کبھی بھی ٹوسٹ کو اس طرح زیادہ سیک کرنہ کھائیں کیونکہ اس میں ۔۔۔ سائنسدانوں نے سخت وارننگ دے دی

کبھی بھی ٹوسٹ کو اس طرح زیادہ سیک کرنہ کھائیں کیونکہ اس میں ۔۔۔ سائنسدانوں ...
کبھی بھی ٹوسٹ کو اس طرح زیادہ سیک کرنہ کھائیں کیونکہ اس میں ۔۔۔ سائنسدانوں نے سخت وارننگ دے دی

  

برمنگھم(نیوز ڈیسک)روٹی ہو یا بریڈ، اکثر لوگ پسند کرتے ہیں کہ یہ زیادہ سے زیادہ کرسپی ہو، اور بعض اوقات اس شوق کی تکمیل کے لئے روٹی یا بریڈ کو اتنا پکایا جاتا ہے کہ یہ کرسپی ہونے کی بجائے جل جاتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ پکی ہوئی روٹی ہو یا کرسپی ٹوسٹ، یہ ذائقے کی تسکین تو کر سکتا ہے مگر صحت کے لئے اچھا نہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ روٹی یا بریڈ کو بہت زیادہ پکانا، یہاں تک کہ اس کے کچھ حصے جل جائیں، آپ کی صحت کیلئے سخت مضر ہے۔ جلی ہوئی بریڈ یا روٹی کو کھانا بہت سی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ اس میں کارسینو جینک کیمیکل پیدا ہو جاتے ہیں، یعنی وہ اجزاءجو کینسر جیسے خطرناک مرض کا سبب بنتے ہیں۔

یہ تشویشناک انکشاف ویب سائٹ Mirror.co.uk کی ایک رپورٹ میں ماہرین صحت کے حالیہ تحقیقات کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ کئی اور ایسی روز مرہ غلطیوں کی نشاندہی بھی کرتی ہے جنہیں ہم معمولی جانتے ہیں مگر ہماری صحت پر ان کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پرکولوراڈو سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ جو لوگ گھر پر دفتری کام کرتے ہیں اور خصوصاً دفتری ای میلز کو چیک کرتے ہیں انہیں بہت زیادہ ذہنی دباﺅ اور پریشانی کا سامنا رہتا ہے۔ اسی لئے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ دفتر کے کاموں کو وہیں نمٹائیں، گھر تک مت لائیں۔

اسی طرح سلاد کے پتوں کا استعمال بغیر دھوئے کرنا بھی لوگوں کے لئے کئی طرح کے مسائل کا سبب بن رہا ہے۔ ان افراد کو ای کولی اور سالمونیلا بیکٹیریا کا خطرہ لاحق ہوتا ہے جس کے باعث پیٹ کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔

آلتی پالتی مار کر بیٹھنا آرام دہ محسو س ہوسکتا ہے لیکن جب آپ کی ٹانگیں گھٹنوں کے مقام پر مسلسل مڑی رہتی ہیں تو آپ کے جسم کا بلڈ پریشر تقریباً 10 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح بیٹھنے سے آپ کے کولہوں اور کمر کے نچلے حصے کے جوڑوں پر بھی دباﺅ پڑتا ہے جس سے کمر درد اور جوڑوں کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

جلد پر نکلنے والے دانوں کو پھوڑنا بھی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ انفیکشن خون میں پھیل جاتا ہے اور سنگین قسم کے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

تیز دھوپ میں لوگ اپنی جلد کی حفاظت کے لئے سن بلاک کریمیں وغیرہ لگاتے ہیں لیکن اگر آپ ہر روز ایسا کرتے ہیں تو اپنی جلد کو سورج کی روشنی سے محروم کررہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ کے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہوجائے گی۔ وٹامن ڈی کی کمی ہونے سے کیلشیم بھی آپ کے جسم میں جذب نہیں ہوسکے گا جس کے نتیجے میں ہڈیاں کمزور ہوجائیں گی۔

چائے اور کافی ضرور پئیں لیکن بہت گرم چائے یا کافی پینا خوراک کی نالی کے لئے بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ بعض صورتوں میں تو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ گرم چائے یا کافی کی وجہ سے خوراک کی نالی میں پید اہونے والے زخم بعدازاں بگڑ کر جان لیوا شکل اختیار کرگئے۔

پبلک ٹوائلٹ میں لگے ہینڈ ڈرائیر کا استعمال نہ ہی کریں تو اچھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آس پاس کی ہوا کھینچتا ہے تو ساتھ طرح طرح کے جراثیم بھی اس کے اندر چلے جاتے ہیں جو گرم ہوا کے ساتھ دوبارہ آپ کے ہاتھوں پر منتقل ہوجاتے ہیں۔

دن میں دو بار دانتوں کی صفائی کرنا بہت مفید ہے لیکن دانتوں پر ضرورت سے زیادہ دباﺅ کے ساتھ برش کرنا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ زیادہ دباﺅ ڈالنے سے دانتوں کے اوپر کی حفاظتی تہہ یعنی انیمل خراب ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ٹھنڈا گرم لگنے کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کا نتیجہ آپ کے مسوڑھوں کو پہنچنے والے نقصان کی صورت میں بھی سامنے آسکتا ہے، جس سے دانتوں کی جڑیں کمزو رہوجاتی ہیں اور مسوڑھوں کی بیماریاں بھی پید اہوتیں ہیں۔

مزید : تعلیم و صحت