پنجاب بار کونسل کا ہائی کورٹ کا حکم ماننے سے انکار ،لاہور بار کے نائب صدر کا لائسنس بحال کر دیا

پنجاب بار کونسل کا ہائی کورٹ کا حکم ماننے سے انکار ،لاہور بار کے نائب صدر کا ...
پنجاب بار کونسل کا ہائی کورٹ کا حکم ماننے سے انکار ،لاہور بار کے نائب صدر کا لائسنس بحال کر دیا

  


لاہور(نامہ نگارخصوصی) پنجاب بار کونسل نے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں قائم 7رکنی سپروائزری کمیٹی کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس کمیٹی کی طرف سے لاہور بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر رانا سعید انور کی وکالت کے لائسنس کی معطلی کا حکم کالعدم کر دیا ہے ۔

پنجاب بار کونسل نے ہائی کورٹ کی اس سپروائزری کمیٹی کے خلاف آج 10اکتوبر کو صوبہ بھر میں وکلاءکو ہڑتال کی کال بھی دے دی ہے ۔پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے رانا سعید انور کی وکالت کا لائسنس بحال کرتے ہوئے اپنے عبوری فیصلے کی نقول رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ اور سیشن جج لاہور کو بھی بھجوا دی ہیں جبکہ ہائی کورٹ بار اور لاہور بار کے صدور کو ہدایت کی ہے کہ بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اس فیصلے کی نقول نوٹس بورڈ پر چسپاں کی جائیں ۔ممتاز مصطفی کی سربراہی میں قائم پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے رانا سعید انور کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ تاریخ سماعت پر لاہور ہائی کورٹ کی سپر وائزری کمیٹی کے متعلقہ فیصلے کی نقل پیش کی جائے ۔پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے یہ کارروائی رانا سعید انور کی درخواست پر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم عدالت عالیہ کے سات ججوں پر مشتمل سپروائزری کمیٹی نے جج سے بد تمیزی کے الزام میں انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا ہے ۔سعید انور نے بار کونسل کی کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے سنا ہے کہ ہائی کورٹ کی کمیٹی نے 3ماہ کے لئے ان کی وکالت کا لائسنس معطل کر دیا ہے۔ پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ لیگل پریکٹیشنرز اور بارکونسلز ایکٹ1973 کے تحت کسی وکیل کے خلاف کارروائی کا اختیار پنجاب بار کونسل کو حاصل ہے ۔پنجاب بار کونسل ایک قانونی ادارہ ہے جبکہ ہائی کورٹ کی سپروائزری کمیٹی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اس لئے اگر ہائی کورٹ کی اس کمیٹی نے لائسنس معطلی کاکوئی حکم جاری کیا ہے تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اس لئے رانا سعید انور کو وکالت کی مکمل اجازت ہے ۔ہفتہ کے روز لاہور ہائی کورٹ کی سپروائزی کمیٹی نے لاہور بار کے نائب صدر رانا سعید انور کی وکالت کا لائسنس تین ماہ کےلئے معطل کرتے ہوئے معاملہ مزید کارروائی کےلئے پنجاب بار کونسل کو بھجوانے کا حکم دیا تھا۔ ایڈووکیٹ رانا سعید انور کے خلاف ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور ندیم انجم کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کو شکایت موصول ہوئی تھی کہ انہوں نے عدالت کے نائب قاصد رضوان منشاءسے جوڈیشل فائل چھینی اور بعد ازاں عدالت میں مذکورہ ایڈیشنل سیشن جج کے ساتھ بدتمیزی کی اور انہیں دھمکیاں دیں۔ مذکورہ وکیل نے ایڈیشنل سیشن جج کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال بھی کیا، اسی اثناءمیں وکیل رانا سعید انور کا جونیئر ساری جوڈیشل فائلیں لے کر بھاگ گیا۔ پولیس نے جونیئر وکیل کو روکنے کی کوشش کی تو وکیل رانا سعید انور نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیااور عدالتی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ہائی کورٹ کی سپروائزری کمیٹی نے رانا سعید انور کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 8اکتوبر کو وضاحت کے لئے طلب کیا تھا ۔وہ کمیٹی میں پیش نہیں ہوئے تھے جس پر ان کی وکالت کا لائسنس معطل کر دیا گیا تھا۔پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئر مین ممتاز مصطفی نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم وکلاءکی طرف سے ججوں کے ساتھ بدتمیزی کے خلاف ہیں اور درجنوں وکلاءکے لائسنس اس بناءپر منسوخ بھی کئے جا چکے ہیں ۔رانا سعید انور کے خلاف ہائی کورٹ کی طرف سے کوئی ریفرنس موصول ہوا تو اس پر بھی قانون کے مطابق کارروائی ہو گی تاہم عدالت عالیہ کی سپروائزری کمیٹی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔پاکستان میں نافذ العمل کسی قانون میں بھی ایسی سپروائزری کمیٹی کا کوئی ذکر نہیں ملتا اس لئے اس کمیٹی کے فیصلے کو پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے منسوخ کیا ہے ۔پنجاب بار کونسل کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وکلاءہائی کورٹ کی سپروائزری کمیٹی کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے ۔یہ ایک نام نہاد کمیٹی ہے جسے وکلاءکے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل نہیں اس لئے وکلاءآج 10اکتوبر کو صوبہ بھر میں ہڑتال اور عدالتوں کا بائی کاٹ کریں گے۔

مزید : جرم و انصاف /اہم خبریں