حاملہ خواتین کو کبھی بھی پلاسٹک کی بوتل سے پانی نہیں پینا چاہیے کیونکہ اس میں۔۔۔ تازہ تحقیق میں سائنسدانوں نے انتہائی خطرناک انکشاف کردیا

حاملہ خواتین کو کبھی بھی پلاسٹک کی بوتل سے پانی نہیں پینا چاہیے کیونکہ اس ...
حاملہ خواتین کو کبھی بھی پلاسٹک کی بوتل سے پانی نہیں پینا چاہیے کیونکہ اس میں۔۔۔ تازہ تحقیق میں سائنسدانوں نے انتہائی خطرناک انکشاف کردیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)سائنسدان پانی کی پلاسٹک کی بوتلوں کے کئی نقصانات سے آگاہ کر چکے ہیں لیکن اب نئی تحقیق میں ان کا حاملہ خواتین کے لیے ایسا خوفناک نقصان سامنے آ گیا ہے کہ آئندہ کوئی عورت انہیں ہاتھ بھی نہ لگائے گی۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ پلاسٹک کی بوتلوں میں پایا جانے والا بائی سفینل اے (Bisphenol A)نامی کیمیکل ہر مردوعورت کے لیے نقصان دہ ہے لیکن حاملہ خواتین کی صحت پر یہ کئی گنا زیادہ منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ جو خواتین دوران حمل پلاسٹک کی بوتلوں سے پانی پیتی ہیں ان کے ہاں بچے کی قبل از وقت پیدائش کا خطرہ 6گنا بڑھ جاتا ہے۔

بوسٹن کے ہارورڈ ٹی ایچ چن سکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں 364خواتین پر تجربات کیے جن میں سے 32قبل از وقت بچے کو پیدا کر چکی تھیں۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ جینیفر لینڈ کا کہنا تھا کہ ”ان میں سے اکثر خواتین کے ہاں قبل از وقت پیدائش کا ذمہ دار یہی کیمیکل تھا جو پلاسٹک کی بوتلوں اور جارز وغیرہ سے ان کے جسم میں داخل ہوا۔ اگر خواتین کے جسم میں یہ کیمیکل ان کے حاملہ ہونے سے پہلے بھی موجود ہو تو یہ ان کے حمل کے لیے اتنا ہی نقصان دہ ہوتا ہے، جتنا کہ حمل کے دوران جسم کے میں آنے کے بعد۔ ایک اور کیمیکل فتھالیٹس (Phthalates) بھی اس کا ذمہ دار تھا اور یہ کیمیکل بھی پلاسٹک کی مصنوعات سے ہی انسانوں کے جسم میں داخل ہوتا ہے، جن میں لوگ کھانا پیک کرواتے یا کھاتے ہیں۔“

مزید : تعلیم و صحت