روس نے انتہائی خطرناک قدم اٹھالیا، ایٹمی معاہدے معطل کردئیے، ایسا کیوں کیا؟ ایسا انکشاف کہ دنیا پریشان ہوگئی

روس نے انتہائی خطرناک قدم اٹھالیا، ایٹمی معاہدے معطل کردئیے، ایسا کیوں کیا؟ ...
روس نے انتہائی خطرناک قدم اٹھالیا، ایٹمی معاہدے معطل کردئیے، ایسا کیوں کیا؟ ایسا انکشاف کہ دنیا پریشان ہوگئی

  


ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روس کے شام میں جاری جنگ میں کودنے اور امریکہ کی مرضی کے خلاف بشارالاسد کی حمایت کرنے سے دونوں ملکوں کے تعلقات میںپیدا ہونے والی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث اب روس نے امریکہ کے ساتھ جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے مادے پلاٹینم کی اضافی مقدار کو تلف کرنے کا معاہدہ بھی معطل کر دیا ہے۔ جون 2000ءمیں اس معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے اور 2010ءمیں اس کی توثیق کی گئی تھی۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں نے پلاٹینم کی 34ٹن اضافی مقدار کو ری ایکٹرز میں تلف کر دینا تھا۔

’اب اسے حکومت سے نکالنا پڑے گا‘ چین نے اپنے قریبی ترین دوست ملک کے سربراہ کو اقتدار سے علیحدہ کرنے پر غور شروع کردیا، کونسا ملک ہے اور ایسا کیوں کرنا پڑرہا ہے؟ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہوگی

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے اپنے ایک بیان میں امریکہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ غیر دوستانہ اقدامات کے ذریعے روس کے”سٹریٹجک استحکام“ کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے۔ پیوٹن کا کہنا تھا کہ ”ہم روسی فیڈریشن کی سکیورٹی کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھا رہے ہیں اور معاہدے کی معطلی انہی اقدامات کا حصہ ہے۔“رواں سال اپریل میں اس معاہدے کے حوالے سے روسی صدر نے کہا تھا کہ ”امریکہ جوہری معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا۔ اس کی بجائے وہ ایسے اقدامات کر رہا ہے جس سے پلاٹینم کو دوبارہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے روسی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ہماری طرف سے اپنایا گیا تلفی کا طریق کار معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے۔“امریکہ محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ ”دونوںملکوں کے پاس مجموعی طور پر 68 ٹن اضافی پلاٹینم موجود ہے جس سے ایک اندازے کے مطابق 17 ہزار ایٹم بم تیار کیے جا سکتے ہیں۔“

مزید : بین الاقوامی