30اکتوبر کو دھرنا پلس ہوگا ،نواز شریف اور خورشید شاہ کرپٹ ہیں ،موجودہ جمہو ریت پر ویز مشرف کی آمر یت سے بدتر ہے: عمران خان

30اکتوبر کو دھرنا پلس ہوگا ،نواز شریف اور خورشید شاہ کرپٹ ہیں ،موجودہ جمہو ...
30اکتوبر کو دھرنا پلس ہوگا ،نواز شریف اور خورشید شاہ کرپٹ ہیں ،موجودہ جمہو ریت پر ویز مشرف کی آمر یت سے بدتر ہے: عمران خان

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) تحر یک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے30اکتوبر کو اپنی سیاسی زندگی کا فیصلہ کن دن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ30اکتوبر کا احتجاج صرف نوازشر یف کے استعفیٰ یااپوزیشن کے ٹی او آرز کے مطابق خود کو احتساب کیلئے پیش کر نے سے ’’ہولڈ ‘‘ہوسکتا ہے ، نوازشر یف کر پٹ مافیا کے’’ ہیڈ‘‘ ہیں، وہ رنگے ہاتھوں پکڑ ے جا چکے ،30اکتوبر کو دھر نا نہیں ’’دھر نا پلس ‘‘ہوگا ،خورشید شاہ اور نوازشر یف دونوں کر پٹ ہیں ،کوئی لندن پلان نہیں بن رہا ہے تمام لوگوں کو 30اکتوبر کے احتجاج میں شر کت کی دعوت دیں گے ،اگر پار لیمنٹ کر پشن کر نیوالوں کو نہیں پکڑ سکتی تو اس کا کیا فائدہ ہے ؟میری نظر میں موجودہ

جمہو ریت پر ویز مشرف کی آمر یت سے بدتر ہے،بلاول بھٹو کے ’’انکل ‘‘بہت شاطر لوگ ہیں۔

نجی ٹی وی چینل ’’اے آر وائے نیوز ‘‘ کے پروگرام ’’پاور پلے ‘‘ میں  خصوصی انٹرویو  دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ  نوازشر یف کر پٹ مافیا کے ہیڈ ہیں ،وہ رنگے ہاتھوں پکڑ ے جا چکے ہیں اگر اب ایکشن نہیں لیا جا تا تو پھرملک میں کبھی کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوسکے اور (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی کی قیادت کے بچے ہم پر حکمرانی کر یں گے، اس لیے اب ہمارے اور عوام کے پاس سڑکوں کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، کر پٹ مافیا کیلئے ملک میں جمہو ریت ہو سکتی ہے مگر میری نظر میں موجودہ جمہو ریت پر ویز مشرف کی آمر یت سے بدتر ہے، کیونکہ پرویزمشرف کے دور میں اتنی کر پشن ‘مہنگائی اور دیگر مسائل بھی نہیں تھے ، 6ہزار ارب سے پاکستان کے قرضے اب 22ہزار ارب تک پہنچ چکے ہیں، نوازشریف اور آصف علی زرداری کی جمہو ریت نے پاکستان کو کیا دیا ؟کر پشن کی وجہ سے ملک میں تمام مسائل لیے کر پشن کی وجہ سے ملک میں کر پٹ نظام ملک کو دیمک کی طر ح چاٹ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ30اکتوبر کو ہم سپر یم کورٹ ،نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر سمیت تما م اداروں کو چیلنج کر رہے ہیں کیونکہ ان اداروں نے کچھ نہیں کیا ،میثاق جمہو ریت (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی کا مک مکاؤ ہے، دونوں نے اپنی مرضی سے چیئر مین نیب بنایا اور (ن) لیگ نے نجم سیٹھی کے ساتھ ملکر دھاندلی کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حسن نوازساڑھے6سو کروڑ کے گھر میں رہتا ہے انکی باقی دولت اس سے بھی زیادہ ہوگی، ان کی دولت دوبئی سمیت دیگر ممالک میں موجود ہے 30اکتوبر کا احتجاج صرف نوازشر یف کے استعفیٰ یا خود کو احتساب کیلئے اپوزیشن کے ٹی او آرز کے مطابق پیش کر نے سے ہی ہولڈ کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا انتہائی شر مناک رول ہے جس طر ح الیکشن کمیشن نے (ن) لیگ کی مدد کی ہے اس سے یہ الیکشن کمیشن لگتا ہی نہیں، دھاندلی کیس میں الیکشن کمیشن نے حکومت کے کسی بندے کے خلاف ایکشن لیا اور نہ ہی کوئی تحقیقات کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے الیکشن کمیشن نے دھاندلی کروائی اور پھر دھاندلی کر نیوالوں کا تحفظ کیا ہے، الیکشن کمیشن میں413دھاندلی کی پٹیشن آئی مگر اڑھائی سالوں میں ہماری صرف 2پٹیشنوں کا فیصلہ آیا ہے ،جہا نگیر خان ترین کو انصاف لینے کیلئے کروڑ روپے لگے ہیں ،ساڑھے تین سالوں میں ابھی تک 2حلقوں میں انصاف ہی نہیں ملا،حالانکہ4مہینوں میں یہ فیصلے ہونے چاہیے ، مجھے پاگلوں کی طر ح ادھر اوھر جانے کیا ضرورت ہے؟ میں تو آنیوالی نسلوں کی جنگ لڑ رہا ہوں ،دیکھتے ہیں الیکشن کمیشن نوازشریف کے خلاف کیا کاروائی کر تا ہے؟ اگر سپر یم کورٹ میں پانامہ لیکس کا کیس آگے چلے گا پھر ہم ’’سوچیں‘‘گے کہ آگے کیا کر نا ہے ؟ موجودہ عدلیہ پر ویز مشرف کے دور سے بھی آزادی کے لحاظ سے کم ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ ہماری مقبولیت کے خاتمے کی باتیں کرتی ہے مگر رائے ونڈ مارچ کے بعد (ن) لیگ خود مشکل میں پھنس چکی ہے، وہ سوچتے ہیں اگر 30اکتوبر کو روکیں گے تو اور مشکل میں پڑ یں گے کیونکہ 30اکتوبر کو دھر نانہیں دھر نا پلس ہوگا ۔عمران خان  نے کہا کہ بلاول بھٹو کے ’’انکل ‘‘بہت شاطر لوگ ہیں، میرے اور مولانا فضل الر حمن میں بہت فر ق ہے، میں ان جیسالیڈر نہیں ہو سکتا ،عام انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی سمیت ساری جماعتوں نے دھاندلی کی بات کی مگر کوئی تحقیقات کیلئے آگے نہیں آیا اور پھر ہمیں اکیلے ہی سڑکوں پر آنا پڑ ا، اب پانامہ لیکس پر بھی خواجہ آصف جیسے لوگ نوازشر یف کو کہتے ہیں کہ آپ بے فکر ہو جائیں پانامہ لیکس لوگ بھول جائیں گے ،نوازشریف ،خورشید شاہ ،نیب اورآصف زرداری کو ’’اپنا ‘‘سمجھتا ہیں مگر اعتزاز احسن اور قمر زمان کائرہ جیسے لوگ احتساب چاہتے ہیں، مگر پیچھے آصف علی زداری ہے جو ڈاکٹر عاصم اور ایان علی جیسے لوگوں کے معاملے پر سودے بازی کر رہے ہیں، جب ہم نے2014میں دھر نا دیا تو آصف زداری نے نوازشر یف کو بچایا اور دونوں میں مکمل مک مکاؤ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا المیہ ہے کہ ایک کر پٹ مافیا اقتدار پر قابض ہے اور مستقبل کیلئے اپنے بچوں کو تیار کر رہے ہیں، بھٹو ‘شریف اور اسفندیار ولی فیملی اپنے بچوں کو آگے لارہے ہیں ،25سالہ بلاول بھٹو کے پیچھے بڑے بڑے پیپلزپارٹی کے لوگ کھڑے ہوتے ہیں (ن) لیگ میں لوگ مر یم نوازشر یف اور حمزہ شہبا زشر یف کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں لیکن اب بادشاہت کا نظام نہیں چلے گا۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کو تو سیاست میں بہت عرصہ وچکا ہے جو میرے بارے میں کہتے ہیں کہ چھکا لگانے سے کوئی وزیر اعظم نہیں بن سکتا، میں نے 20سال سے زائد تک سیاسی جد وجہد کی ہے، بلاول بھٹو کے ’’انکل ‘‘بہت شاطر لوگ ہیں ، جس طر ح کرکٹ میں کا میابی کیلئے اپنے رشتہ داروں کو نہیں میرٹ پر آگے لایا ، پاکستان کو  آگے لے جانے  کیلئے یہاں بھی میرٹ کے مطابق فیصلے کر نے اور میرٹ پر ہی لوگوں کو بھی آگے لانا ہوگا ۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ جمہو ریت میں ہمارا پاس ایک ہی راستہ ہے ،جب ہمیں اداروں سے انصاف نہیں ملے گا تو ہمیں سڑکوں پر آنا ہی پڑ تا ہے، ہم سولو فلائٹ کے حامی نہیں، فیصلے سے پہلے ہم اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیتے ہیں، اعتماد میں نہ لینے کے حوالے سے بلاول بھٹو کی بات درست نہیں، خورشید شاہ سے شاہ محموقر یشی نے بھی بات کی اور آخر میں ہم اکیلئے رائے ونڈ مارچ کے نکلے ۔انہوں نے کہا کہ نوازشر یف اور آصف زرداری میں نوراکشتی جاری رہے گی، دونوں ایک دوسرے کو خوفزدہ کرتے ہیں، احتساب ہوگا تو عمران خان سمیت کوئی بھی احتساب سے نہیں بچے گا، نوازشر یف نے خود ہی پار لیمنٹ کو زیر وکر دیا ہے، پار لیمنٹ سے ہمیں دھاندلی سمیت کسی معاملے پر انصاف نہیں ملا اور 6ماہ میں پانامہ لیکس کے معاملے میں پار لیمنٹ کچھ نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں کوئی پلان نہیں ،چوہدری محمدسرور کشمیر کے مسئلہ کو یورپی پار لیمنٹ میں اجاگر کر نے کیلئے گئے ہیں ،مجھے نہیں پتہ شیخ رشید اور طاہر القادری لندن میں ہیں، جہا نگیر ترین اپنے چیک اپ کیلئے گئے ہیں ۔

انہوں نے کہا پاکستان میں میڈیا سمیت سیاست اور حکومت میں بھی اسٹیس کو موجود ہے جو ملک میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتا اور سارا وقت یہ شور مچاتے ہیں کہ عمران خان یہ کر رہا وہ کر رہا ہے ،مجھے بتایا جائے اپوزیشن کا کام کیا ہوتا ہے، اپوزیشن کا کام حکومتوں کی کر پشن اور آئین توڑنے سمیت دیگر جرائم کی نشاندہی کر نا ہوتا ہے، حکمرانوں نے بندر بانٹ کر لی ہے ،سندھ اور پنجاب میں ایک دوسرے کو تحفظ دے رہے ہیں، ان کو فوج سے ڈر لگا رہتا ہے، ہر احتجاج کو فوج سے جوڑتے ہیں، اگر ہمیں پار لیمانی کمیٹی میں پانامہ لیکس کے معاملے پر انصاف مل جاتا ہے تو ہم سڑکوں پر نہ آتے۔

مزید : قومی