سی پیک منصوبے کی تکمیل سے جی ڈی پی7.5فیصد تک پہنچنے کا امکان

سی پیک منصوبے کی تکمیل سے جی ڈی پی7.5فیصد تک پہنچنے کا امکان

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی کنسلٹنگ فرم ڈیلوئے اینڈ ٹچ نے توقع ظاہر کی ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں سے2015 سے 2030 کے عرصے کے دوران بلاواسطہ 7لاکھ نوکریوں کے مواقع پیدا ہونگے جبکہ مجموعی قومی پیداوار کی ترقی کی شرح میں 2.5فیصد اضافہ ہو گا جس کے بعدموجودہ ترقی کی شرح 5فیصد سے بڑھ کر 7.5فیصدتک پہنچ جائے گی۔اس کے علاوہ منصوبوں کیلئے سپلائی چین اور سروس سیکٹرز میں 14لاکھ نئی نوکریاں شامل ہونگی ، بلوم برگ کے فسیح منگی کی ٹویٹ کے مطابق بلواسطہ نوکریوں کی مثال پا کستان کے سیمنٹ پروڈکشن سیکٹر میں بہت بڑا اضافہ ہے جس سے سیمنٹ کی سالانہ پیداوار ی صلاحیت 45ملین ٹن سے بڑھ کر 65ملین ٹن ہو جائے گی جبکہ سروسز سے لیکر ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹیشن سیکٹرز میں دیگر بلواسطہ نوکریوں کے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ڈیلوئے کی رپورٹ کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری سے نہ صرف پاکستان میں بے پناہ اقتصادی مواقعوں کے دروازے کھلیں گے بلکہ عملی طور پر چین کو ایشا ، یورپ اور دیگر دنیا میں اپنی مارکیٹوں سے عملی طور پر ملائے گا۔اس وقت چین کا تقریباْ 80ٰفیصد تیل مشرق وسطیٰ سے آبنائے ملکاکا کے راستے شنگھائی ٹرانسپورٹ کیا جاتا ہے اور یہ فاصلہ تقریباْْ16ہزار کلو میٹر بنتا ہے جس کو طے کرنے میں دو سے تین مہینے درکار ہوتے ہیں تاہم پاکستان میں گوادر پورٹ کے آپریشنل ہونے سے یہ فاصلہ کم ہو کر 5ہزار کلو میٹر سے بھی کم رہ جائے گا۔ اگر سب کچھ صحیح اور شیڈول کے مطابق ہوا تو گیس ، کوئلے اور شمسی توانائی کے 21معاہدوں میں سے 14مارچ 2018ء تک 10ہزار چار سو میگا واٹ بجلی فراہم کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

مزید : پشاورصفحہ اول