سمندروں میں ہمارے تصور سے بھی زیادہ کچرا موجود ہے، ماہرین

سمندروں میں ہمارے تصور سے بھی زیادہ کچرا موجود ہے، ماہرین
 سمندروں میں ہمارے تصور سے بھی زیادہ کچرا موجود ہے، ماہرین

  


میری لینڈ(مانیٹرنگ ڈیسک)ماہرین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے جدید ترین آلات استعمال کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ سمندروں میں پھینکا گیا کچرا ہمارے تصورات سے کہیں زیادہ مقدار میں ہوسکتا ہے۔ہر سال لاکھوں ٹن کچرا دنیا بھر کے سمندروں میں پھینکا جاتا ہے جس کا بڑا حصہ پلاسٹک کی تھیلیوں اور اسی قسم کے چھوٹے بڑے ٹکڑوں پر مشتمل ہوتا ہے جن کی جسامت ایک ناخن سے لے کر نصف میٹر تک ہوسکتی ہے۔ماحول کو تباہ کرنے والی ان ہی انسانی سرگرمیوں کے باعث کھلے سمندر میں کئی جگہوں پر پانی کے اوپر تیرتے ہوئے کچرے کے بہت وسیع ڈھیر وجود میں آچکے ہیں جن میں سے ہر ایک لاکھوں مربع کلومیٹر جتنا بڑا ہے۔انہیں سمندر میں ’’کچرے کے پیوند‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ البتہ سمندر میں کچرے کا سب سے بڑا پیوند بحرالکاہل میں واقع ہے جو اندازاً 15,000,000 (ایک کروڑ پچاس لاکھ) مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اسی مناسبت سے ’’دی گریٹ پیسفک گاربیج پیچ‘‘ بھی کہلاتا ہے۔ہالینڈ میں قائم ’’اوشن کلین اپ‘‘ نامی عالمی تنظیم کے سائنسدانوں نے امریکا کی ’’نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن‘‘ (NOAA) کے تعاون سے اس سمندری کچرے کا ایک بار پھر جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ بحرالکاہل میں کچرے کے اس وسیع پیوند میں ہمارے سابقہ خیالات کے مقابلے میں کہیں زیادہ کچرا موجود ہے اور اس کا بڑا حصہ پلاسٹک کی استعمال شدہ تھیلیوں پر مشتمل ہے۔اسی کے ساتھ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ہمیں اس کچرے کو صاف کرنے میں ہنگامی کارروائیاں کرنا ہوں گی ورنہ یہ سمندر میں پائے جانے والے جانداروں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاسکتا ہے جو بالآخر انسانوں میں غذائی قلت کو شدید تر کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر