ایک اہم تھنک ٹینک

 ایک اہم تھنک ٹینک
 ایک اہم تھنک ٹینک

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور چیمبر کا سینئر نائب صدر بننے کے بعد مبارکباد کے لئے نہ صرف دوستوں کا تانتا بندھا رہا بلکہ بذریعہ فون اور سوشل میڈیا بے شمار تہنیتی پیغامات آئے جن میں سے کچھ کو میں جانتا تھا اور کچھ کو نہیں۔ نیک خواہشات کا اظہار کرنے والے ان ہی نامعلوم خیرخواہوں میں سے چند ایک نے تہنیتی پیغام کے ساتھ یہ سوال بھی کیا تھا کہ لاہور چیمبر کے مقاصد کیا ہیں اور یہ کام کیا کرتا ہے جس سے مجھے محسوس ہوا کہ اکثریت نے اگرچہ لاہور چیمبر کا نام تو سنا ہے لیکن یہ کام کیسے کرتا ہے، کسی کو اس بارے میں سرے سے کوئی علم نہیں ہے چنانچہ اس بارے میں قلم اٹھانا ضروری سمجھا ۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والا ایک غیر سرکاری ادارہ ہے، جس کا اگرچہ کاروباری شعبہ سے متعلق رولز اینڈ ریگولیشنز اور کسی قسم کی قانون سازی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا، لیکن یہ ایک ایسے تھنک ٹینک کے طور پر کام کرتا ہے جو حکومت کو صنعت، تجارت اور تاجروں کی بہتری کے لئے تجاویز فراہم کرتا اور زور دیتا ہے کہ انہیں کاروباروں سے متعلقہ قوانین کا حصہ بنایا جائے، جبکہ تاجر برادری کے مفادات کا تحفظ کرنا بھی لاہور چیمبر کی اوّلین ترجیحات میں شامل ہے۔

حکومت کا بھی لاہور چیمبر کے معمولات میں براہِ راست کوئی حصہ نہیں ہوتا، البتہ آج لاہور چیمبر اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ تمام حکومتی ایوانوں میں اس کی آواز بڑی سنجیدگی سے سنی جاتی ہے۔ چیمبر کی باگ ڈور تاجروں کے منتخب نمائندے سنبھالتے ہیں اور ایک جمہوری نظام کے تحت ہر سال یہ نئے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے۔


دُنیا کا اوّلین چیمبر 1599ء میں فرانسیسی شہر مارسیل میں قائم کیا گیا تھا۔ امریکہ میں پہلا چیمبر 1768ء میں نیویارک میں قائم ہوا جبکہ گلاسگو چیمبر شاید وہ قدیم ترین چیمبر ہے، جو 1783ء میں قائم ہوا اور آج تک فعال ہے۔دُنیا میں ان گنے چنے چیمبرز کی افادیت سے متاثر ہوکربرصغیر پاک و ہند کے صنعتکاروں نے بھی چیمبرقائم کرنے کا ارادہ کیا، یوں 1923ء میں شہر لاہور کی چیمبر لین روڈ پر واقع نیشنل بینک آف انڈیا کی عمارت میں نادرن انڈیا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا قیام عمل میں آیا،انڈین کمپنیز ایکٹ کے سیکشن 6کے تحت اسے باقاعدہ رجسٹر کیا گیا۔

1925ء میں میسرز سپیڈنگ اینڈ کو کے مسٹر ڈبلیو آر میکپھرسن اس کے پہلے صدر بنے ، میسرز دی جنرل الیکٹرک کمپنی کے مسٹرڈی جے ہارن اُن کے معاون تھے۔ پہلی منتخب شدہ ایگزیکٹو کمیٹی میں مسٹر پی ایچ گیسٹ، مسٹر ڈی مے ایرنڈل، مسٹر ایف رائے کروفٹ، ڈبلیو اون رابرٹس، مسٹر وی ایچ بولتھ، مسٹر ایچ جے رستم جی، مسٹر بھگت گووند داس اور مسٹر ایل راجہ رام شامل تھے۔ ابتدا میں اس کے ممبران کی تعداد 21تھی جو بتدریج بڑھتی چلی گئی۔

چیمبر نے 1958ء میں ویسٹ پاکستان چیمبر آف کامرس کے آرٹیکل پر دستخط کئے۔ سال 1966ء میں دی ناردرن انڈیا چیمبر آف کامرس، ویسٹ پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پاکستان چیمبر آف کامرس نرسنداس بلڈنگ، لاہور ضم ہوگئے اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری معرض وجود میں آیا۔


شروع میں لاہور چیمبر کرائے کی عمارت میں قائم کیا گیا ،اس کی موجودہ عمارت کا سنگِ بنیاد 22فروری 1975ء میں رکھا گیا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو کمپنیز آرڈیننس 1984ء کے تحت باقاعدہ رجسٹرڈ بھی کیا گیا۔ اس عظیم الشان ادارے کے انتظامی معاملات 32رُکنی ایگزیکٹو کمیٹی کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، جس کی سربراہی صدر، سینئر نائب صدر اور نائب صدر کرتے ہیں۔ دُنیا بھر میں رجسٹرڈ چیمبرز کی تعداد تقریباً تیرہ ہزار ہے، جبکہ پاکستان اس وقت پینتیس سے زائد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کام کررہے ہیں جو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے رکن ہیں۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا شمار ملک کے اہم چیمبرز میں ہوتا ہے، جس کے ممبران کی تعداد 20ہزار قریب ہے۔ لاہور چیمبر کے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے تعلقات بہت مستحکم ہیں اور یہ نہ صرف لاہور چیمبر کی آوازسنجیدگی سے سنتی ہیں، بلکہ اِس کی تجاویز کو حتی المقدور اپنی پالیسیوں کا حصہ بناتی ہیں، جس کا ثبوت یہ ہے کہ لاہور چیمبر کے مطالبے پر حکومت نے متنازعہ ایس آر او واپس لئے، سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مارک اپ کی شرح میں کمی کی اور توانائی کا بحران جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وفاقی و صوبائی وزراء اور محکموں کے عہدیداروں کے وقتاً فوقتاً لاہور چیمبر کے دورے بھی لاہور چیمبر اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ بہترین تعلقات کا ثبوت ہیں۔ لاہور چیمبر اپنے معزز ممبران کو سرٹیفیکیٹ آف اوریجن ، ویزا سفارشی خطوط ، فارن ایکسچینج اور ڈسکاؤنٹ کارڈ سمیت بہت سی سہولیات مہیا کررہا ہے۔


لاہور چیمبر کے تجارتی وفود اپنی مدد آپ کے تحت دنیا بھر کے دورے کرتے ہیں تاکہ نہ صرف ملک کی بیرونی تجارت کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جا سکے،بلکہ عالمی سطح پر مُلک کی ساکھ بھی بہتر کی جاسکے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری خدمت انسانیت میں بھی پیچھے نہیں، جب کبھی ملک پر زلزلے یا سیلاب سمیت کوئی بھی آفت نازل ہوئی لاہور چیمبر فوراً حرکت میں آیا۔

لاہور چیمبر کے معزز ممبران کو سلیوٹ کرتا ہوں جنہوں نے ہمیشہ لاہور چیمبر کی درخواست پر اپنے متاثرہ بہن بھائیوں کی مدد کے لئے بڑھ چڑھ کر مدد کی۔

لاہور چیمبر میں لبارڈ کے نام سے ایک ادارہ بھی خصوصی افراد کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر ملک طاہر جاوید، میں نے اور نائب صدر ذیشان خلیل نے 2 اکتوبر سے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی باگ ڈور سنبھالی ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تنقید برائے تنقید کی پالیسی ہرگز نہیں اپنانی کیونکہ دنیا کا سب سے آسان کام شاید تنقید کے نشتر برسانا ہے۔

لاہور چیمبر حکومت کے لئے ایک تھنک ٹینک کا کام کرے اور معاشی ترقی کے لئے حکومت کو تجاویز دے گا۔ ٹیکسوں کے پیچیدہ نظام کو آسان بنانا، ٹیکس نیٹ میں وسعت، ٹیکس اہلکاروں کے صوابدیدی اختیارات میں کمی ، بینکوں سے رقوم نکلوانے پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ، برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ اور سب سے بڑھ کر یہ تاجر برادری کے عزت و احترام کو ہر سطح پر یقینی بنانا ہمارے اہداف ہیں۔

لاہور چیمبر میں سیکٹرز کی مطابقت سے سٹینڈنگ کمیٹیاں قائم کی جارہی ہیں، جو لاہور چیمبر کے ممبران سے تجاویز لے کر انہیں تجاویز کی صورت میں مرتب کریں اور حکومت کو بھجوائیں گی۔

مزید :

کالم -