ڈاکٹر فاروق ستار پر دوطرفہ دباؤ ، کیاوہ ایک بار پھر استعفوں کا کارڈ کھیلیں گے ؟

ڈاکٹر فاروق ستار پر دوطرفہ دباؤ ، کیاوہ ایک بار پھر استعفوں کا کارڈ کھیلیں گے ...

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

 کراچی میں ایک مرتبہ پھر پراسرار وال چاکنگ شروع ہوگئی ہے جس میں ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان اسمبلی سے استعفوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ 22 اگست سے پہلے کے معمول کے حالات ہوتے تو اب تک باجماعت استعفوں کی لائن لگ چکی ہوتی اور کسی کو وال چاکنگ کی ضرورت پڑتی نہ یہ اعلان کرنا پڑتا کہ ووٹروں کو ارکان اسمبلی کے گھروں کے باہر جمع ہوکر ان سے استعفے طلب کرنے چاہئیں کیونکہ یہ اس ایم کیو ایم کا مینڈیٹ تھا جو 22 اگست تک موجود تھی۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں جو ایم کیوایم اس کے بعد وجود میں آئی ہے یہ ’’مائنس الطاف‘‘ ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار اس طرح تو استعفے دینے سے انکار کرچکے ہیں البتہ وہ گرفتاریوں پر سیخ پا ہیں اور اس کا مطلب وہ یہ لے رہے ہیں کہ مہاجروں کو سیاست سے روکا جا رہا ہے جبکہ گرفتار کرنے والوں کا موقف ہے کہ صرف ان لوگوں کو گرفتار کیا جار ہا ہے جن کے خلاف جرائم کے شواہد موجود ہیں کسی کو سیاسی بنیاد پر گرفتار نہیں کیا جارہا۔ یوں فاروق ستار پر دہرا دباؤ ہے ایک تو ایم کیو ایم لندن کا، جو ایم کیو ایم پاکستان کی تنظیم کو نہیں مان رہی اور لندن کا موقف یہ ہے کہ وہی ایم کیو ایم اصلی ہے جس کی سرپرستی الطاف حسین کر رہے ہیں۔ ان حالات میں اہم سوال یہ ہے کہ جرم اور سیاست میں تفریق کس طرح کی جائے؟ سوال یہ ہے کہ کیا ہر وہ شخص قانون سے بالاتر ہے جو چاہے جو جرم بھی کرے اگر وہ کسی تنظیم میں سیاست کر رہا ہے تو اس کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہئے؟ جبکہ ساری دنیا میں جرائم اور سیاست میں تفریق ہوتی ہے اور بڑے بڑے سیاستدانوں کے خلاف اگر جرائم کے ثبوت مل جائیں تو انہیں قانون کے مطابق سزا بھگتنی پڑتی ہے اور کوئی یہ کہنے کی جرأت بھی نہیں کرتا کہ یہ انتقامی کارروائی ہے۔ ابھی دو روز قبل عزیز آباد کے علاقے کے ایک گھر سے جو جدید ترین اور بھاری اسلحہ برآمد ہوا ہے اس سے ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں نے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اسلحہ کہاں سے آیا اور کس طرح اس علاقے میں پہنچایا گیا اور جنہوں نے چھپایا وہ کون لوگ تھے؟

