کمیونٹی پولیسنگ کی بدولت جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ،ڈی آئی جی مردان

کمیونٹی پولیسنگ کی بدولت جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ،ڈی آئی جی مردان

مردان(بیورورپورٹ)ڈی آئی جی مردان ریجن اعجاز احمد خان نے کہاہے کہ کمیونٹی پولیسنگ کی بدولت جرائم کی شرح میں انہتائی کمی آئی ہے ، پولیس آرڈ2016ء نے جہاں پولیس کو خودمختیار ی دی ہے وہاں انہیں منتخب نمائندوں کو جواب دہ بنادیاہے،وہ مردان پریس کلب میں سی آر سی ایس ایس کے زیر اہتمام اولسی پولیس پبلک فورم سے خطاب کررہے تھے جس میں پولیس آفیسران ،منتخب بلدیاتی نمائندوں اور سول سوسائٹی کے کثیرافراد نے شرکت کی تقریب سے ڈی پی او فیصل شہزاد اور تحصیل مردان کے نائب ناظم مشتاق سیماب ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا ڈی آئی جی مردان اعجاز احمد خان نے کہاکہ امن کی بحالی میں شہریوں کی پولیس سے براہ راست تعاون از حد ضروری ہے اور دوطرفہ تعاون ہی سے وہ کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں جس کے لئے یہ فورس بنی ہے آرپی او نے کہاکہ پولیس اسسٹنس لائن اور پولیس ایکسس سروسز کے ذریعے عوام کو ون ونڈو سہولیات فراہم کی جارہی ہے، عوامی شکایات کے ازالے کے لئے اعلی افسران کے موبائل نمبر مشتہر کئے گئے ہیں تاکہ کوئی بھی شکایت کنندہ شخص اعلی عہدیداروں تک پہنچنے سے محروم نہ رہے اور ان کی شکایات کا بروقت ازالہ کیا جاسکے۔ اعجاز احمدخان نے پولیس اصلاحات اور اس کے عوام کو ملنے والے فوائد کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے بتا یا کہ صوبے میں پولیس کی تربیت کے لئے 9 مخصوص سکول قائم ہیں جس میں آفیسران سے لے کر کانسٹیبل لیول کے اہلکار تک تربیت دی جارہی ہے اوراس کی بدولت پولیس کی رویوں میں بہتری آئے گی۔ انھوں نے سی آر ایس ایس کے اولسی پولیس پراجیکٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے شہر اوردیہی علاقوں کے شہری یکساں مستفید ہورہے ہیں قبل ازیں سی آرایس ایس کے منتظمین نے شرکاء کو بتایاکہ سی آر ایس ایس کے زیر اہتمام اولسی پولیس پراجیکٹ یو ایس ایڈ سمال گرانٹ اور ایمبیسیڈرز فنڈ کے تعاون سے مردان، پشاور اور چارسدہ میں رو بہ عمل لایا جا رہا ہے جس کا بنیادی مقصد عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کو کم کرکے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ اس مقصد کے لئے مردان پشاور اور چاسدہ میں ہر ہفتے ریڈیو پروگرامز کے ساتھ ساتھ مشاورتی اجلاس اور پبلک فورم کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو پولیس میں کئے گئے اصلاحات سے آگاہ کیا جاسکے۔ اور عوام میں پولیس سے خوف کو کم کرکے ایک دوسرے سے تعاون پر آمادہ کیا جاسکے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر