اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 53

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 53

  



میری دوست قنطور کے الفاظ کے مطابق میرے جانے کے بعد وہ محل سے نکل کر سیدھا شاہی مندر کی طرف روانہ ہوگیا۔ یہ مندر محل سے تھوڑے فاصلے پر تالاب کے کنارے ایک بہت بڑی سرخ چٹان کے چبوترے پر بنا ہوا تھا۔ اس مندر میں وہاں کے ہندوؤں کے سب سے بڑے دیوتا لکھ راج کا بت تھا جس کے چار بازو تھے اور گردن میں کالا ناگ لٹک رہا تھا۔ قنطور کے پاس جو ایک گھوڑا تھا اس نے اس پر چاندی کے تاروں والی چادر ڈال دی تھی اور اسے مندر کے پچھو اڑے ایک عمودی چٹان کے پہلو میں چھپا دیا تھا۔

مندر میں شاہی خاندان کی عورتیں اورمرد پوجا پاٹ کر رہے تھے۔ ناگ قنطور یہاں صرف دیوتا لکھ راج کی شکل دیکھنے آیا تھا۔ ایک جگہ ستون کے نیچے کھڑے ہو کر اس نے شعلوں کی روشنی میں دیوتا لکھ راج کی شکل کو غور سے دیکھا اور اس کے خدوخال اپنے ذہن میں بٹھا لئے۔ پھر وہ مندر کے پچھواڑے عمودی چٹان کی اوٹ میں آگیا جہاں اس کا گھوڑا کھڑا تھا۔ سامنے وہ ندی تھی جس کے کنارے چتا تیار کی جا چکی تھی اور پجاری پروہت اس پر صندل لوبان اور کیسر چھڑک رہا تھے اور گھی کے مٹکے انڈیل رہے تھے۔ چاروں طرف پتھر کے کھمبوں کے ساتھ مشعلیں جا رہی تھیں جس کی روشنی میں وہاں کی ایک ایک چیز صاف دکھائی دے رہی تھی۔

رات آدھی گزر چکی تھی۔ جوں جوں رات کا پچھلا پہر قریب آ رہا تھا پجاریوں کے بھجن کیرتن کرنے کی صدائیں بلند ہوتی جا رہی تھیں۔ پھر شاہی سواری آگئی۔ راجہ پورس اپنے بڑے بھائی کی لاش کا کریا کرم ہوتے اور اپنی بھابی کو ستی ہوتی دیکھنے کے لئے وہاں آن پہنچا تھا۔ اس کے ساتھ شاہی پروہت اور دوسرے درباری امراء بھی تھے۔ چتا سے کچھ فاصلے پر تخت اور کرسیاں بچھا دی گئیں اور شاہی افراد براجمان ہوگئے۔ روپا کے بڈھے خاوند کی ار تھی بھی آگئی اور اس کی لاش کو چتا پر لٹا دیا گیا۔ اس کے بعد روپا کی سواری آئی ۔ وہ دلھن بنی تخت رواں پر بیٹھی تھی جسے جنوبی ہند کے سیاہ فام در اوڑ غلاموں نے اٹھا رکھا تھا۔ روپا کی سہیلیاں بال کھولے ، سرجھاکئے ماتم کرتی ، تخت رواں کے ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 52پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

قنطور چٹان کی اوٹ سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ دوسری طرف ندی کے پار میں بھی دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اس درد انگیز بلکہ دہشت انگیز منظر کو تک رہاتھا۔ میں اس وہم میں غرق تھا کہ قنطور کی اسکیم کیا ہے؟ اور وہ اپنی سکیم پر کس وقت عمل کرے گا؟ شعلوں کی تیز روشنی میں مجھے روپا کا اداس چہرہ نظر آیا۔ چتا اور میرے درمیان صرف ندی حائل تھی جس کا پاٹ پچیس تیس قدم سے زیادہ نہیں تھا۔ روپا نے دلھنوں جیسا سنگار کر رکھا تھا اور وہ موت سے بیاہ رچانے کے لئے آتی تھی۔ میرا دل غم سے پاش پاش ہو رہا تھا۔ میں قنطور کی طرف سے کسی انقلابی اقدام کے انتظام میں تھا۔ یہ بڑی ہی نازک گھڑی تھی اور زبردست تجسّس کے لمحات تھے۔

میری آنکھوں کے سامنے روپا کو چتا پر بٹھا دیا گیا۔ اس نے کوئی اعتراض نہ کیا بلکہ وہ خوشی خوشی چتا پر چڑھ گئی اور اس نے اپنے مرے ہوئے خاوند کا سر اپنے زانو پر رکھ کر گردن جھکادی ۔ گویا یہ اشارہ تھا کہ چتا کو آگ لگا دی جائے۔ اچانک چتا کی ایک جانب سے ، جدھر عمودی چٹان تھی ، جسے کسی بہت بڑے اژدھا کی پھنکار کی آواز فضا میں دھماکے کی طرح گونج کر رہ گئی۔ سب کی نظریں چٹان کی طرف اٹھ گئیں۔ راجہ پورس اور اس کے امراء بھی حیرت سے ادھر تکنے لگے ۔میں بھی چٹان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شعلوں کی روشنی اس قدر تیز تھی کہ مجھے ندی پار سے ہر شے صاف نظر آرہی تھی۔

اچانک چٹان کی اوٹ سے ایک گھڑ سوار نمودار ہوا۔ اس کے گھوڑے کے جسم پر پڑا ہوا جھول تاروں کی طرح جگ مگ جگ مگ کر رہا تھا۔ جب وہ روشنی میں آیا تو راجہ اور امراء سمیت وہاں بیٹھے ہوئے سب لوگ ایک دم دہشت زدہ ہو کر اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ پروہت اور پجاری دم بہ خود پھٹی پھٹی آنکھوں سے گھوڑ سوا کو تک رہے تھے۔ کیونکہ ان کے سامنے ان کا سب سے بڑا دیوتا لکھ راج جھلمل کرتے گھوڑے پر سوار چلا آ رہا تھا ۔ وہی بڑی بڑی گول سرخ آنکھوں والا چہرہ اور چار بازو اور ہر بازو کے ہاتھ میں ایک ایک تلوار تھی جو آہستہ آہستہ گردش کر رہی تھی۔ میں سمجھ گیا کیہ یہ اصلی لکھ راج دیوتا نہیں ہے بلکہ میرا سانپ دوست قنطور ہے جس نے اپنی ایک خفیہ طاقت سے کام لیتے ہوئے لکھ راج دیوتا کا روپ دھار لیا ہے اور اس کی ہو بہو شکل بنا کر وہاں پہنچ گیا ہے۔ میں بہت خوش ہوا۔ قنطور نے بڑی زبردست چال چلی تھی۔ اس طریقے سے نہ صرف یہ کہ وہ روپا کو موت کے منہ سے نکال سکتا تھا بلکہ اس کے ذہن کو بھی میری مرضی کے مطابق ڈھال سکتا تھا۔ کسی دیوتا یا اوتار کا انسانی شکل میں سامنے آجانا کوئی معمولی بات نہیں تھی ، راجہ پورس، پروہتوں اور پجاریوں سمیت ہر کوئی سجدے میں گر پڑا۔ لکھ راج دیوتا کے چاروں ہاتھوں میں پکڑی ہوئی تلواریں آہستہ آہستہ گردش کر رہی تھیں ۔ اس کے گلے میں لٹکا ہوا کالا ناگ اپنا پھن اٹھائے پنکاریں مار رہا تھا اور اپنی دوشاخہ سرخ زبان بار بار باہر نکال رہا تھا۔

روپا ستی ہونے کے لئے چتا پر تیار بیٹھی تھی ۔ اس کے خاوند کی لاش کا سر اس کے زانو پر تھا اور وہ بھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیوتا لکھ راج کو انسانی روپ میں گھوڑے پر سوار اپنے بالمقابل دیکھ رہی تھی۔ شعلوں کی تیز روشنی میں دیوتا کی سرخ آنکھوں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔ اچانک دیوتا کی آواز بلند ہوئی۔

’’ میں دیوتا لکھ راج ہوں۔ جس نے اس نازک اندام کنیا روپا کی قربانی قبول کر لی ہے۔ آکاش کی اسپرائیں اس ستی ساوتری کے بلیدان سے بہت خوش ہے۔ اگنی دیوی کی اجازت سے میں اس ساوتری روپا کو خود لینے آیا ہوں۔ آؤ روپا دیوی ! میرے ساتھ چلو۔ آکاش کی اسپرائیں تمہارے دوسرے جنم میں تمہاری راہ دیکھ رہی ہیں۔ ‘‘

سب نے اپنے چہرے اوپر اٹھا کر دیوتا کی عقیدت میں نعرے لگائے۔ راجہ پورس نے ہاتھ باندھ کر اور سرجھکا کر کہا۔

’’ عظیم دیوتا ! یہ ہماری خوشی قسمتی ہے کہ آپ نے ہماری ایک کنیا کی قربانی قبول فرمائی اور اسے یہ عزت بخشی کہ اسے لینے کے لئے آکاش سے خود کر یہاں تشریف لائے۔ ہمیں آشیر باد دیجئے مہاراجوں کے مہاراج !‘‘

لکھ راجھ دیوتا نے کہا۔ ’’ تمہاری بھومی پرہن برسے گا راجہ۔ اب ہم اپنی امانت کو لے کر واپس جا رہے ہیں۔ ‘‘

ایک دم سے سب لوگ پرے پرے ہٹ گئے۔ پجاری دھیمے سروں میں کپکپاتے ہونٹوں سے بھجن گانے لگے ، لکھ راج دیوتا گھوڑے کو آگے پڑھا کر پاس آگیا۔ روپا کا چہرہ اپنے عظیم دیوتا کو اتنا قریب دیکھ کر خوشی سے چمک رہا تھا۔ وہ بہت خوش تھی کہ پر لوگ میں دیوتاؤں اور اپسراؤں نے اس کی قربانی قبول کرلی ہے اور اب وہ اپنے نئے جنم میں ایک الپسراکی حیثیت سے زندگی بسر کرے گی۔ دیوتا کو چتا کے قریب آتا دیکھ کر اس نے اپنے خاوند کا سر نیچے چتا کی لکڑیوں پر رکھ دیا اور خود اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ لکھ راج دیوتا نے اپنا ایک بازو آگے بڑھایا۔ اس کے ہاتھ کی تلوار چتا پر گر پڑی۔ روپا اسے اٹھانے لگی تو لکھ راج دیوتا نے بلند آواز میں کہا۔

