کوئی طاقت پاکستان کو تنہا نہیں کر سکتی، انڈیا اور افغانستان سے متعلق پالیسی میں پاک فوج کا کوئی کردار نہ ہو،سوچ ہی غلط ہے :عبد الباسط

کوئی طاقت پاکستان کو تنہا نہیں کر سکتی، انڈیا اور افغانستان سے متعلق پالیسی ...
کوئی طاقت پاکستان کو تنہا نہیں کر سکتی، انڈیا اور افغانستان سے متعلق پالیسی میں پاک فوج کا کوئی کردار نہ ہو،سوچ ہی غلط ہے :عبد الباسط

  


نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر عبد الباسط نے کہا ہے یہ توقع ہی غلط ہے کہ انڈیا اور افغانستان سے متعلق پالیسی میں پاک فوج کا کوئی کردار نہ ہو،بھارت جانب سے سرجیکل سٹرائیک کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کنٹرول لائن کے پار فائرنگ کو سرجیکل اسٹرائیک کا نام دینا چاہتا ہے تو ہم اسے ایسا کرنے سے نہیں روک سکتے۔

بھارتی اخبار’’ ٹائمز آف انڈیا‘‘ کو انٹر ویو دیتے ہوئے عبد الباسط کا کہنا تھا کہ سچی بات تو یہ ہو کہ سرجیکل سٹرائیک کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ،اور اگر ایسا کچھ ہوتا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاک فوج کی جانب سے اس کا منہ توڑ اور مناسب جواب ملنا تھا ،پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارت کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی ،پاکستان بین الاقوامی برادری کا اہم حصہ ہے اور اقوام متحدہ کی امن کوششوں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 20 کروڑ عوام پر مشتمل ہے اور قدرت نے ہمارے ملک کو ایسا جغرافیائی محل وقوع عطا کیا ہے کہ دنیا میں کوئی ملک بھی اسے تنہا نہیں کرسکتا اور بھارت بھی پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکام ہوچکا ہے،پاکستان کو تنہا کرنے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے بہتر ہو گا کہ ایک دوسرے سے منسلک اور مربوط ہونے کی صورتوں پر غور کیا جائے، پاکستان مغربی ایشیا، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان فطری طور پر ایک مربوط حیثیت رکھتا ہے، پاکستان کی یہ پوزیشن اس سے کوئی چھین نہیں سکتا،مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں ۔عبدالباسط کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دینا غلط ہے ،کیا برہان وانی کے جنازے میں جن ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ،کیا وہ دہشت گرد تھے ؟ کیا جن 110افراد کو بھارتی فوج نے شہید کیا ،وہ دہشت گرد تھے ؟اور جن 14ہزار لوگوں کو شدید زخمی کیا وہ دہشت گرد تھے؟ کشمیر کے لوگ اپنے طور پر آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں ، پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے لیکن دونوں ممالک میں پائی جانے والی کشیدگی اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک مسئلہ کشمیر کو آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے حل نہیں کیا جاتا،مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر پاک بھارت تعلقات درست نہیں ہو سکتے ۔

انہوں نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ اگلے پانچ دس برسوں میں پاکستان علاقائی اقتصادی آماجگاہ بننے جارہاہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان مغربی ایشیا، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان فطری طور پر ایک مربوط حیثیت رکھتا ہے، پاکستان کی یہ پوزیشن اس سے کوئی چھین نہیں سکتا۔انہوں نے پاک بھا رت مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جہاں تک مذاکرات کے فریم ورک کا تعلق ہے کہیں کوئی تعطل نہیں، کی جانب سے سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کے باعث اجتماعی نقصان ہوا، خطے میں امن و استحکام کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان طے شدہ لائحہ عمل کے ساتھ ساتھ مذاکراتی عمل کو بھی دوبارہ شروع کیا جائے، اس لئے اہم قدم یہ اٹھایا جائے کہ مذاکرات کی میز پر لوٹا جائے جس کا فریم ورک پہلے سے طے شدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ہندستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے حق میں تو ہیں لیکن بد اعتمادیاں اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتیں جب تک مسئلہ کشمیر کا ایماندارانہ اور منصفانہ حل نہیں نکلتا، دونوں ہمسایوں کے درمیاں تعلقات بہتر بنانے کے لئے مسئلہ کشمیر کا پیشگی حل ضروری ہے ۔

مزید : بین الاقوامی