پاکستانی سیاست سے میرے عشق کی وجہ

پاکستانی سیاست سے میرے عشق کی وجہ
پاکستانی سیاست سے میرے عشق کی وجہ

  

میرا تعلق نہ تو سیاسی خاندان سے ہے اور نہ ہی مجھے سیاست کا کچھ علم ہے یعنی ایک عام شہری سے زیادہ مجھے سیاست کی اے بی سی بھی نہیں آتی مگر اچانک مجھے ملکی سیاست سے عشق ہو گیا ہے کیونکہ پاکستانی سیاست ہے ہی بہت عظیم، بلکہ ہر لحاظ سے عظیم ہے اور جو اس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتا ہے وہ بھی عظیم سے عظیم تر ہو جاتا ہے۔ آپ پوچھیں گے کہ میرا کوئی سیاسی بیک گراؤنڈ نہیں پھر اچانک یہ عشق کیسے ہو گیا؟ مجھے تو دلی افسوس ہے کہ عشق کا یہ دورہ مجھے پہلے کیوں نہیں پڑا اور میرا خاندان اس عظیم سعادت سے محروم کیوں رہا۔ اچانک اس تبدیلی کی وجہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی حالیہ سیاست کا رخ ہے جو انہوں نے نااہل ہونے کے بعد اختیار کیا ہے۔

میں اس پر بحث نہیں کرنا چاہتا کہ ریلی غلط تھی یا صحیح، ریلی کے مقاصد حاصل ہوئے یا نہیں۔ گورنمنٹ کی سیاست ٹھیک ہے یا اپوزیشن کی مگر میں یہ جانتا ہوں کہ سیاست، سیاست ہی ہوتی ہے، چاہے گورنمنٹ کی ہو یا اپوزیشن کی۔ جب آدمی پاکستانی سیاست میں گھس جاتا ہے تو یوں سمجھ لیجئے کہ وہ کسی اور سیارے کی مخلوق بن جاتا ہے۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اتنا پروٹوکول کسی بھی ملک کی رائل فیملی بھی انجوائے نہیں کرتی جتنا پاکستانی سیاستدان انجوائے کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں سیاستدان وہ ہوتا ہے جسے ہر قسم کا پروٹوکول وراثت میں ملتا ہے ناصرف وہ بلکہ اس کی پوری فیملی اسی پروٹوکول کی پیدائشی حقدار ہوتی ہے گویا اسے دیگر بھی بہت سی چیزوں کا لائسنس مل جاتا ہے اور عوام اس کے لئے وہ ’مخلوق‘ بن جاتی ہے جو ووٹ دینے کیلئے سیاستدانوں کے آگے پیچھے بھاگنے کیلئے ان پر اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہو۔

ریلی چاہے بلاول کی ہو یا طاہر القادری کی، عمران خان کی ہو یا نواز شریف کی، ریلی ریلی ہوتی ہے۔ جیسے کسی نے کہا تھا کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے، اصلی ہو یا نقلی۔اسی طرح سیاستدان چاہے اہل ہو یا نااہل سیاستدان، سیاستدان ہی ہوتا ہے۔ اس کے لئے راتوں رات قوانین بھی بن جاتے ہیں، آئین میں بھی تبدیلی ہو جاتی ہے مگر عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔

باقی دنیا کی تو خیر بات ہی کیا تیسری دنیا کے ممالک بھی کسی ایسی شخصیت کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہوں گے کہ کسی ایک شخص کے لئے آئین و قانون میں تبدیلی کی گئی ہو۔ وہ بات چاہے تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی کی شرط کی ہو یا عدالت سے نااہل شخص کے سیاسی جماعت کا عہدہ سنبھالنے کی۔ جو شخص بھی پاکستانی سیاست میں پورا پورا داخل ہو جاتا ہے اس کے لئے ہر کام جائز ہوتا ہے وہ مطلق العنان کی طرح لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کر فیصلہ کر سکتا ہے، ہر قسم کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹنے کا اسے سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے۔ ملک کے آئین اور قانون کی اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہوتی کیونکہ اسے استشنا حاصل ہوتا ہے۔ وہ جنگل کے بادشاہ کی مانند ہوتا ہے، چاہے انڈے دے یا بچے۔

ہماری اسی سیاست کا ایک حسن ہمارے سیاستدان ہیں جو ایک دوسرے کی کرپشن کو بچانے کے لئے ایک تو فوراً سے پیشتر ایک ہو جاتے ہیں مگر عوامی مفاد میں بلائے گئے اجلاسوں میں کورم ہی پورا نہیں ہو پاتا۔

ہر سیاستدان جمہوریت کا راگ الاپتے ہوئے یہی باور کرواتا ہے کہ اگر وہ ہے تو جمہوریت ہے، ملک و قوم سلامت ہے، معیشت میں تیزی ہے، امن و سکون ہے، اگر وہ نہیں رہتا تو خاک بدہن مشرقی پاکستان جیسا سانحہ دوبارہ رونما ہو سکتا ہے۔

ذرا پیچھے جائیں تو سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور ریلی ہی میرا وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا کہ جس نے میری زندگی کی کایا پلٹ دی اور میں پاکستانی سیاست کا دیوانہ ہو گیا۔ میں کچھ تذکرہ اس ریلی کا بھی کرنا چاہوں گا تاکہ آپ میری دیوانگی کا سبب سمجھ سکیں۔

نواز شریف صاحب کیلئے بلٹ پروف ائر کنڈیشنڈ کنٹینر تیار کئے گئے جس کے اندر ہر قسم کی سہولیات میسر تھیں، سفر کے لئے بلٹ پروف گاڑیاں مہیا کی گئیں، گاڑی سے کنٹینر اور کنٹینر سے گاڑی میں جانے کیلئے بلٹ پروف شیلڈ کا سایہ کیا گیا، طاقتور ترین جیمرز کا استعمال ہوا، ہزاروں سیکورٹی اہلکار حفاظت پر معمور رہے، گاڑی کے اردگرد کئی سیکورٹی حصار قائم کئے گئے، تقریر کرنے کیلئے بلٹ پروف روسٹر کی سہولت میسر تھی، بلٹ پروف گاڑی کے اندر سے تقریر کرنے کا انتظام موجود تھا، تھوک کے حساب سے کمانڈوز آگے پیچھے تھے، پروٹوکول کی بے شمار گاڑیاں تھیں، ریلی کے ساتھ، ریلی کے راستے میں آنے والے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ تھی، بھرپور میڈیا کوریج تھی اور اس کے علاوہ اور وہ سب کچھ جو آپ سوچ سکتے ہیں۔ پھر اس کے بعد نعرہ کہ میں نظام بدلنے نکلا ہوں، انقلاب لانا چاہتا ہوں، اگر مجھ جیسے ایسے شہنشاہیت کے انقلاب پر فدا نہ ہوں تو کیا کریں۔ اتنا پروٹوکول تو دنیا کے کسی سیاستدان یاحکمران کیلئے محض خواب ہی ہو سکتا ہے، مجھے ایک دفعہ کسی باہر کے ملک میں دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ کے صدر اور یو این سیکرٹری جنرل کی سیکورٹی/پروٹوکول ٹیم کا حصہ ہونے کا موقع ملا، میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ملک جیسے پروٹوکول کا وہ لوگ بھی صرف سوچ ہی سکتے ہیں۔ اتنی سیکورٹی اور پروٹوکول میں تو شاید موت کے فرشتے کو بھی اپنے فرض کی ادائیگی میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔

جہاں تک ہمارے عوام کا تعلق ہے وہ وہ اس حقیقت سے قطعی انکار نہیں کر سکتے کہ وہ سیاستدانوں کی خدمت کیلئے پیدا ہوئے ہیں چاہے کوئی بھی سیاستدان ہو، عوام نے تو ان کے آگے پیچھے ہٹو، بچو کی آوازیں ہی لگانی ہیں۔ ان کے نام کے نعرے لگانے ہیں، اپنے گلے پھاڑنے ہیں، سیاستدانوں کو دیکھنے کی خاطر دھکے کھانے ہیں، سڑکوں پر ذلیل و خوار ہونا ہے، ان کی گاڑیوں کے نیچے آکر جمہوریت کے شہیدکا اعزاز حاصل کرنا ہے، بارش اور دھوپ برداشت کرنی ہے۔

کسی لیڈر نے عوام میں جانے کا فیصلہ کرنا ہو تو عوام کے آنے جانے کے راستے بند، پل بند، میٹرو بند، پبلک ٹرانسپورٹ بند، سڑکیں بند یہاں تک کہ اپنے پیاروں کو ایمرجنسی میں ہسپتال بھی نہیں لیکر جا سکتے، کھانے کو کچھ نہیں، پینے کو کچھ نہیں، ہر قسم کا کاروبار بند، مگر سٹائل ہے کہ نااہل نواز شریف ہوئے، سزا عوام کو۔ درحقیقت سیاستدان اور عوام کا تعلق بالکل ویسا ہی ہے جیسے بھارت میں اونچی ذات کے براہمن کا نچلی ذات کے اچھوتوں سے ہے۔ عوام اپنے محبوب سیاستدان کو محض بلٹ پروف شیشے کے پیچھے سے دیکھ سکتے ہیں اور وہ بھی ایک خاص فاصلے پر رہتے ہوئے، نہ آپ ہاتھ ملا سکتے ہیں، نہ آپ ان کے قریب جاسکتے ہیں، بلکہ ان کی گاڑی کے پاس بھی نہیں جاسکتے۔ اگر کبھی آپ نے قریب جانے کی غلطی کی تو سیکورٹی والے اٹھا کر آپ کو ایسے پھینکیں گے جیسے کسی شودر کو پھینکا جاتا ہے۔

کہنے کونوازشریف صاحب عوام کے پاس گئے ہیں مگر عوام ان کے پاس بھی نہیں پھٹک سکتے۔ پھر بھی عوام اپنے محبوب سیاستدان کیلئے جان قربان کرنے کو ہر دم تیار۔ یہ سب کچھ دیکھ کر کون بیوقوف ہو گا جس کا دل سیاست میں آنے کو نہیں کرے گا۔ میں تو سوچتا ہوں کہ میں نے ابھی تک کی زندگی بغیر سیاست کے ضائع کر دی اور آئندہ والی ضائع کرنے کا کوئی پروگرام نہیں۔ اس لئے تو مجھے پاکستانی سیاست سے عشق ہو گیا ہے۔ کیونکہ اس کا نشہ ہی کچھ ایسا ہے کہ آخر دم تک اترنے کا نام ہی نہیں لیتا اگر یقین نہیں تو سیاسی منڈیر پر منڈلاتی گدھوں کو دیکھ لیں جو آج بھی ریٹائر ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔

برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ جیسے مغربی ملکوں میں جب کوئی وزیراعظم یا صدر اپنا عرصہ کامیابی کے ساتھ پورا کر کے فارغ ہوتا ہے (نااہل نہیں ہوتا) تو فیملی کے ساتھ اپنا سامان اٹھاتا ہے اور اپنے ذاتی گھر میں شفٹ ہو جاتا ہے مگر ہمارے نااہل وزیراعظم جس شاہانہ اور شہنشاہانہ انداز میں آئین و قانون میں تبدیلیاں کر رہے ہیں، اداروں کو للکار رہے ہیں، کیا انہیں یہ زیب دیتا ہے اور کیا ایک غریب ملک کا سیاستدان یہ سب افورڈکر سکتا ہے؟

ہمارے ملک کے پہلے وزیراعظم نواب لیاقت علی خان شہید بہت بڑے نواب تھے وہ کہتے ہیں کہ ’’جب میں وزیراعظم کے عہدے کیلئے منتخب ہوا تو میں نے اپنے آپ سے کہا کہ اب یا تو نوابی ہو سکتی ہے یا پھر وزارت عظمیٰ، تو میں نے پھر نوابی چھوڑ دی۔ وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری سنبھال لی‘‘۔ دنیا گواہ ہے کہ جب وہ شہید ہوئے تو قوم نے دیکھا کہ وزیراعظم نے جو لباس پہنا ہوا تھا اس پر پیوند لگے ہوئے تھے۔ مگر آج کل تو سیاست نوابی ہی کا نام ہے۔ یہی تو وجہ ہے کہ مجھے سیاست سے عشق ہو گیا ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -