میں سکھوں نے بارڈر ایریا خالی کرانے پر مودی حکومت کیخلاف شدید احتجاج کیا ہے۔مظاہرین کا کہنا تھاکہ ہماری فصلیں تیار ہیں،جو نہ کا ٹنے سے تباہ ہو جائیں گی اور ہمارا بہت نقصان ہو گا،مرکزی حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے،اور فصلیں کاٹنے کی اجازت دے۔

مزید : صفحہ اول