پیپلز پارٹی اور عوام مائنس ون فارمولے کو مسترد کرتے ہیں :نثار کھوڑو

پیپلز پارٹی اور عوام مائنس ون فارمولے کو مسترد کرتے ہیں :نثار کھوڑو

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) پیپلز پارٹی کو آرڈینیشن کمیٹی سندھ کے سربراہ اورسینئر وزیر نثاراحمد کھوڑو نے کہا ہے کہ سیاست میں مائنس ون فارمولا نہیں چلے گااورپیپلز پارٹی مائنس ون فارمولے کو نہیں مانتی،کسی کو بھی مسترد کرنے اور قبول کرنے کا حق صرف عوام کا ہی ہے ۔مائنس ون کی باتیں کرنے والے عمران خان سے پوچھا جائے کہ کہیں اپنی پارٹی والے انھیں ہی اپنی پارٹی سے نہ نکال دیں ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتہ کو سندھ اسمبلی میں واقع اپنے دفتر میں پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر اورنگی ٹاؤن کے سابق ناظم اظہار الحق کی سربراہی میں 800کارکنان سمیت اے این پی کے محمد یوسف نے بھی اپنے ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔نثاراحمد کھوڑو نے انھیں پارٹی میں شمولیت پر خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی نئے عزم اورحوصلے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور پارٹی میں ناراض کارکنان کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے اورپارٹی کی ازسرنو تنظیم سازی کا بھی یہی مقصد تھا ۔انہوں نے کہا کہ کراچی مسلح ونگیں رکھنے والی سیاست اس ملک میں نہیں چلیں گی۔ کراچی سیاست انتہاپسندی اور عسکریت کے بغیر ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار پارٹی کی تنظیموں کو تحلیل کیا گیا۔نئی تنظیم سازی کا مقصد یہ تھا کہ تمام ناراض کارکنان کو بھی دوبارہ پارٹی کی سرگرمیوں میں شامل کیاجاسکے۔ اظہارالحق اور یوسف خان کی قیادت میں شامل ہونے والے پارٹی کی مضبوطی کیلئے جدوجہد کرینگے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا خواب لبر ل پاکستان ہی ہے اور پاکستان کامستقبل صرف جمہوریت میں ہی ہے اور جمہوریت کے علاوہ ملک کا کوئی اور دائمی حل نہیں ہے ۔نثار کھوڑو نے کہا کہ جمہوریت کے خلاف باتیں کرنے والے آمر پرویز مشرف اب سیاستدان بننے کی تو کوشش کررہے ہیں مگر وہ ایک کونسل بھی نہیں جتواسکتے ،ایسے لوگوں کی عوام کے سامنے کوئی حیثیت نہیں کیونکہ ملک کا اصل حاکم عوام ہی ہے اور عوام کے علاوہ کوئی حاکم نہیں ہوسکتا۔انھوں نے کہا کہ جمہوریت کے خلاف باتیں کرنے والے آمر مشرف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کی ذمہ دار ن لیگ کی حکومت ہی ہے جس کی قیادت ماضی میں اسی آمر مشر ف کے ساتھ دس سال کا معافی نامہ کرکے ملک سے باہر گئی اور نواز شریف کو ملک میں واپس لانے والی پیپلز پارٹی اور شہید بینظیر بھٹو ہی تھی ۔انھوں نے کہا کہ ملک میں عسکریت اور انتہا پسندی کی سیاست نہیں چلے گی اسلیئے سیاست عسکریت اور انتہا پسندی کے بغیر ہونی چائیے اور سب کو پاکستان کے قومی دھارا میں شامل ہونا چائیے ۔نثار کھوڑونے کہا کہ پیپلز پارٹی نے امن وامان کی بحالی کے لیے بلا تفریق کاروائی کی حمایت کی تھی او ر کراچی میں بلا تفریق کاروائی کی وجہ سے امن بحال ہواہے اور لوگوں کی نظریں اب سندھ میں سرمایہ کاری پر ہیں ۔انھوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا گیٹ وے ہے اور پیپلز پارٹی شہر کی ترقی کے لیے بہت کچھ کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ الطاف حسین کی تقریر کے خلاف سندھ اسمبلی نے قرارداد منظور کرکے کاروائی کے لیے وفاق کو سفارش کی مگر وفاقی حکومت نے ابھی تک اس کے متعلق کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔نثار کھوڑونے کہا کہ سانحہ 18اکتوبر کے شہداء کی یاد میں کارساز کے مقام تک 16اکتوبر کو بلاول بھٹو کی قیادت میں ریلی کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں اور یہ ریلی کراچی کی سطح پر ہوگی جس میں کتنے لوگ شریک ہونگے اس دن سب کو پتا چل جائے گا۔

مزید : کراچی صفحہ اول