اقتدار کے ایوانوں میں جبری شمولیت کے نئے دعویٰ دار۔۔۔

اقتدار کے ایوانوں میں جبری شمولیت کے نئے دعویٰ دار۔۔۔
 اقتدار کے ایوانوں میں جبری شمولیت کے نئے دعویٰ دار۔۔۔

  

حضور!ملک ایسے نہیں چلتے۔ملک تو دور کی بات ہے گھر بھی ایسے نہیں چلا کرتے، جس جس نے چلا کر دیکھا ناکام رہا۔خاندان ٹوٹ گئے، گھروں کا شیرازہ بکھر گیا۔جب تک دادا، پردادا یا نانا لوگ اپنے خاندانوں کے سربراہ تھے اور اہل خاندان ان کے فیصلے مانتے تھے، ان کے کہے کا حیا کرتے تھے خاندان کی سربراہی اور قوت برقرار رہی۔

جونہی قوت کے یہ مراکز ختم ہوئے اور اپنوں نے اور غیروں نے باہر بیٹھ کو مشوروں کے الاؤ جلائے سب کچھ بھسم ہوگیا ،وہاں سے مرکزیت جاتی رہی، خاندان اور سرداری قائم رہی نہ دبدبہ اور وقار باقی رہا، عمروں کی کمائی ہوئی عزت، برسوں کا وقار کسی ریت سے بنی دیوار کی طرح زمین بوس ہو گیا۔بازاروں اور چوراہوں میں بیٹھ کر ہونے والے مشورے بنیادیں اٹھاتے نہیں گراتے ہیں۔

گھروں کے فیصلے ہوں یا اداروں کے، گلی محلوں میں نہیں ہوتے۔ہو ہی نہیں سکتے۔ جب جب اور جس جس شہر میں ،چاہے وہ لاہور ہو،گوجرانوالہ،گوجرہ اور احمد پور شرقیہ، یہ فیصلہ عامتہ الناس کو دیا گیاتو انہوں نے صرف ایک ہی فیصلہ کیا، لوگ جلا جلا کر مار دئیے۔وہ لوگ جو مجرم بھی نہیں تھے۔گوجرانوالہ میں جماعتِ اسلامی کے ایک ڈاکٹر کو پتھر مار مار کر مار دیا گیا۔سیالکوٹ کا واقعہ ٓاپ کب بھولے ہوں گے۔

کراچی میں ڈاکوؤں کو مار کر جلانے کا کام اس بری طرح شروع ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے گلی محلوں تک آ گیا تھا۔پھر اس کو قوتِ بازو سے روکنا پڑا۔اختیار اور اقتدار کے کوری ڈورز میں شرکت کی یہ جبری کوششیں ماضی میں بھی کسی نہ کسی پیمانے پر ہوتی رہی ہیں ، مگر کامیابی نہ پا سکیں ،انہی افراد اور اداروں کا کردار ہی باقی اور فائق رہا جو بنائے ہی اس لئے جاتے ہیں ۔

انتروپالوجی کہتی ہے انسانوں کی اکثریت بھیڑوں کی طرح ہی ہوتی ہے ۔ کم فہم ،کم حوصلہ، کم ظرف سوائے اپنے پانی،اپنے چارے،اور اپنی جائے آرام کے کچھ خیال نہیں ہوتا،کچھ ہدف بھی نہیں ہوتا۔اس لئے انسانی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ لوگوں میں سے اہلِ عقل نے سردار چنے، افواج بنائیں،سالار چنے،پھر انتظامی اور قانونی ادارے وجود میں آئے۔یہ سبھی شوقیہ فنکا ر یا مہمان اداکار نہیں تھے۔ انہیں فیصلوں کا اختیار تھا۔

اپنی قوم کے مستقبل کو بہتر بنانے اور آگے لے جانے کا کام اور مشن ان کے پیشِ نظر تھا۔ جب سے جمہوری دور شروع ہوا،لوگ سردار اور نمائندے منتخب کر کے فیصلوں سے بے نیاز ہو کر اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔اب اگلے 4-5سال یہ ان کی ذمہ داری ہے۔پسند ہوں نہ ہوں ، جس کو اکثریت نے مان لیا،سمجھو فیصلوں کا مان اور اختیار دے دیا۔ان کی مشاورت کے لئے ایوان بالا کی شکل میں ادارے اور افراد الگ سے چن لئے گئے۔

مقننہ ،عدلیہ انتظامیہ بنا کر قومی اتفاق کر لیا گیا کہ یہی ملکی نظام چلائیں گے، مگر بیچ میں فوج کو شوق ہوا کہ ہمارا ادارا بڑا بھی ہے اور طاقتور بھی ،ہمیں فیصلے کرنے بھی آتے ہیں اور انہیں منوانے کی طاقت بھی میسر ہے تو کیوں نہ اقتدار کے کوری ڈور میں بھی حصہ ڈال لیں، یہ حصہ لیتے لیتے تیس سال اقتدار پر مکمل قبضہ رہا ،پھر قوم نے بڑی مشکل سے ان کو واپس اپنی پوزیشن پر بھیجا۔اسی دوران ایک نیا پلیئر میدان میں آگیا یہ وہ صحافی طبقہ تھا جو واچ ڈاگ کا فرض خود ہی سنبھال بیٹھا ،اس کا اصل کام خبر دینا تھا ،اس نے خبر لینے کو اپنا کام بنا لیا اور اکثر معاملے میں خود پارٹی بن گیا ،یہ نیا کردار اور اس کی قوت اور لطف کس کو برا لگتا ،کھمبیوں کی طرح اگنے والے ٹی وی چینلوں میں سے بعض کوتو ان کے مالکوں اور سٹاف کے علاوہ کوئی دیکھتا بھی نہیں۔

اب یوں ہونے لگا ہے کہ سر شام، اپنے اپنے سٹوڈیو میں ایک ایک اینکر اپنی پسند کے چند لوگوں کو بٹھاتا ہے جو عوام کی عدالت سے کامیابی کی سند پانے میں بالعموم ناکام رہے۔کسی ادارے کے ملازم رہے یا پھر کسی عسکری ادارے سے نکالے گئے یا عمر پوری کر کے بغیر کوئی کارنامہ کئے ریٹائر کر دئے گئے۔

اکثر وہ ہیں جنہیں کسی بڑے کاروباری یا سرکاری ادارے کو نہ چلانے کا تجربہ ہے نہ اس کی نزاکتوں کا علم۔اپنے ناقص مشاہدے، مطالعے اور ادھورے علم میں بھیگے جملے اور نفرت انگیز باتیں۔اب یہ چاہتے ہیں کہ اقتدار کے کوری ڈورز میں وہ جبری جگہ پا لیں ،بعض اینکرز کے تو دودھ کے دانت بھی نہیں آئے، مگر سکرین کی وجہ سے خواہش بڑی پال بیٹھے ہیں،ان کی دانش نے ان کو بتا یا چونکہ فوج بھی اس گیم میں اپنا حصہ زیادہ چاہتی ہے تو انہیں یہ آسان لگا کہ فوج کو یہ سبز باغ دکھایا جائے کہ مل کرپیش قدمی کی جائے اور اپنا حصہ لیا جائے ،، سماج اور آئین نے طے کیا تھا کہ فوج سیاسی حکومت اور سربراہ کی پالیسی کی روشنی میں چلے گی، اور جہاں فوج اپنی طاقت کے زعم میں اس بات سے مستثنیٰ ہونے کی کوشش کرے گی وہاں آئین کی دفعہ چھ پورے کروفر سے کھڑی کی گئی۔اپنے کام خود مختاری سے کرنے کا مینڈیٹ اداروں اور سربراہوں کے پاس موجود رہے گا جب تک پارلیمنٹ وہ حق واپس نہیں لے لیتی یا سلب نہیں کر لیتی۔سندھ اسمبلی اگر نیب کے اختیار واپس لے کر کوئی نیا نظام اختیار کرتی ہے تو Reservationکے با وجود اسے اس کا اختیار حاصل ہے۔

آپ کو پسند نہیں تو الیکشن تک کا انتظار کرنا ہو گا۔اسمبلی کے سامنے دھرنا یا اس کے خلاف ٹی وی سکرین پر بے ربط اور بے مغز گفتگو کرنا نہ آپ کا حق ہے اور نہ سوسائٹی نے آپ کو اس کا اختیار دیا ہے۔یہ آپ کس برتے پر اور کیسے کہہ لیتے ہیں کہ ووٹ یہ اچک کر ،چھین کر یا خرید کر لائے ہیں،فرماتے ہیں یہ بے پیندے کے بدبودار لوٹے ہیں ۔

ان کی عزت کیوں کی جائے ۔یہ کہاں لکھا ہے کہ آپ اجازت دیں گے تو ہی وزارت دی جا سکے گی ۔ یہ کب آئین میں شامل ہوا ہے کہ وزیرِ اعظم، وزرائے اعلیٰ، سپیکر، پارلیمانی لیڈر، پارلیمنٹیرین، حکومت کے سکریٹریز،محکموں کے سربراہ سب کے کام مختص،اختیار واضح اور احتساب کے ضابطے آپ سے پوچھ کر طے ہوں گے۔ کرکٹ میچ اچھا نہیں چل رہا تو بھی کھلاڑی ہی کھیلیں گے آپ اپنی صلاحیتوں کے خود ساختہ زعم میں پچ تک نہیں پہنچ سکیں گے کہ اب میں باری لیتا ہوں ،کھیلیں گے وہی جو اس کام کے لئے ایک پراسس کے زریعے چنے گئے ہیں آپ بھی اپنی جگہ چھوڑ کر آ جایئے اور قسمت آزمایئے کہ لوگ آپ پر اعتماد کر لیں اعتبار کر لیں ،پارلیمنٹ بھیج دیں یا کرکٹ میچ کھیلنے میدان میں اتار دیں،کھیلے گا وہی جو اس کام کے لئے منتخب ہے۔ آپ اس زعم میں کہ اچھی ہٹ لگاسکتے ہیں ،ٹُل لگانے نہیں پہنچ جائیں گے۔[ویسے ایسے سبھی دعوے داروں کو ان کی اپنی برادری پریس کلب کے انتخاب میں چار ووٹ دینے پر آمادہ نہیں ہوتی ،لیکن یہ اپنے تئیں خود ہی حکمران ساز بنے بیٹھے ہیں]

ان سارے اینکرز، ان کے مہمانوں اور تجزیہ نگاروں کو آئینہ دکھانے کا وقت آ گیا ہے کہ قوم نے آپ کو پارلیمنٹ کا متبادل نظام قرار نہیں دیا نہ عدلیہ کو ختم کر کے آپ کو عدالتیں لگانے کا کام سونپا ہے اور نہ ہی ملک کے دوستوں اور دشمنوں کی پوزیشن بدلنے کا اختیار دیا ہے۔بہت بھی ہوا تو آپ خبر دینے والے ایک تنخواہ دارغیر جانبدار تجزیہ کار ہو سکتے ہیں۔ جبری حکومتی مشاورت کار اور فیصلہ ساز کا کردار نہیں لے سکتے ،یہ نہیں ہو گا کہ ہر بات پر آپ قول فیصل دیں ،عدالت لگائیں ،قوم اور حکمرانوں کو ڈرائیں،نہ فوج آپ کے مشوروں کی پابند ہے اور نہ کوئی حکومت ، اور نہ ہر کرکٹ، فٹ بال ،ہاکی میچ میں ہر کھلاڑی کی جگہ کودنے پر تیار بیٹھے رہا کریں ۔سیاسی نظام ہو یا کھیل کا ، نمائندوں اور کھلاڑیوں کی اہلیت اور نا اہلیت کے حتمی فیصلہ گر آپ نہیں ہیں۔ابھی تک قوم اور پارلیمنٹ نے کسی قانون اور ترمیم کے ذریعے یہ اختیار آپ کو نہیں دیا کہ قوم کے سربراہوں کی روز بے عزتی کریں،جگ ہنسائی اور تماشے کا باعث بنیں۔ ان کے نام بگاڑیں،اپنے مقام سے مطمئن نہیں تو اس کھیل کا حصہ بنئے جس کی اصلاح چاہتے ہیں ،ایک صاحب فرماتے ہیں کہ وزیر خزانہ استعفیٰ نہیں دے رہا استعفیٰ تو اس کا باپ بھی دے گا ،دوسرے صاحب جو مایوسی اورنفرت کے گرو کا روپ دھارے بیٹھے ہیں، بولے اس نظام پر سو بار لعنت ان حکمرانوں پر لعنت ،یہ تم چالیس پچاس لوگوں کو مار کیوں نہیں دیتے کہ ملک ٹھیک ہو جائے ،ان کا خون بہاو گے تو سب ٹھیک ہو گا۔

[ ممکن ہے، انہوں نے لسٹ بھی بنا رکھی ہو]۔کیا ہم کسی ایک ایسے نئے سماج کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں جہاں گالیاں اور بدزبانی فیصلے کریں، سیاسی قیادت کو پالیسیاں بنانے کا اختیار ہو نہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا ،یہ اپنے اداروں،پروگراموں اور اخبارات کی نوکریوں کی بنیاد پر حکم فرمائیں تو راتوں رات لوگ لٹکا دئے جائیں ،یہ کہں تو انہیں آزاد کردیا جائے ، یہ کہیں تو دیس نکالا دے دیا جائے ،ان کی مرضی پوچھ کر تبادلے کئے جائیں یہ کہیں تو عدالتیں اپنے فیصلے بدل دیں، روزمرہ سے لے کر تاریخ کا حصہ بنانے اور بننے کے معاملات ہوں تو ان سے پوچھا جائے خود تو کسی ایک ادارے کے بھی وفادار نہیں جہاں چار پیسے اور بڑا عہدہ ملا ،اپنی ٹہنی چھوڑ کر وہاں جا پہنچتے ہیں اور حکومتی فیصلوں میں جبری شمولیت اور حکومتی اختیار اور شراکت اقتدار کے دعوے دار بن بیٹھے ہیں ، صرف اس لئے کہ ایک گھنٹہ مسلسل بول رہے ہوتے ہیں ،کسی نہ کسی کی بے عزتی کر رہے ہوتے ہیں ،کسی نہ کسی فیصلے پر سوال اٹھا رہے ہوتے ہیں۔

ان بے وقعت سوالوں کے سوا آپ کے پاس ہے کیا کہ چوتھا ستون بننے کا یک اور سوال اپنے لئے بھی لے کر آگئے ہو۔حضور ایسے ملک کیا گھر بھی نہیں چلتے ۔

مزید :

کالم -