وہ انگریز رائٹر جس نے لندن کی اومنی بسوں میں بیٹھ کر دنیا کی سب سے مشہور داستان الف لیلہ کا ترجمہ کیا تھا،وہ ایسا کیوں کرتا تھا ،آپ بھی جانئے 

وہ انگریز رائٹر جس نے لندن کی اومنی بسوں میں بیٹھ کر دنیا کی سب سے مشہور ...
وہ انگریز رائٹر جس نے لندن کی اومنی بسوں میں بیٹھ کر دنیا کی سب سے مشہور داستان الف لیلہ کا ترجمہ کیا تھا،وہ ایسا کیوں کرتا تھا ،آپ بھی جانئے 

  

لاہور(ایس چودھری) دنیا کی سب سے قدیم ترین داستان الف لیلہ کا نام تو آپ نے سن رکھا ہوگا ۔یہ آٹھویں صدی کے عرب معاشرے میں تخلیق کی گئی وہ کہانی ہے جسے ایک وزیر زادی نے اپنی جان بچانے کے لئے اپنے بادشاہ کوایک ہزار ایک راتوں تک سناکر الجھائے رکھا ۔اس داستان کا ترجمہ کئی زبانوں میں ہوچکا ہے اور فلمیں ڈرامے بچوں کی کتابیں بھی ہر زبان میں منطر عام پر آچکی ہیں۔ انگریزی میں اسکا سب سے پہلے جس محقق اور مترجم نے ترجمہ کیا تھا اسکا نام جان پین تھا ۔1882 میں جان پین کا یہ شہکار معرض وجود میں آیا تو انگریزی ادب میں تہلکہ مچ گیا لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ دنیا کی اس قدیم ترین اور دلچسپ داستان کا ترجمہ مسافر بس میں بیٹھ کر کرتا رہا اور اسکی نوجلدیں بناڈالیں ۔

جان پین کو فارسی زبان پر دسترس تھی ،اس نے دیوان حافظ کا بھی انگریزی میں ترجمہ کیا تھا ۔ جان پین نے کے بارے مشہور ہے کہ اس نے ’’ الف لیلہ ‘‘ کا اومنی بس میں بیٹھ کرترجمہ کیا تھا۔ اُس دورمیں لندن میں پیٹرول سے بسیں نہیں چلتی تھیں، بلکہ اُنہیں گھوڑے کھینچتے تھے۔ اومنی بس کی کھلی مگر سیٹوں والی چھت پر جان پین کتاب کھول کر بیٹھ جاتا اور لندن کے شورو شغب سے بے نیاز اور پاس بیٹھے ہوئے مسافروں کی موجودگی سے غافل اور بے پروا اپنے کام میں مصروف ہوجاتا تھا۔ 

ایک جانب وہ کھلے عام رواں سڑک پر ترجمہ کرنے کا عادی تھا تو دوسری جانب اسکی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ کسی کو اپنے لکھنے پڑھنے کے کمرے میں داخل نہیں ہوتے دیتا تھا۔ اُس کا قول تھا کہ مصنف کا دارالمطالعہ کسی خاتون کی خواب گاہ کی مانند ہے ، جہاں نامحرم کو قدم رکھنے کی اجازت نہیں ۔ جان پین مزید لکھتا ہے کہ مصنف کا دارالمطالعہ ایک مقدس جگہ ہے ۔ جہاں کسی نا اہل کو قدم رکھنے کی اجازت نہیں۔جان پین نے بعد ازاں الف لیلہ کی نو جلدیں خود شائع کی تھیں ۔اس کا کہنا تھا کہ پبلک سواری میں بیٹھ کر اسکا ترجمہ کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ اسکو عوامی سٹائل میں لکھنے میں قدرتی سہولت حاصل ہوئی اور لوگوں میں اسکا اشتیاق بھی پیدا ہوا جس کا فائدہ اس نے کتابیں شائع کرکے حاصل کیا تھا ۔ 

جان پین نے جب شوروغوغا میں یہ منفرد کام کیا تو اس حوالے سے رائٹرز کی اس عادت پر روشنی پڑی کہ لکھنے والے ہر شخص کا اپنا اپنا مزاج ہے۔ اکثر لوگ تنہائی اور خاموشی میں کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض ہنگامہ پسند طبیعتیں بھی رکھتے ہیں ، یہ لوگ چلتی پھرتی دنیا میں گھومتے رہتے ہیں اور سات ہی لکھنے پڑھنے کا کام بھی کرتے جاتے ہیں۔

مزید : ادب وثقافت