’’ اس تلوار کو اپنے خاوند کی لاش کے ساتھ ہی جل کر فنا ہوجانے دو۔‘‘

اس نے روپا کو گھوڑے پر اپنے آگے بٹھا لیا۔ چتا کا ایک چکر کاٹا ۔ پروہت اور پجاری اب زور زور سے بھجن کیرتن کرنے لگے تھے اور خوشی سے لہک لہک کر جھوم رہے تھے۔ اُن کے لئے یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا کہ ان کا دیوتا خودستی ہونے والی عورت کو لینے ان کے درمیان موجود ہے۔ میں یہ سارا منظر ندی کے دوسرے کنارے سے دیکھ رہا تھا۔ لکھ راج دیوتا نے چتا کے سات چکر پورے کئے اور پھر گھوڑے کو ندی میں ڈال دیا۔ میں جلدی سے گھوڑوں کے پاس درختوں کے پیچھے چلا گیا۔ جس وقت روپا گھوڑے پر آگے ہو کر بیٹھی تو لکھ راج دیوتا کے روپ میں قنطور نے اپنے لگے میں لٹکے ہوئے سانپ کو اس کی زبان میں حکم دیا کہ وہ روپا کو ڈس لے اور اس کے جسم میں صرف اتنا ہی زہر داخل کرے کہ جس سے وہ کچھ مدت کے لئے بے ہوش ہوجائے۔ قنطور اب ناگ دیوتا تھا۔ کوئی معمولی سانپ نہیں تھا۔ دنیا کے سارے سانپ اس کا حکم مانتے تھے اور اس کے آگے سرجھکاتے تھے۔ سانپ نے ایسا ہی کیا۔ جونہی روپا گھوڑے پر بیٹھی اور قنطور نے گھوڑا ندی میں ڈالا سانپ نے اس کی گردن پر پیار سے اپنا منہ رکھ کر اسے نامعلوم انداز میں ڈس لیا اور صرف اتنا زہر اس کے جسم میں داخل کیا کہ وہ فوراً بے ہوش ہوگئی۔

قنطور لکھ راج دیوتا کی شکل میں بے ہوش روپاکو گھوڑے پر ڈالے ندی پار کر کے ان درختوں کی طرف بڑھا جہاں میں اس کا انتظار کر رہا تھا۔ دوسری جانب چتا کے پاس شعلوں کی روشنی میں پروہت اور پجاری ابھی تک اونچی آوازوں میں بھجن گا رہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔ انہوں نے چتا کو آگ لگا دی تھی اور اس میں شعلے بلند ہو رہے تھے۔

قنطور نے میرے قریب آکر کہا۔ ’’ عاطون ! اب اسے گھوڑے سے ڈالو اور یہاں سے نکل چلو۔ ‘‘ میں نے اس کے چار بازوؤں کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ ’’ خدا کے لئے ان کا تو کوئی انتظار کرو۔ ‘‘ قنطور نے کہا۔

’’ ابھی نہیں ۔ ابھی اس شکل کی ضرورت ہے۔‘‘

میں نے روپا کو بازوؤں میں اٹھا کر دوسرے گھوڑے پر ڈالا اور ہم رات کے اندھیرے میں وہاں سے نکل گئے جس وقت پوپھٹی اور آسمان پر صبح کاذب کی نیلی جھلکیاں نمودار ہونے لگیں تو ہم دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ ایک پہاڑی علاقے سے گزر رہے تھے۔ قنطور کے گلے میں جو کالا پھن دار سانپ لٹکا ہوا تھا اس نے روپا کے جسم میں جتنی مقدار میں زہر ڈالا تھا وہ اسے ایک ہی دن تک بے ہوش کرنے کے لئے کافی تھا۔ قنطور یہی چاہتا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ روپا ایک کٹر قسم کی ہندومت پر اعتقاد رکھنے والی عورت ہے اور واقعات اور حالات کو اس کے مطابق ڈھالنا بہت ضروری ہے۔ روپا کو قنطور نے لکھ راج دیوتا کی شکل میں ظاہر ہو کر یہ یقین دلایا تھا کہ اس کی قربانی ستی ہونے سے پہلے قبول کرلی گئی ہے اور وہ آکاش میں سورگ یعنی جنت میں جا رہی ہے اور جہاں الپسراؤں کے ساتھ ہمیشہ کی زندگی بسر کرے گی۔ چنانچہ قنطور دیوتا ہی کے روپ میں اسے کسی ایسی وادی میں لے جا کر ہوش میں لانا چاہتا تھا۔ جو جنت نظیر ہو۔ یہ ساری بات مجھے بھی بتا دی گئی تھی۔ اب ہمیں کسی ایسی وادی کی تلاش تھی جو سر سبز و شاداب ہو اور جس کے نظارے جنت کی یاد تازہ کرتے ہوں۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 54 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار