فاٹا میں ریفرنڈم کا مطالبہ کرنیوالے قبائلی پختونوں کے دشمن ہیں، سکندر شیر پاؤ

فاٹا میں ریفرنڈم کا مطالبہ کرنیوالے قبائلی پختونوں کے دشمن ہیں، سکندر شیر ...

خیبر ایجنسی ( بیورورپورٹ) فاٹا اصلاحات رپورٹ پرفوری عمل درآمد ہونا چاہئے ، اصلاحات روکوانے کے لئے فاٹا میں ریفرنڈم کا مطالبہ کرنے والے قبائلی پختونوں کے دشمن ہیں، قبائل کو مراعات نہیں حقوق دیں ، فاٹا کو صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے ، افغانستان کے ساتھ برادرانہ اور اچھے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان اور افغانستان کا امن آپس میں جڑا ہوا ہے ، فاٹا میں ۳ جی نیٹ سروس کو بحال کیا جائے ، سینئر صوبائی وزیر اور قومی وطن پارٹی کے صوبائی چئیرمین سکندر حیات خان شیر پاؤ کی لنڈی کوتل میں میجر دوست محمد کی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر تقریب سے خطاب۔ خیبر ذخہ خیل کے ملک میجر دوست محمد آفریدی نے خاندان سمیت قومی وطن پارٹی میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کر دیا لنڈی کوتل میں میجر دوست محمد کے حجرے میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر اور قومی وطن پارٹی کے صوبائی چئیر مین سکندر حیات خان شیر پاؤ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین اچھے تعلقات اور ہر سطح پر روابط بڑھانے کی ضرورت ہے افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان محفوظ ہوگا سکند ر شیرپاؤ نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی وجہ سے قبائلی عوام اور صوبے کے پختونوں نے جو حالات دیکھے ہیں اور جو قربانیاں دی ہیں دنیا کی دیگر اقوام اس کا تصور بھی نہیں کر سکتیں لیکن اس کے باؤجود بھی عالمی طاقتوں نے اس خطے کو نظر انداز کر کے یہاں کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کچھ بھی نہیں کیا سکندر شیر پاؤ نے کہا کہ قبائلی عوام کی واضح اکثریت فاٹا کو صوبے میں ضم کر نے کے حق میں ہیں جس کا ثبوت فاٹا اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے انہوں نے مرکزی حکومت پرزور دیا کہ فاٹا اصلاحات رپورٹ پر فوری عمل کر کے اس کو صوبے میں ضم کیا جائے تاکہ آئندہ عام انتخابات کے موقع پر قبائلی عوام کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی مل سکے انہوں نے مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی وغیرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کو خبردار کیا کہ وہ فاٹا اصلاحات کو ناکام بنانے کے لئے ریفرنڈم کا مطالبہ ترک کریں اور قبائلی پختونوں کی دشمنی کا روش ختم کریں اور ان سے کہا کہ فاٹا پر سیاست نہ کریں بلکہ فاٹا کے لئے سیاست کرکے ان کی خدمت کریں انہوں نے کہا کہ ایف سی آر ختم کرنے کا وقت آگیا ہے تاکہ قبائلی عوام اپنے حقوق حاصل کر کے ترقی کر سکے انہوں نے افسوس سے کہا کہ اسلام آباد اور لاہور میں تومیٹر و بس سروس پر اربوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں اور پنجاب اور سندھ میں کارخانے لگائے جاتے ہیں جبکہ فاٹا میں لوگ پانی ، بجلی ، صحت اور تعلیم کی سہولیات حاصل کرنے کے لئے فریاد کرتے ہیں اس لئے دوغلاپن ختم کیا جائے اور قبائلی عوام کی خوشحالی کے لئے کام کیا جائے اور ان کو محکوم نہ رکھا جائے انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی وجہ سے گھر، مساجد ، حجرے،اور دیگر تمام ادارے برباد ہوئے اور لاکھوں قبائل بے گھر ہوئے اس لئے اب مرکزی حکومت ان تباہ شدہ اداروں کی از سر نو تعمیر اور قبائلی عوام کے گھروں کو آباد کرانے کے لئے بڑے پیمانے پر آباد کاری اور بحالی کا عمل شروع کریں اور قبائلی عوم کی پسماندگی اور احساس محرومی کو ختم کریں سکندر شیر پاؤ نے فاٹا میں تھری جی نیٹ سروس کی بندش پر برہمی کااظہار کر تے ہوئے تھری جی نیٹ سروس فوری بحال کرنے اور سی پیک کو فاٹا سے منسلک کرنے کا مطالبہ کیا تقریب سے قومی وطن پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری ہاشم بابر ، اسد آفریدی ، ڈاکٹر اعظم خان اور میجر دوست محمد نے بھی خطاب کیا اور خطے اور علاقے کی صورتحال پر روشنی ڈالی۔

مزید : پشاورصفحہ اول