خادم اعلیٰ کسانوں کے ہیرو یا ولن؟

خادم اعلیٰ کسانوں کے ہیرو یا ولن؟
خادم اعلیٰ کسانوں کے ہیرو یا ولن؟

  


تحریر: چوہدری ذوالقرنین ہندل

کسان بے چارے ہر گزرتے سال کے ساتھ قرض کے بوجھ تلے دبتے چلے جا رہے ہیں۔وہ جو دوسروں کو ضروریات غذا فراہم کرتے ہیں خود اپنی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں،چاول کی فصل کی کاشت کا آغاز ہے اور ڈیلروں نے کسانوں کو لوٹنے کے لئے چھریاں تیز کر رکھی ہیں۔دوران نگہداشتِ فصل، بجلی کے بلوں اور کھادوں دواؤں نے پہلے ہی کسانوں کو چھلنی کر رکھا ہے۔کسانوں کو چھلنی کرنے میں محکمہ زراعت بھی برابر کا شریک ہے۔یوں سارے زخموں سے چور چور کسانوں نے لاہور دھرنے دیے تو بہت سے کسانوں کو گرفتار کرلیا گیا۔کسان تنظیموں کے راہنماؤں سے مک مکا کر کے پنجاب حکومت نے معاملہ رفع دفع کیا۔اور وزیر اعلی پنجاب نے کسانوں کو چپ کی گولی دینے کے لئے 100 ارب روپے کے بلا سود قرضے دینے کا اعلان کیا۔کیا اس اعلان پر وزیر اعلی قائم رہیں گے؟۔گزشتہ سال وزیر اعظم کسان پیکج پر عملدرآمد نہیں ہو سکا واضح رہے کہوزیر اعظم کسان پیکج صرف وقتی گولی ثابت ہواتھا۔

پاکستان کا شمار بڑے زرعی ممالک کی لسٹ میں ہوتا ہے۔پاکستان کی 70 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جن کا دارومدار زراعت پر ہے۔زراعت بڑے زرعی ملکوں کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔پاکستان بڑے سکیل پر چاول گندم کپاس اور سبزیاں وغیرہ کاشت کرتا ہے۔پاکستان زرعی اجناس دوسرے ممالک کو بھی فراہم کرتا ہے۔پاکستانی چاول گندم اور آم دنیا بھر میں مشہور ہیں۔چھوٹے کاشتکار دن رات محنت کر کے زرعی اجناس کاشت کرتے ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء چاول آٹا دودھ گوشت سبزیاں اور پھل سب انہی کاشتکاروں اور کسانوں کی بدولت ہے۔انسانی زندگی میں غذا بھی آکسیجن سی حیثیت رکھتی ہے۔انسان گاڑی گھر کپڑے جوتوں اور بجلی گیس کے بغیر تو زندہ رہ سکتا ہے مگر غذا کے بغیر زندہ رہنا نا ممکن ہے۔دنیا بھر میں غذا و خوراک کا بندوبست کاشتکار و کسان کرتے ہیں۔کوئی بھوکے کو کھانا فراہم کرے تو بھوکا اسے اپنا محسن سمجھتا ہے۔مگرپاکستان بھر میں کسان کو اس کے ہنر و کام کے مطابق کبھی عزت و حیثیت نہیں دی گئی۔کاشت کی ہوئی فصل کے پورے دام بھی نہیں دیے جاتے۔دنیا کو کسانوں کو محسن تسلیم کرنا ہوگا۔یہ حقیقت ہے۔کسان ہر سال اپنی فصل کی بے حرمتی کے باوجود بھی اگلی فصل کاشت کرتا ہے۔بات آج پھر پاکستانی زراعت پر ہوگی۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں بڑے و چھوٹے کاشتکار موجود ہیں۔اسی لئے محکمہ زراعت بھی موجود ہے۔

محکمہ زراعت کے ذمے بہت سے کام ہوتے ہیں۔جس میں کھادوں دواؤں کی کوالٹی چیک کرنا اور کمپنی کو مارکیٹنگ کی اجازت دینا یا بین کرنا ۔کھادوں دواؤں کے ریٹ چیک کرنا اور انہیں بیلنس کرنا۔کسانوں کو مفید کاشتکاری کے مشورے دینا۔تمام علاقوں میں کھیتوں کا وزٹ و سروے کرنا۔کسانوں کو زمین کی نوعیت کے حساب سے بیج فراہم کرنا۔فصلوں پر لگے اخراجات اور فصلوں کے ریٹ میں توازن قائم کرنا۔فصلوں میں پھیلتی بیماریوں کی روک تھام کے لئے تجربات کرنا اور لوگوں کو حقائق سے آگاہ کرنا۔ڈائریکٹ کسانوں سے رابطہ قائم کرنا اور انکو مفید مشورے دینا انکے زرعی مسائل کو حل کرنا۔نئی جدید مشینری سے روشناس کروانا اور نئی جدید مشینری تک کسانوں کی رسائی کو یقینی بنانا۔مزید بہت سے کام بھی محکمہ زراعت کے ذمے ہوتے ہیں۔مگر پاکستان میں محکمہ زراعت خود کو ان سب کاموں سے دستبردار سمجھتا ہے۔یہاں محکمہ زراعت کا کام صرف اور صرف مال بنانا ہے۔جعلی کمپنیوں کو روپے کے عوض جعلی ادویات اور ناقص بیج فروخت کرنے دینا۔شاید ہماری سرکار بھی انہیں جعل سازی کے لئے تنخواہیں دیتی ہے۔کسان ہرسال اپنی بے بسی کا رونا روتا ہے۔اورہمیشہ کسانوں کو چپ کی گولی کھلا دی جاتی ہے۔چاول کی فصلیں کاشت ہونی شروع ہو گئی ہیں۔فصلوں کے کم دام کسانوں کو ڈرانے میں مصروف ہیں۔اپنی پریشانی کے باعث کسانوں نے احتجاج بھی کیا۔مگر ہمیشہ کی طرح سرکار نے کسانوں کی پریشانی کا حل نکالنے کی بجائے وقتی چپ کی گولی کا استعمال کیا۔ایسی گولیاں ماضی میں بھی دی جا چکی ہیں۔جس کی مثال وزیراعظم کا 340 ارب کی کسانوں کی امداد کا اعلان تھا۔جو صرف اعلان ہی رہا چند قریبی ساتھیوں کی امداد کے بعد وزیر اعظم پیکج بند ہوگیا اور چپ کروانے کی گولی ثابت ہوا۔بعد ازاں اس رقم کو اورنج لائن پر لگایا گیا۔

اب وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے 100 ارب کے بلا سود قرض کسانوں کو دینے کا اعلان کیا ہے۔یہ بھی وقتی گولی ہی ہوسکتی ہے کیونکہ ابھی پنجاب حکومت کے کئی پراجیکٹس زیر تکمیل ہیں اور ان پراجیکٹس کو الیکشن سے پہلے پایہ تکمیل تک پہنچانا حکومت کی مجبوری ہے۔ ایسے میں حکومت کو روپے روپے کی ضرورت ہوگی۔جسکی وجہ سے کسانوں کی سو ارب کی امداد بھی انہی پراجیکٹس کی نذر ہوگی۔کسان ہمیشہ کی طرح ہاتھ ملتے ہی رہ جائیں گے۔اگر کسی کا ہاتھ بھرا بھی تو وہ اثرو رسوخ والا ہوگا۔جناب شہباز شریف صاحب کہتے ہیں کہ ماضی میں حکومت زراعت سے منسلک لوگوں کی تھی مگر انہوں نے زراعت کی بہتری کے لئے کوئی کام نہیں کیا۔جناب وزیر اعلی صاحب ق لیگ حکومت نے کسانوں کو مستحکم کیا تھا۔گزشتہ حکومت نے فصل اور کھاد و ادویات کے ریٹ میں توازن قائم کیا تھا۔کسانوں کو فصلوں کے دام ان کی محنت کے مطابق دلائے تھے۔بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ کسانوں کو خود مختار بنایا تھا اسی لئے کسان اس دور کو اب بھی یاد کرتے ہیں۔ فرض کریں اگر آپ قرضوں کی فراہمی اور اس میں شفافیت کو بھی یقینی بناتے ہیں۔چھوٹے کسان جن کا بال بال پہلے ہی قرضوں تلے ڈوبا ہوا ہے۔کیاوہ 65 ہزار فی ایکڑ لے کر خوش حال ہو جائیں؟کیا ان کی پریشانیاں کم ہو جائیں گی؟کیا وہ قرض دوبارہ واپس کر پائیں گے؟کیا اس سکیم سے کسان اور قرض تلے نہیں دب جائے گا؟۔محترم وزیر اعلی صاحب اگر آپ واقعی کسانوں کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو مہربانی کر کے انہیں خود مختار بنائیں نا کہ قرض تلے دبائیں۔کسانوں کو ان کی محنت کا صلہ دلوائیں۔انکو انکی فصلوں کے حقیقی دام دلائیں۔مڈل مین اور محکمہ زراعت کی چالاکیوں سے نجات دلائیں۔کھادوں دواؤں کے دام کم کروائیں۔محکمہ زراعت کو نیند سے بیدار کریں اور انہیں انکا کام یاد دلائیں۔کسانوں کو ہر حال میں انکی فصلوں کے صحیح دام دلائیں۔اور بجلی کے بلوں کھادوں اور جڑی مار ادویات کے ریٹ میں توازن فصلوں کے ریٹ کے مطابق ہونا چاہیے ۔تاکہ ہر محنتی کو اس کا صلہ مل جائے۔قرضوں سے کسان دب جائے گا ۔اگر دکھی کسانوں کے ہیرو بننا چاہتے ہیں تو کسانوں کے حقیقی مسائل کو حل کرنے اور کسانوں کو مستحکم کرنے کا عزم کریں۔وگرنہ آپکی ہرا مدادچپ کی گولی ہی تصور کی جائے گی۔اور اسکا خمیازہ الیکشنز میں بھگتنا پڑے گا اور کسان آپ کوبھی اپنا ولن سمجھ بیٹھیں گے۔

مزید : بلاگ