لندن سے استعفوں کے مطالبے پر فاروق ستار یہ باور کرا رہے ہیں کہ کراچی کے ارکان اسمبلی، بلدیاتی اداروں کے منتخب ارکان سب ان کے ساتھ ہیں، تنظیم کے عہدیدار بھی ایم کیو ایم پاکستان کی حمایت کررہے ہیں جبکہ لندن میں مقیم چند لوگوں کے سوا کوئی قابل ذکر لوگ ایم کیو ایم لندن کے حامی نہیں ہیں اور کراچی میں وال چاکنگ کرنے والے بھی گمنام ہیں۔ فاروق ستار اب عملاً یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ ایم کیو ایم لندن سے الگ ہیں اور ان کے احکامات کے پابند نہیں ہیں اسی لئے لندن سے ان پر دباؤ ڈلوانے کیلئے منتخب لوگوں کو مستعفی ہونے کیلئے کہا جا رہا ہے۔ تاہم جب کوئی رکن گرفتار ہوتا ہے تو وہ اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہیں مہاجر سیاست نہ کرنے دی گئی تو پھر وہ اپنے ارکان کو استعفے دینے کیلئے کہیں گے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا استعفوں کا یہ کارڈ کھیلا جاچکا ہے تاہم بعد میں یہ استعفے واپس لے لئے گئے تھے۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ فیصلہ ہمارا اپنا ہوگا تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ استعفے لندن کی حمایت میں نہیں، ایم کیو ایم پاکستان کی حمایت میں آئیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ عزیز آباد سے جو اسلحہ برآمد ہوا ہے یہ اس اسلحے کا دس فیصد بھی نہیں جو اب بھی مختلف جگہوں پر چھپایا گیا ہے؟ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا باقی ماندہ اسلحے کی برآمدگی کیلئے بھی کوئی آپریشن جلد ہوگا۔ پولیس نے کہا ہے کہ اس نے گرفتاریاں رینجرز کی مدد کے بغیر کی ہیں اور اسلحے کی برآمدگی میں بھی کوئی مدد نہیں لی خود رینجرز نے پولیس کی اس کاوش کی تحسین کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے ملوث ملزم بھی جلد ہی گرفتار ہو جائیں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو امکان یہی ہے کہ اسلحے کے مزید خفیہ ذخیرے منظر عام پر آئیں گے۔ یہ اسلحہ کس مقصد کیلئے یہاں چھپایا گیا تھا یہ بھی جلد ہی سامنے آ جائے گا اور یہ بھی پتہ چل سکے گا کہ اس اسلحے کو کام میں لانے کیلئے کس وقت کا انتظار کیا جارہا تھا۔ بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ اسلحہ اس وقت چھپایا گیا تھا جب ایم کیو ایم پوری طرح متحد تھی نہ مصطفی کمال نے بغاوت کی تھی، نہ پاک سرزمین پارٹی بنی تھی اور نہ ہی ایم کیوایم پاکستان کا وجود تھا، ایک ہی ایم کیو ایم تھی اور اس کے واحد قائد الطاف حسین تھے جن کے حکم کے بغیر ایم کیو ایم میں کوئی اقدام نہیں ہوسکتا تھا۔ جو کچھ ہوتا تھا انہی کے حکم پر ہوتا تھا حتیٰ کہ جب لندن میں الطاف حسین پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ بنا تو ایم کیو ایم کے بڑے بڑے قائدین وہاں پولیس کو یہ صفائیاں پیش کرنے گئے تھے کہ یہ رقم تو انہوں نے اپنے قائد کو بھیجی تھی۔ الطاف حسین کے گھر سے جو لاکھوں پاؤنڈ برآمد ہوئے تھے وہ اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں اور پولیس نے عدالت کو یہ بتانا ہے کہ کیا اس کے پاس منی لانڈرنگ کے ثبوت موجود ہیں۔ اب یہ دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی ہے کہ جو لوگ الطاف حسین کی صفائی پیش کرنے کیلئے کراچی سے لندن گئے تھے، وہ اب یا تو الطاف کے باغی ہوچکے یا پھر ان کے معتوب ٹھہرے ہیں، لیکن تاحال ان میں سے کسی ایک نے بھی پولیس کو اس رقم کے بارے میں اپنے نئے موقف سے آگاہ نہیں کیا حالانکہ اگر لندن سے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا تو جوابی طور پر ان کے پاس بھی کچھ پتے تھے جن کے ذریعے وہ لندن پر دباؤ ڈال سکتے تھے اس لئے بعض حلقے اب تک کہہ رہے ہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان کا لندن کیلئے سافٹ کارنر موجود ہے جس کا اظہار دانستہ نہیں کیا جا رہا اگر حالات بہتر ہوگئے تو سب پہلے کی طرح شیر و شکر ہوں گے۔ موجودہ حکمت عملی دانستہ اپنائی گئی ہے۔

مزید : تجزیہ