سٹیرائیڈ زدہ جانوروں کا گوشت بیماریاں پھیلانے لگا،حکام نے آنکھیں بند کرلیں

سٹیرائیڈ زدہ جانوروں کا گوشت بیماریاں پھیلانے لگا،حکام نے آنکھیں بند کرلیں

لاہور ( اسد اقبال )باڈی بلڈنگ کرنے والے انسانوں کے بعد جانوروں کی افزائش اور قوت بڑھانے کے لیے اسٹیرائیڈز ادویات کے استعمال عام ہو تا جارہا ہے ۔ بظاہر دودھ اور گو شت کی پیداور میں اضافے کی غر ض سے دیئے جانے والی ممنوعہ میڈیسن جانوروں کی صحت کے لیے بھی مضر ہے اور یہ مضر صحت اثرات انسانوں میں بھی منتقل ہو رہے ہیں ۔بکروں ، چھتروں ،گائے اور بھینسوں کو اسٹیرائیڈز دیے جانے کا زیادہ تر استعمال لاہور کے گر دونواح نواحی علاقو ں اور جنوبی پنجاب میں دیکھنے کو مل رہے ہیں جہاں سے پنجاب ،سندھ ، بلو چستان اور سر حد میں مذکورہ جانوروں ،گوشت اور دودھ کی سپلائی بڑی مقدار میں کی جارہی ہے ۔لائیو سٹاک اور محکمہ صحت اس غیر قانونی دھندہ کے خلاف دانستہ طورپر آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کے دیہی علاقوں میں بڑے پیمانے پر کمزور ، بیمار قریب المرگ بکروں اور بھینسوں کو ممنوعہ ادویات جو کہ جسم کو پھلا دیتی ہیں دینے کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔بتایا گیا ہے کہ جانوروں کو اسٹیرائیڈز ادویات دینے سے کمزور و لاغر جانور دو سے تین ہفتے کے بعد اپنی اصل جسامت سے دوگنا ہو جاتا ہے تاہم اس جانور کی اندرونی حصہ ان تیز پوٹینشل ممنوعہ ادویات کا اثر زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر پاتا جس کے پیش نظر جانوروں کو اسٹیرائیڈز ادویات دینے والا مافیا اس تگ و دو میں لگ جاتا ہے کہ کسی طریقہ سے اس جانور کو منڈی میں فروخت کیا جائے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیرائیڈز ممنوعہ ادویات استعمال کر نے والے جانور کی عمر دو سے تین ہفتے تک رہ جاتی ہے۔واضح رہے کہ ممنوعہ ادویات کا اثر جانور زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتا کیو نکہ اسٹیرائیڈز ادویات کا استعمال جانوروں کے جسم میں شامل ہو کر جہاں جسم کو پھلاتا ہے وہیں جانوروں کی انتڑیاں گل جاتی ہیں جس سے جانور زیادہ دن تک زندہ نہیں رہ سکتا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مویشی منڈیوں میں اسٹیرائیڈز کا استعمال ہونے والا جانور فروخت ہونے کے بعد اس کا گوشت شہریوں کو کھانا پڑتا ہے اور مضر صحت گوشت کے استعمال سے شہری آئے روز مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ملنے والی اسٹیرائیڈز ادویات کی خریدوفروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانوں کی صحت کے ساتھ کھیلنے والے مافیا کا کاروبار بند ہو سکے ۔محکمہ لائیو سٹاک کے ایک اعلی افسر کا کہنا ہے کہ یہ بات سچ ہے کہ جانوروں میں بھی اسٹیرائیڈز ادویات کا استعمال شروع ہو چکا ہے اور ایسا کاروبار کر نے والے انسانیت کے دشمن ہیں جو جانوروں کو اپنے فائدے کے لیے ممنوعہ ادویات دے کر جانوروں اور انسانوں کی صحت کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ جانوروں کو اسٹیرائیڈز دینے والوں کے خلاف محکمہ کاروائی کر رہا ہے ۔

مزید : صفحہ آخر