کیا کوئی حلیمہ یعقوب پاکستان میں صدر بن سکتی ہے؟

کیا کوئی حلیمہ یعقوب پاکستان میں صدر بن سکتی ہے؟
 کیا کوئی حلیمہ یعقوب پاکستان میں صدر بن سکتی ہے؟

  

حلیمہ یعقوب 23 اگست 1954ء کو پیدا ہوئی۔یہ مسلمان خاتون سنگاپور کی تاریخ کی پہلی خاتون صدرمنتخب ہوئی۔

اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ 2013ء میں سنگا پور کی پہلی مسلمان خاتون سپیکر پارلیمنٹ بھی منتخب ہوئی۔حلیمہ ایک عام گھرانے کی شادی شدہ خاتون ہے، اس کی والدہ کا تعلق بھارت اور والد کا تعلق مالے سے ہے۔اس کا باپ چوکیدار کی نوکری کرتا تھا جو اس کے بچپن میں ہی فوت ہوگیا یہ عام معمولی سے سرکاری کوارٹر میں رہتے تھے ۔اس کی ماں نے محنت مزدوری سے اسے پالا۔حلیمہ کے پانچ بچے ہیں۔

اس کی ابتدائی زندگی انتہائی کسمپرسی میں گزری ۔ماں نے محنت کرکے اسے پڑھایا۔یہ ماں کے ساتھ صبح پانچ بجے اٹھتی ۔نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے اکثر کلاس میں سو جاتی ۔حلیمہ نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور بطور قانونی ماہر روزگار کمانے لگی۔2001ء میں اس نے عملی سیاست کا آغاز کیااور ممبر پارلیمنٹ منتخب ہو کر نوجوانوں کے امور کی وزیر مقرر ہوئی۔پندرہ سال تک اس نے جد وجہد سے اپنا مقام بنایا اور 2015 ء میں اپنی سیاسی پارٹی ’’ پیپلز ایکشن پارٹی‘‘ کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی ممبر بن گئی۔

ستمبر 2017ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اسے پارٹی نے صدر کے عہدے کے لئے منتخب کیا اور یہ صدارتی انتخاب جیت کر سنگاپو ر کی آٹھویں صدر منتخب ہو گئی۔صدر منتخب ہونے کے بعد بھی اس نے فیصلہ کیا کہ اس کی فیملی پانچ کمروں کے فلیٹ میں رہے گی او ر عام لوگوں جیسی زندگی بسر کرے گی۔وہ بتاتی ہے کہ میری مالی حیثیت اس قدر کمزور تھی کہ فلیٹ میں شفٹ ہونے کے بعد میرے پاس صوفہ خریدنے کے لئے پیسے نہیں تھے، جو مَیں نے اپنی اوراپنے شوہر کی تنخواہ سے آٹھ ماہ تک بچت کرکے خریدا۔

حلیمہ کے پانچ بچے ہیں۔ حلیمہ یعقوب ایک باصلاحیت خاتون ہے، یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری ایل ایل ایم کرنے کے علاوہ یہ سوشل ورکر،خواتین کے حقوق کی نمائندہ ،نیشنل ٹریڈ یونین میں مزدوروں کے حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کے لئے قانونی معاونت فراہم کرتی رہی ہے۔سترہ سالہ سیاسی کیرئر کے بعد سنگا پور میں اسے وہ اعزاز بخشا کہ آج یہ سنگا پور کی پہلی خاتون صدرہے۔

سنگا پور کی حقیقی جمہوریت کا حسن دیکھیں کہ ایک سیاسی پارٹی کے پلیٹ فارم پر جد وجہد کرنے والی خاتون بالآخر اس پارٹی طرف سے سب سے اعلیٰ وطاقتور عہدے کے لئے منتخب کر لی گئی۔ ہمارے ہاں بھی سیاسی جماعتوں میں اگر سچ مچ جمہوریت ہے اور یہ جمہوری سیاسی پارٹیاں ہیں تو کیا وجہ ہے کہ عام کارکن کو اوپر آنے کا راستہ نہیں ملتا۔جمہوریت میرٹ کے بغیر ہر گز جمہوریت نہیں ہو سکتی، جبکہ ہمارے ہاں میرٹ کا کوئی وجود ہی نہیں۔سیاسی پارٹیوں کے ساتھ کئی دہائیوں سے وابستہ مخلص ، باصلاحیت اور نڈر کارکنوں پر نظر دوڑائیں تو ان کی صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے، اگر انہیں میرٹ پر اوپر آنے دیا جاتا تو ممکن ہے

ہمارے ہاں جمہوریت نیم آمریت کا روپ دھار کر اس قدر کمزور نہ سمجھی جاتی اور حکمرانی بادشاہت کا نظارہ نہ پیش کر رہی ہوتی، مگر سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہ ہونے اور میرٹ کو پس پشت ڈال کر سیاسی جماعتوں نے کیسے کیسے نایاب ہیرے ضائع کئے اور کر رہی ہیں ۔ان کے راستے میں موروثیت کی دیوار کھڑی کر کے نئی سوچ،نئے ویژن اور نئی تخلیقی صلاحیتوں کا راستہ روک کر پسماندگی ،جہالت،فرسودہ طرز حکومت جاری رکھ کر قنوطیت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

جب تک ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کے اندرجمہوریت کو،جس کا دوسرا نام میرٹ ہے، پیدا نہیں کیا جاتا اور باصلاحیت لوگوں کو اوپر نہیں آنے دیا جاتا ہمارے ہاں جمہوریت بادشاہت کے روپ میں اپنا حقیقی رول ادا کرنے سے قاصر رہے گی۔سیاسی جماعتوں کے اندر خاندانی میراث اور اقتدار نسل در نسل چند مخصوص خاندانوں کے ہاتھ میں رہنے کی وجہ سے سماجی، معاشی اور معاشرتی عدم تفریق کے منفی اثرات بڑھتے جائیں گے۔

اسی موروثی سیاست کی وجہ سے ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر نیا ویژن،تبدیلی کا رجحان اور تغیر بالکل رک سا گیا ہے۔زندگی کے ہر شعبے میں وہی اسی اور نوے کی دہائی کے تجربات دہرا کر ناکامیوں کی داستان رقم کی جارہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر نئی سوچ ،نئے ویژن اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے والے تخلیقی لوگوں کو کلیدی کردار ادا نہیں کرنے دیا جا رہا اور ان کی جگہ قنوطیت پسندوں نے لے لی ہے، جن کے پاس سوائے ناکامیوں کے اور کچھ نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو میرٹ پر باصلاحیت لوگوں کی ضرورت نہیں، انہیں پارٹی کے نمایاں عہدوں کے لئے چرب زبان،خوشامدی،درباری اور ساتھ ہی پارٹی فنڈ کے نام پر کروڑوں روپے لٹانے والے چاہئیں۔

یہ ماسٹر ڈگری یا پی ایچ ڈی کارکن کو کلیدی عہدے نہیں دیں گے، بلکہ اس کی جگہ کسی جہاز والے یا پھرپوری ائیر لائن والے کو ہی اہل سمجھیں گے۔ہمارے ہاں کسی حلیمہ یعقوب کے لئے اوپر آنے کا کوئی موقعہ نہیں۔عام کارکن کی وہاں کیا حیثیت رہ جاتی ہے، جہاں ہر پارٹی کے منتخب ایم این اے بھی درباریوں کا رول خوشی سے قبول کر رہے ہوں اور پرانے دور کے بھانڈوں اور قوالوں کی طرح قصیدہ گوئی اور قوالیاں گانے میں مگن ہوں۔

ہمارے ہاں جمہوریت کے نام پر سیاسی جماعتوں کے اندر یہی میرٹ سمجھا جاتا ہے۔پڑھے لکھے باصلاحیت لوگوں کی پارٹیوں کے اندر وہی حیثیت ہے کہ چودھریوں کی دو نسلیں بھی مرجائیں، ان کا کوئی دودھ پیتا بچہ ہی چودھراہٹ کی سیٹ پر بیٹھے گا، گاؤں کا کمی کمین ہرگز نہیں۔

کیسے کیسے ذلت آمیزمناظر ہماری سیاسی جماعتوں نے اپنے کارکنوں کو نہیں دکھائے۔کیسے کیسے عظیم اور باصلاحیت کارکنوں کی توہین ان کی اپنی سیاسی پارٹیوں نے نہیں کی۔ایسے کارکن جو اپنی پارٹیوں اور جمہوریت کے لئے آمریت سے ٹکرا گئے،انہوں نے کوڑے کھائے،قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں،ملک بدر ہوئے، ان کے خاندان برباد ہوگئے،یہ جیلوں میں گلتے سڑتے رہے،تشدد سے ذہنی توازن کھو بیٹھے ،جسمانی و ذہنی ٹارچر سے نفسیاتی مریض بن گئے، لیکن ان کی حیثیت ان موروثی سیاسی پارٹیوں میں ایک درباری سے زیادہ کچھ نہ ہوئی۔

یہ اس قدر طویل جدوجہد اور ناقابل بیان قربانیاں دینے کے بعد ،تعلیم یافتہ،باصلاحیت اور وفادارر ہونے کے باوجود بھی مخصوص خاندانوں کے کل کے بچوں کے سامنے جی حضوری پر مجبور ہیں۔بے شک ان کی پارٹی کے ساتھ وابستگی میں عمریں گزر جائیں، یہ پارٹی نظریے کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹیں پارٹی کی صدارت اور کلیدی عہدے ان کے نصیب میں نہیں ہوتے، کیونکہ پاکستان میں جمہوریت کے نام پر خاندانی لمیٹڈ کمپنیاں کام کررہی ہیں، جن میں عام کارکن ایک ورکر کے طور پر تو کام کر سکتا ہے، لیکن پارٹی کا عہدہ اس کے نصیب میں نہیں، کیونکہ عہدے صرف خاندان کے کسی فرد کے حصے میں آ سکتے ہیں۔

مزید : کالم