چین سے حشیش کے پودوں میں لپٹی ہوئی 2500 سال قدیم لاش برآمد

چین سے حشیش کے پودوں میں لپٹی ہوئی 2500 سال قدیم لاش برآمد

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)چینی سائنسدانوں نے شمالی چین میں منگولیا کی سرحد کے قریب ایک قبر سے 2500 سال قدیم ڈھانچہ دریافت کیا ہے جو حشیش کی ٹہنیوں میں لپٹا ہوا ہے۔اس ڈھانچے کے سینے پر حشیش کے پودے سے کاٹی گئی 13 ٹہنیاں بچھائی گئی ہیں اور ان میں سے ہر ٹہنی کی لمبائی ایک میٹر کے لگ بھگ ہے۔ یہ ڈھانچہ ایک آدمی کا ہے جو بظاہر کاکیشیائی نسل کا (سفید فام) لگتا ہے جب کہ مرتے وقت اس کی عمر 35 سال رہی ہوگی۔ یہ دریافت شمالی چین میں ’’ترپان‘‘ نامی قصبے کے ’’جیائی‘‘ قبرستان سے ہوئی ہے جہاں اس کے علاوہ 240 مزید قبریں موجود ہیں۔قبل ازیں وسطی یوریشیا (یورپی اور ایشیائی علاقوں) کے مختلف مقامات سے ایسی پرانی قبریں مل چکی ہیں جن میں دفن ہونے والوں کو ’’بھنگ‘‘ (cannabis) کے پودوں میں لپیٹا گیا تھا۔ اگرچہ بھنگ کی طرح حشیش کے پودے سے بھی مختلف منشیات بنائی جاتی ہیں لیکن یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب حشیش کے پودوں میں لپٹا ہوا کوئی ڈھانچہ برآمد ہوا ہے۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ پورے قبرستان میں یہ واحد قبر ایسی ہے جس میں کسی مْردے کو حشیش کے پودوں میں لپیٹا گیا ہے۔ماہرین کو یقین ہے کہ مرنے والوں کی نشہ آور پودوں میں لپیٹ کر تدفین کا عمل کسی قبائلی رسم کا عکاس ہے۔ لیکن وہ رسم کیوں انجام دی جاتی تھی اور اس کا مقصد کس دیوی یا دیوتا کو خوش کرنا ہوتا تھا؟ اس سوال کا جواب فی الحال ان کے پاس نہیں۔یہ دریافت یونیورسٹی آف چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ماہرین کی ایک ٹیم نے کی ہے۔ ریڈیو کاربن تاریخ نگاری (ریڈیو کاربن ڈیٹنگ) کی بنیاد پر انہوں نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ ڈھانچہ 2400 سے 3 ہزار سال تک قدیم ہوسکتا ہے اور شاید اس کا تعلق ’’گوشی سلطنت‘‘ سے تھا جس کی تہذیب 2 ہزار سے 3 ہزار سال پہلے کے زمانے میں موجود تھی۔ وسطی یوریشیا میں گوشی سلطنت دنیا کی قدیم ترین اور سب سے بڑی تجارتی راہداری ’’شاہراہِ ریشم‘‘ (سلک روڈ) سے قریب واقع تھی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر